بنگلور: مسلمانوں کی ترقی کی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سِلیکون ویلی بنگلور کی آبادی کا تقریباً تیرہ فیصد حصہ مسلمانوں کا ہے اور ایک اندازے کے مطابق بنگلور شہر میں مسلمانوں کی تقریباً بیس فی صد آبادی بہتر حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ آبادی کے اس حصے کی زندگی کے ہر شعبہ میں نمائندگی ہے۔ خوا وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہو یا پھر طبی شعبہ یا پھر ریئل اسٹیٹ۔ پریسٹیج گروپ، فیروز گروپ، سفینہ گروپ اور وہاب گرپز ایسے ہی بعض نام ہیں جو شہر کی بیشتر عمارتوں پر لکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایم پی احمد حسن سات برس قبل جی آئی کمپنی میں ملازم تھے لیکن اب انہوں نے ایم پاور نامی ایک ایسی سافٹ ویئر کمپنی شروع کی ہے جس میں پیشےور افراد کو پہلے تربیت فراہم کی جاتی ہے اور پھر وہیں افراد کمپنی کے لیے نئے نئے سافٹ وئیر تیار کرتے ہیں۔ حسن بتاتے ہیں کہ جب تک ہمت نہیں کرتے تب تک کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ میں نے ایک مسجد کے تہہ خانے سے اپنی کمپنی کی شروعات کی تھی۔ دوستوں سے جو قرض لیا تھا وہ ایک برس میں میں نے پورا کر دیا ہے۔
ایم پاور نے حال ہی ایک ایسا سافٹ ورئر تیار کیا ہے جس کے لیے انہیں ہندوستان کی حکومت نے ایوارڈ سے بھی نوازہ ہے، اس سافٹ ویئر کے لیے ان کی یاہو اور ديگر بین الاقوامی کمپنیوں سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ حسن بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ہر برادری کے لوگ آتے ہیں لیکن بشتر مسلمان ہوتے ہیں جن کا جن کاتعلق غریب طبقے سے ہوتا ہے اور جو مہنگی فیس دیکر تربیت حاصل نہیں کر سکتے۔ حسن کا کہنا ہے ’ انڈیا ائی ٹی انڈسٹری میں ایک اہم نام ہے اور ہمارا مقصد ہے اسے مزید آگے بڑھایا جائے اور دوسرا قوم کو اس طرح مدد فراہم کی جائے۔‘ مسلم برادری نے مسلم انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن یعنی میٹا نامی ایک تنظیم بھی تشکیل دی ہے جن میں غریب بچوں کو آئی ٹی سے متعلق ہر قسم کی تربیت دی جاتی ہے۔ ایم پاور میں ملازم کاشف نے بنگلور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور شروعات سے ہی وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے لیے آئی ٹی انڈسٹری میں بے حساب پیسہ اس انڈسٹری میں آنے کی ایک وجہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اگر دیگر کمپنیاں میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ فراہم کر دی جائے تو قوم مزید ترقی کرے گی۔
اوایسزانٹرنیشنل سکول کی مینیجنگ ٹرسٹی عائشہ مسعود کا کہنا ہے کہ جب میں نے سکول کھولنے کے بارے میں سوچا تو اس وقت ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی کہ ہماری برادری تعلیم کے اعتبار سے بہت پیچھے ہے اور اگر تعلیم کے سبب ہی انہيں ایک نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔ اس لیے میں نے ایک پوری نسل کو بہتر تعلیم دیکر ایک نئی سوچ دینے کی کوشش کی ہے۔ فی الوقت ان کے اسکول میں آٹھ سو بچے ہيں اور وہ اعلی درجے کی تعلیم بہت کم فیس میں حاصل کر رہے ہيں۔’ ہم یہی کوشش کر رہے ہيں کہ اگلی نسل ملک کے لیے اور قوم کے لیے کچھ نفع دینے والا علم پائيں نہ کہ ایسا علم حاصل کریں جس سے صرف نقصان ہوتا ہے۔‘ طبی پیشے سے جڑے ہوئے ڈاکٹر متین کے مطابق بنگلور ہندوستان کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں مسلمانوں کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے لیکن جس طرح پورے ملک میں مسلمانوں کی حالت ہے وہیں حالت بنگلور کے مسلمانوں کی بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی طور پر بھی ان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔
ڈاکٹر متین نے بتایا کہ ان کے جیسے بعض مسلم سماجی تنظیمیں، شخصیات غریب بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے سکالر شپ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی طبی حالات بہتر بنانے اور اس کے علاوہ ان کے لیے مائیکرو کریڈٹ کے ذریے قرض دیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر متین بتاتے ہیں کہ حال ہی میں بنگلور کے مسلمانوں کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑنے کا زبردست اثر پڑا ہے۔ اور بعض میڈیکل کالجز کے ہوسٹل میں رہنے والے طلبہ آج قرآن رکھنے سے ڈر رہے ہيں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ایک لائبریری میں بہت پرانا قرآن رکھا ہواتھا لیکن اہلکار نے انہيں وہاں رکھنے سے انکار دیا ہے۔ وہ اہلکار مسلمان ہی تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں ڈر کس قدر تک بڑھتا جا رہا ہے‘۔ ڈاکٹر متین کے مطابق ملک کی میڈیا مسلمانوں سے متعلق خبر کو الگ طریقے سے شائع کرتی ہے اور مسلمانوں کے جو حالات ہیں اس کے میڈیا کافی حد تک ذمےدار ہے۔ بنگلور میں جو ایک بات نمایاں طور پر نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا خوش حال طبقہ تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں مسلمان اپنی شناخت چھپانے پر مجبور نہيں ہیں لیکن بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فسطائی طاقتیں یوں ہی اپنی جڑیں مضبوط کرتی رہیں تو مشکل وقت زیادہ دور نہيں۔ |
اسی بارے میں گمنام طالبعلم سے مبینہ دہشتگرد تک03 August, 2007 | آس پاس گلاسگوحملہ، زخمی حملہ آور ہلاک03 August, 2007 | آس پاس لندن کار بم: آسٹریلیا میں چھاپے06 July, 2007 | آس پاس آٹھواں شخص آسٹریلیا سے گرفتار02 July, 2007 | آس پاس پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر01 July, 2007 | آس پاس ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا: براؤن30 June, 2007 | آس پاس جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں30 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||