گلاسگوحملہ، زخمی حملہ آور ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلاسگو کے ہوائی اڈے میں ایک جلتی جیپ لے کر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے بھارتی باشندے کفیل احمد مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ تیس جون کو ہونے والے اس ناکام حملے کے دوران بنگلور سے تعلق رکھنے والے ستائیس سالہ کفیل احمد کا جسم نوے فیصد تک جل گیا تھا اور وہ پانچ ہفتے تک زیرِ علاج رہنے کے بعد چل بسے۔ سٹرت کلائڈ پولیس کی ترجمان کے مطابق اس واقعے میں بری طرح زخمی ہونے والا شخص گلاسگو رائل انفرمری میں جمعرات کی شام ہلاک ہو گیا۔ کفیل کو پیزلی کے رائل الیگزنڈرا ہسپتال سے گلاسگو انفرمری کے خصوصی برن یونٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ دورانِ علاج کفیل کو مسلسل نگرانی میں رکھا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے ابتداء میں ہی ان کی حالت کو نازک قرار دیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں کفیل احمد کو بھی ڈاکٹر کہا گیا تھا تاہم بعد ازاں وہ ایک انجینئر ثابت ہوئے تھے جنہوں نے ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی۔ گلاسگو حملے کے حوالے سے پولیس نے کفیل احمد کے بھائی سبیل احمد کو بھی لیور پول سےگرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف بھی دھماکوں کی سازش کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے جبکہ ان کے کزن ڈاکٹر حنیف کو آسٹریلیا میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعدازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں30 June, 2007 | آس پاس سبیل احمد پر الزامات عائد14 July, 2007 | انڈیا ڈاکٹر حنیف کی حراست پر تشویش17 July, 2007 | انڈیا ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا: براؤن30 June, 2007 | آس پاس آٹھواں شخص آسٹریلیا سے گرفتار02 July, 2007 | آس پاس پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر01 July, 2007 | آس پاس ’القاعدہ پہلے سے زیادہ مضبوط‘12 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||