BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گمنام طالبعلم سے مبینہ دہشتگرد تک

کفیل احمد
کفیل نے اپنی تعلیم آئرلینڈ اور کیمبرج سے حاصل کی
ستائیس سالہ کفیل احمد نے مغرب میں نئی زندگی کے آغاز کے لیے بھارت میں اپنا آبائی شہر بینگلور چھوڑا لیکن چند ہفتے قبل وہ ایک بے رحم مشتبہ دہشت گرد کے طور پر سامنے آئے جو سکاٹ لینڈ جیسے روایتی طور پر پُرسکون شہر میں مبینہ طور پر خوف و دہشت پھیلانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

30 جون کو سکاٹ لینڈ کے گلاسگو ایئر پورٹ پر پولیس نے کفیل احمد کو ان کے ساتھی کے ہمراہ اس وقت گرفتار کیا جب آگ میں جلتی ہوئی ایک جیپ ایئر پورٹ کے ٹرمینل سے آ ٹکرائی۔

جیپ میں موجود کفیل احمد بھی آگ میں لپٹے ہوئے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر پولیس کی انہیں جلتی ہوئی جیپ سے دور ہٹانے کی کوششوں کے سامنے بہت دیر تک مزاحمت کی۔

ایئر پورٹ کے اس واقعے کے بعد ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلا کہ کفیل احمد ایک انجینئر تھے اور انہوں نے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔

کفیل احمد نے 2001 میں شمالی آئرلینڈ میں بیلفاسٹ کی کوئنز یونیورسٹی میں ایک گمنام طالبعلم کی طرح مغرب میں اپنی زندگی کا آغاز کیا اور 2004 تک شمالی آئرلینڈ میں ہی رہے۔ اس کے بعد انہوں نے کیمبرج میں اینگلیا پولی ٹیکنِک یونیورسٹی (جو اب اینگلیا رسکِن یونیورسٹی کے نام سے جانی جاتی ہے) سے ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔

گلاسگو ائر پورٹ پر مبینہ حملے کے بعد کفیل کا نوّ فیصد جسم آگ میں جھلس گیا اور ان کے بچنے کا امکان بہت کم تھا۔

کفیل احمد نے گرفتاری کے وقت مبینہ طور پر زبردست مزاحمت کی

پولیس کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کفیل احمد ایک ایسے بین الاقوامی دہشت گرد گروہ کا حصہ تھے جس نے آسٹریلیا اور امریکہ پر بھی حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

کفیل اور ان کہ بھائی سبیل جو کہ اس وقت زیرِ حراست ہیں، دونوں نےماضی میں آسٹریلیا میں کام کرنے کے لیے ویزے کی درخواستیں بھی کی تھیں جو کہ مسترد کر دی گئیں۔

چند خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ائر پورٹ پر مبینہ حملے سے پہلے کفیل نے بینگلور میں موجود اپنی والدہ اور بہن سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گلاسگو میں ’کوئی‘ کام پورا کرنے کے بعد لندن میں چند دن قیام کریں گے اور ایک ماہ تک واپس بینگلور پہنچ جائیں گے۔

کفیل احمد کی ذاتی زندگی کے بارے میں غیر واضح قسم کی تفصیلات سامنے آنے کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کئی ہفتوں تک انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد ان کی موت کے ساتھ ہی کسی ممکنہ بین الاقوامی دہشت گرد گروہ کا سراغ لگنے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد