گمنام طالبعلم سے مبینہ دہشتگرد تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس سالہ کفیل احمد نے مغرب میں نئی زندگی کے آغاز کے لیے بھارت میں اپنا آبائی شہر بینگلور چھوڑا لیکن چند ہفتے قبل وہ ایک بے رحم مشتبہ دہشت گرد کے طور پر سامنے آئے جو سکاٹ لینڈ جیسے روایتی طور پر پُرسکون شہر میں مبینہ طور پر خوف و دہشت پھیلانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ 30 جون کو سکاٹ لینڈ کے گلاسگو ایئر پورٹ پر پولیس نے کفیل احمد کو ان کے ساتھی کے ہمراہ اس وقت گرفتار کیا جب آگ میں جلتی ہوئی ایک جیپ ایئر پورٹ کے ٹرمینل سے آ ٹکرائی۔ جیپ میں موجود کفیل احمد بھی آگ میں لپٹے ہوئے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر پولیس کی انہیں جلتی ہوئی جیپ سے دور ہٹانے کی کوششوں کے سامنے بہت دیر تک مزاحمت کی۔ ایئر پورٹ کے اس واقعے کے بعد ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلا کہ کفیل احمد ایک انجینئر تھے اور انہوں نے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ کفیل احمد نے 2001 میں شمالی آئرلینڈ میں بیلفاسٹ کی کوئنز یونیورسٹی میں ایک گمنام طالبعلم کی طرح مغرب میں اپنی زندگی کا آغاز کیا اور 2004 تک شمالی آئرلینڈ میں ہی رہے۔ اس کے بعد انہوں نے کیمبرج میں اینگلیا پولی ٹیکنِک یونیورسٹی (جو اب اینگلیا رسکِن یونیورسٹی کے نام سے جانی جاتی ہے) سے ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ گلاسگو ائر پورٹ پر مبینہ حملے کے بعد کفیل کا نوّ فیصد جسم آگ میں جھلس گیا اور ان کے بچنے کا امکان بہت کم تھا۔
پولیس کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کفیل احمد ایک ایسے بین الاقوامی دہشت گرد گروہ کا حصہ تھے جس نے آسٹریلیا اور امریکہ پر بھی حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ کفیل اور ان کہ بھائی سبیل جو کہ اس وقت زیرِ حراست ہیں، دونوں نےماضی میں آسٹریلیا میں کام کرنے کے لیے ویزے کی درخواستیں بھی کی تھیں جو کہ مسترد کر دی گئیں۔ چند خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ائر پورٹ پر مبینہ حملے سے پہلے کفیل نے بینگلور میں موجود اپنی والدہ اور بہن سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گلاسگو میں ’کوئی‘ کام پورا کرنے کے بعد لندن میں چند دن قیام کریں گے اور ایک ماہ تک واپس بینگلور پہنچ جائیں گے۔ کفیل احمد کی ذاتی زندگی کے بارے میں غیر واضح قسم کی تفصیلات سامنے آنے کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کئی ہفتوں تک انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد ان کی موت کے ساتھ ہی کسی ممکنہ بین الاقوامی دہشت گرد گروہ کا سراغ لگنے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں گلاسگوحملہ، زخمی حملہ آور ہلاک03 August, 2007 | آس پاس لندن کار بم: آسٹریلیا میں چھاپے06 July, 2007 | آس پاس آٹھواں شخص آسٹریلیا سے گرفتار02 July, 2007 | آس پاس پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر01 July, 2007 | آس پاس ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا: براؤن30 June, 2007 | آس پاس جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||