دہشتگردی، مسلمان نشانے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں متعدد غیر سرکاری تنظیموں ، دانشوروں اور سرکردہ شخصیات نے الزام لگایا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر اقلیتوں خاص طور پر مسلم برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دانشوروں اور حقوق انسانی کے متعدد کارکنوں نےاس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ دہشت گردی کے نام پر ہونے والی غیر قانونی گرفتاریوں اور حبس بے جا میں ایزائیں پہنچانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے سرکردرہ شخصیات نے حکومت کے اس رویے پر اعتراض کیا کہ کسی بھی بم دھماکے کے بعد تفتیش سے پہلے ہی مسلم برادری یا ان کی بعض تنظیموں کا نام لیا جاتا ہے۔ سیمنار کی آرگنائزر شبنم ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس طرح کا رویہ معاشرے کے لیے بہت مضر ثابت ہوگا۔ ’ دہشت گردی یا داخلی سلامتی کے نام پر مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب بھی کچھ ہوتا ہے مسلمانوں کا نام لیا جاتا ہے، کئی لوگ حراست میں لیےجاتے ہیں انہیں ٹارچر کیا جاتا ہے، آخر میں پولیس کچھ بھی ثابت نہیں کر پاتی ہے۔ پھر جب کچھ ہوتا ہے ایسے ہی معصوموں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔‘
جے پور میں حالیہ بم دھماکوں کے بعد بہت سے بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حقوق انسان کے لیے کام کرنے والی سرکردہ کارکن کویتا شری واستو کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے نام پر پولیس نے دراصل غریب مزدوروں کو پکڑا ہے۔ ’اسلامک دہشتگردی کا حویٰ کھڑا کیا جا رہا ہے، دھماکوں میں حقیقت میں کس کا ہاتھ ہے یہ تو پولیس بتا نہیں پائی ہے، ہمارے خیال سے بعض جماعتیں فرقہ وارانہ فسادات کی طرح اب بم دھماکوں پر بھی سیاست کررہی ہیں۔‘ شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بعض ہندو نظریاتی تنظیمیں بھی تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں اس لیے صرف ایک برادری کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ ’گزشتہ پندرہ برس میں جس طرح فرقہ واریت پھیلی ہے اس سے، سکیورٹی ایجنسیز، پولیس، اور ججز تک محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ساٹھ برس ہوچکے لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کو ملک کا حصہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ پوری آئی بی میں ایک مسلم افسر ہے اور باقی جو ہیں وہ کمیونلائزڈ ہیں۔ تو یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آخر وہ ہندو نظریاتی تنظیمیں جن کے متعلق دہشت گردی کے ثبوت ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔‘ سیمنار میں، کشمیر، گجرات، حیدرآباد کرناٹک، آسام اور مہاراشٹر جیسی کئی ریاستوں سے تقریبا ڈھائی سو مندوبین نے شرکت کی اور سابق ججز، صحافی، سول سوسائٹی کے ار کنان اور بہت سے طلباء نے خطاب کیا۔
حیدآباد کے موقر اخبار سیاست کے مینیجنگ ایڈیٹر ظہیر علی خان نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کی گرفتاریوں کو ایک سنگین صورت حال قرار دیا۔’حیدرآباد، گجرات، مہاراشٹر، جے پور، آسام اور ملک کے مختلف مقامات پر مسلم نوجوانوں کی پر اسرارگرفتاریوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، یہ ایک سنگیت نوعیت کا مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔‘ بعض مقریرن نے خیال ظاہر کیا کہ دہشت گردی سے متعلق ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں جو خبریں نشر ہوتی ہیں وہ یکطرفہ ہوتی ہیں۔ جے پور کی ایک خاتون کارکن سنیہا سنگھ کا کہنا تھا’ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے خبریں پولیس سٹیشن میں تیار کی جاتی ہیں۔‘ اروندھتی کلشیسترا کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے میڈیا کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ’اگر ایک خاص برادری کا نام بار بار لیا جاتا ہے تو اس سے نفرت پھیلتی ہے، میڈیا کی خبروں سے تو ایسا لگتا ہے کہ سارے مدرسے، مولوی اور مسجدیں دہشت گردی کا اڈہ ہیں جبکہ یہ قطعی درست نہیں ہے۔‘ ہندوستان میں اس سے پہلے بھی مسلم دانشوروں نے اسی طرح کی شکایتیں حکومت سے کی تھیں اور اس بارے میں وزیر اعظم سے ملاقات کر کے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ حکومت نے بھی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ دہشت گردی کے حوالے سے کسی ایک برداری کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا تاہم ہر بم دھماکے کے بعد پولیس کی کہانی تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں ’مسلمانوں کوہراساں ہونےسے بچائیں‘17 April, 2008 | انڈیا ’ دہشت گردی برداشت نہیں‘25 November, 2006 | انڈیا ’دہشت گردی اسلام کے منافی‘25 February, 2008 | انڈیا ’شیئر بازار میں، دہشتگردی کا پیسہ‘04 December, 2007 | انڈیا لکھنؤ میں مبینہ شدت پسندگرفتار16 November, 2007 | انڈیا ’دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں ‘04 July, 2007 | انڈیا مذہبی مقامات پر حملوں کا خطرہ ہے04 October, 2007 | انڈیا اترپردیش:دومشتبہ شدت پسندگرفتار22 December, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||