BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی، مسلمان نشانے پر

سیمنار کا لوگو
ہر بار بم دھمماکوں کے سلسلے میں مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا جاتا ہے
ہندوستان میں متعدد غیر سرکاری تنظیموں ، دانشوروں اور سرکردہ شخصیات نے الزام لگایا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر اقلیتوں خاص طور پر مسلم برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دانشوروں اور حقوق انسانی کے متعدد کارکنوں نےاس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ دہشت گردی کے نام پر ہونے والی غیر قانونی گرفتاریوں اور حبس بے جا میں ایزائیں پہنچانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے سرکردرہ شخصیات نے حکومت کے اس رویے پر اعتراض کیا کہ کسی بھی بم دھماکے کے بعد تفتیش سے پہلے ہی مسلم برادری یا ان کی بعض تنظیموں کا نام لیا جاتا ہے۔

سیمنار کی آرگنائزر شبنم ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس طرح کا رویہ معاشرے کے لیے بہت مضر ثابت ہوگا۔

’ دہشت گردی یا داخلی سلامتی کے نام پر مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب بھی کچھ ہوتا ہے مسلمانوں کا نام لیا جاتا ہے، کئی لوگ حراست میں لیےجاتے ہیں انہیں ٹارچر کیا جاتا ہے، آخر میں پولیس کچھ بھی ثابت نہیں کر پاتی ہے۔ پھر جب کچھ ہوتا ہے ایسے ہی معصوموں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔‘

مسلمانوں کو انڈین سمجھا ہی نہیں گیا
 گزشتہ پندرہ برس میں جس طرح فرقہ واریت پھیلی ہے اس سے، سکیورٹی ایجنسیز، پولیس، اور ججز تک محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ساٹھ برس ہوچکے لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کو ملک کا حصہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ پوری آئی بی میں ایک مسلم افسر ہے اور باقی جو ہیں وہ کمیونلائزڈ ہیں۔ تو یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آخر وہ ہندو نظریاتی تنظیمیں جن کے متعلق دہشت گردی کے ثبوت ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی
سماجی کار کن شبنم ہاشمی

جے پور میں حالیہ بم دھماکوں کے بعد بہت سے بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حقوق انسان کے لیے کام کرنے والی سرکردہ کارکن کویتا شری واستو کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے نام پر پولیس نے دراصل غریب مزدوروں کو پکڑا ہے۔

’اسلامک دہشتگردی کا حویٰ کھڑا کیا جا رہا ہے، دھماکوں میں حقیقت میں کس کا ہاتھ ہے یہ تو پولیس بتا نہیں پائی ہے، ہمارے خیال سے بعض جماعتیں فرقہ وارانہ فسادات کی طرح اب بم دھماکوں پر بھی سیاست کررہی ہیں۔‘

شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بعض ہندو نظریاتی تنظیمیں بھی تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں اس لیے صرف ایک برادری کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔

’گزشتہ پندرہ برس میں جس طرح فرقہ واریت پھیلی ہے اس سے، سکیورٹی ایجنسیز، پولیس، اور ججز تک محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ساٹھ برس ہوچکے لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کو ملک کا حصہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ پوری آئی بی میں ایک مسلم افسر ہے اور باقی جو ہیں وہ کمیونلائزڈ ہیں۔ تو یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آخر وہ ہندو نظریاتی تنظیمیں جن کے متعلق دہشت گردی کے ثبوت ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔‘

سیمنار میں، کشمیر، گجرات، حیدرآباد کرناٹک، آسام اور مہاراشٹر جیسی کئی ریاستوں سے تقریبا ڈھائی سو مندوبین نے شرکت کی اور سابق ججز، صحافی، سول سوسائٹی کے ار کنان اور بہت سے طلباء نے خطاب کیا۔

دھماکوں کے بعد بہت سے مسلم نوجوانوں کوحراست میں لیا جاتا ہے لیکن عام طور پر جرم ثابت نہیں ہوپاتا ہے

حیدآباد کے موقر اخبار سیاست کے مینیجنگ ایڈیٹر ظہیر علی خان نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کی گرفتاریوں کو ایک سنگین صورت حال قرار دیا۔’حیدرآباد، گجرات، مہاراشٹر، جے پور، آسام اور ملک کے مختلف مقامات پر مسلم نوجوانوں کی پر اسرارگرفتاریوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، یہ ایک سنگیت نوعیت کا مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔‘

بعض مقریرن نے خیال ظاہر کیا کہ دہشت گردی سے متعلق ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں جو خبریں نشر ہوتی ہیں وہ یکطرفہ ہوتی ہیں۔ جے پور کی ایک خاتون کارکن سنیہا سنگھ کا کہنا تھا’ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے خبریں پولیس سٹیشن میں تیار کی جاتی ہیں۔‘

اروندھتی کلشیسترا کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے میڈیا کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

’اگر ایک خاص برادری کا نام بار بار لیا جاتا ہے تو اس سے نفرت پھیلتی ہے، میڈیا کی خبروں سے تو ایسا لگتا ہے کہ سارے مدرسے، مولوی اور مسجدیں دہشت گردی کا اڈہ ہیں جبکہ یہ قطعی درست نہیں ہے۔‘

ہندوستان میں اس سے پہلے بھی مسلم دانشوروں نے اسی طرح کی شکایتیں حکومت سے کی تھیں اور اس بارے میں وزیر اعظم سے ملاقات کر کے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ حکومت نے بھی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ دہشت گردی کے حوالے سے کسی ایک برداری کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا تاہم ہر بم دھماکے کے بعد پولیس کی کہانی تقریباً یکساں ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد