’اب مشرف بھی کارکردگی دکھائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزير اعظم منموسن سنگھ نے ایک بار پھر دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اب پاکستان کے صدر مشرف کو اپنی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم ریاست اترانچل کے نینیتال شہر میں جاری کانگریس کے وزراء اعلی کے اجلاس کے اختتام پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے اپنا رویہ نہیں بدلا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہندوستان نے ہمیشہ بات چیت کی حمایت کی ہے اور اب بھی ہندوستان بات چیت کے لئے تیار ہے لیکن پاکستان کو بھی اپنے خطے میں جاری دہشتگردانہ کارروائی روکنے کی ذمے داری اٹھانی ہوگي ۔ حال ہی میں ہوانا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ کارروائی کرنے پر حزب اختلاف نے سخت نکتہ چینی کی تھی۔
اس کے جواب میں وزير اعظم نے کہا: ’نہ تو ہندوستان جموں اور کشمیر علاقے سے لگی ہوئی پاکستان کی سرحد میں کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہے اور نہ پاکستان کنٹرول لائن کو مستقل سرحد ميں تبدیل کرنے کی حمایت کرتا ہے اس لئے دونوں ملکوں کے سامنے بات چیت کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک پر مزید دہشتگردانہ حملوں کا خطرہ برقرار ہے اور صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے انڈیا کو جس حد تک تیار رہنا ضروری ہے وہ تیار ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطرے سے نمٹنے کے لئے خفیہ ایجنسیوں اور پولس کی کارکردگی کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں اقلیتوں کے حالات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اقلیتوں کی پریشانیوں کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھی موجود تھیں ۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ دہشتگردانہ حملوں کے لئے کسی ایک برادری کو ذمہ دار ٹھرانا غلط ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’لوگوں میں یہ احساس نہیں آنا چاہيے کہ پوری برادری ان حملوں میں ملوث ہے۔‘ محترمہ گاندھی نے مزید کہا کہ جب کسی مسلم شخص کو پوچھ گـچھ کے لئے گرفتارکیا جا تا ہے تو فوراً انکی خبريں ذرائع ابلاغ میں آ جاتی ہیں لیکن جب انہیں رہا کر دیا جاتا ہے تو کہيں کوئی خبر نظر نہیں آتی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی پر قابو پانے کے دوران کسی بھی معصوم کو ملزم قرار دینا غلط ہے۔ | اسی بارے میں ’کشمیر کے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں‘20 September, 2006 | آس پاس ملاقات ’نیک شگون‘ ہے: مشرف17 September, 2006 | آس پاس ہند پاک مفاہمت: ملا جلا ردِ عمل 17 September, 2006 | انڈیا پاکستان: کشمیر میں ملاجلا ردعمل17 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||