BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 December, 2006, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اکثریت نقل مکانی کرناچاہتی ہے
افریقی لوگ
سات میں سےایک کا کہناہےکہ وہ دوسری جگہ نقل مکانی کےلیےاپنی جان بھی خطرےمیں ڈال سکتاہے
دنیا میں پندرہ سے سترہ برس کے پانچ میں سے چار نو عمر لڑکوں کا خیال ہے کہ ہر کسی کو اپنی پسند کے ملک میں رہنے کی اجازت ہونی چاہیۓ۔

یہ بات بی بی سی ولڈ سروس کے ایک عالمی جائزے سے پتہ چلی ہے۔

دوتہائی نوجوانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بہتر مستقبل کے لیے دوسرے مقامات پر جاسکتے ہیں اور سات میں سے ایک کا کہنا ہےکہ وہ دوسرے ملک میں جانے کے لیے اپنی زندگی بھی خطر ے میں ڈال سکتے ہیں۔

یہ نتیجے بی بی سی کے 'جینیریشن نیکیسٹ، پروگرام کے تحت دنیا کے دس ممالک کے 3000 نوجوانوں کے سروے سے اخذ کیۓ گئے ہیں۔

 صرف بغداد ہی ایسا شہر تھا جہاں نو عمر وں کی نصف تعداد نے بتایا کہ وہ غیر ممالک جانے کے خواہش مند نہیں ہیں۔

نوجوانوں سے موجودہ سیاسی مسائل سے متعلق مختلف سوالات کیۓ گئے تھے۔ بیشتر سوالات غیر ممالک جانے، آب و ہوا میں تبدیلی، دہشتگردی اور جنگ، جرم، مذہب، تعلیم، عالمی آبادی اور ایمانداری جیسے اہم موضوعات کے بارے میں تھے۔

جائزے میں شامل دس اہم شہر نیو یارک، نیروبی، قاہرہ، لیگوس، ریوڈی جینیرو، بغداد، دلی، جکارتا، ماسکو اور لندن ہیں۔ لیکن حسا س نوعیت کی وجہ سے تمام سوالات ہر شہر کے نوجوانون سے نہیں کیۓگئے تھے۔

دوسرے ملک جانے کے سوال پر79 فیصدنوجوانوں کا خیال تھا کہ عوام کو اپنی پسند کے ملک میں رہنے کی اجازت ہونی چاہیے اور 64 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ بہتر مستقبل کے لیےاپنا ملک چھوڑنا چاہیں گے۔

بہتر مستقبل کے لے بیرون ممالک جانے پر آمادہ نئی نسل کے نوجوانوں میں نیروبی اور دلی میں 81 فیصد کا تناسب سب سے زیادہ تھا۔

صرف بغداد ہی ایسا شہر تھا جہاں نو عمر وں کی نصف تعداد نے بتایا کہ وہ غیر ممالک جانے کے خواہش مند نہیں ہیں۔

جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے نوجوانوں میں نقل مکانی کے سوال پر بہت کم فرق ہے۔

بیشترلوگوں کامانناہےکہ دہشتگردی کےخلاف امریکی جنگ سےدنیا مزیدغیرمحفوظ ہوگئی ہے

لیکن نمونے میں مختلف آراء اس وقت ابھر کے سامنے آئیں جب اپنی تہذیب اور ثقافت کو دوسرے ممالک میں قائم رکھنے سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔

38 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پرانے طور طریقے کو قائم رکھنے کے حق میں ہیں ۔ جبکہ 49 فیصد نے کہا کہ وہ بسنے والےممالک کے طور طریقے اختیار کیے جانے چاہیں۔
نیویارک میں 61 فیصد کا خیال تھا کہ نقل مکانی کرنے والوں کو دوسرے سے میل جول رکھنی چاہیے اور 11فیصد نے اس کے بر عکس جواب دیا۔

دلی میں 11 فیصد نے میل جول کی حمایت کی جبکہ 81 فیصد نے الگ تھلگ رہنے پراصرار کیا۔

جب نوجوانوں سے یہ دریافت کیا گیا کہ اس وقت دنیا کےسامنے سب سےاہم مسئلہ کیا ہے تو 36 فیصد نے دہشت گردی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔

اس موضوع کوسب سے زیادہ اہمیت دلی (چھیاسٹھ فیصد) ، نیو یارک( 63 فیصد ) اور بغداد میں ( 59 فیصد) دی گئی۔
دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی مبینہ جنگ کے بارے میں 71 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ اس سے دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ نہیں ہوئی ہے۔
جبکہ فقط 14 فیصد نے کہا کہ اس قدم سے دنیا اب زیادہ محفوظ ہے۔

بغداد کے نوجوانوں میں 98 فیصد کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کے خلا ف جنگ سے دنیا محفوظ نہیں ہوئی ہے۔ ریو ڈی جنیریو کے 92 فیصد نوجوانوں نے بھی اس سے اتفاق کیا کہ دنیا اب زیادہ محفوظ نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد