امیگریشن مراکز تنقید کا نشانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں قیدیوں کے واچ ڈاگ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں لندن میں واقع چار چھوٹے امیگریشن مراکز کوسہولیات کی فراہمی کی حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کےمطابق لندن شہر کےہوائی اڈے پر واقع ڈوور ازائلم سکرینگ سینٹراورگیٹوک ہوائی اڈے پر دو مراکز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ رات گزارنے کے لیے کسی طور بھی مناسب نہیں ہیں۔ ان مراکز میں قیدیوں کو میزوں اور پلاسٹک سے بنی کرسیوں پر سوتا ہوا پایا گیا۔ محکمہ داخلہ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس نےان مراکز میں قید لوگوں کے وقت میں کمی کی کوشش کی ہے لیکن اس نے اس رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات کو تسلیم کرنے کے بارے میں اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ رپورٹ میں مستقبل میں ان مراکز کی آزاد مانیٹرنگ کی بات گئی تھی۔ برطانیہ میں اس طرح کے کل بارہ مراکز ہیں جن میں سے کچھ بندرگاہوں اور کچھ ہوائی اڈے کےقریب قائم کیےگئے ہیں۔ جہاں ملک میں داخلے کے خواہش ان مراکز میں تارکین وطن کواس خیال سےمحض چند گھنٹوں کے لیے قید رکھا جاتاہے کے اس کے بعد انہیں ملک سے بےدخل کر دیا جائے گا۔ اس بارے میں قیدیوں کی چیف انسپکٹر ایننی اوورز کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں لوگوں کو رات کے لیے بھی ٹھرایا جاتا ہے اور کھبی قید کی مدت چھتیس گھنٹوں تک کی ہوتی ہے۔ ان اداروں کے بارے میں شکایت ہے کہ صحت سےمتعلق عملہ ان کا باقاعدہ دورہ نہیں کرتا اور نہ ہی ان میں شکایات کےاندارج کے بارے میں کوئی طریقہ کار رپورٹ کےمطابق ان مراکز میں بچوں کےحوالے سے بھی کسی قسم کے تحفظ کے بارے میں انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔ اس بارے میں محکہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس کا خیال نہیں کہ ان مراکز کی کوئی ایک بھی سہولت سے بچوں کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں ان مراکز میں کام کرنے والے عملے کی قیدیوں کی جانب سے تعریف کی گئی ہے۔ ان مراکز پر موجود سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ایک غیر اعلانیہ معائنہ نومبر دوہزار چار سے جنوری دوہزار پانچ کے درمیان کیا گیا۔ جن مراکز کا معائنہ کیا گیا ان میں ڈوور ازائلم سکرینگ سینٹراورگیٹوک ہوائی اڈے کے شمال اور جنوب کے ٹرمینل شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||