برطانیہ میں جعلی شادیاں، گروہ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی امیگریشن سروس نے ملک میں جعلی شادیاں کروانے والے ایک بڑے گینگ کو پکڑا ہے۔ اختتامِ ہفتہ کو سات افراد پکڑے گئے جن میں سے دو رجسٹرار کے دفتر سے گرفتار کیے گئے۔ گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے چار پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق برطانیہ میں مغربی افریقہ سے آئے ہوئے افراد سے شادی رچانے کے لیے ہالینڈ سے خواتین لائی جاتی تھیں۔ برطانیہ میں اگر غیر ملکی کسی یورپی یونین کے شہری سے شادی رچاتے ہیں تو یہاں رہ سکتے ہیں۔ اس طرح کے جوڑے کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اکٹھے بھی رہیں۔ خیال ہے کہ اس گروہ نے تقریباً تین سو کے قریب شادیاں کروائی ہیں۔ وزیرِ داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے پولیس کے اس چھاپے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ گینگ ہر شادی کا 10,000 پاؤنڈ معاوضہ لیتا تھا۔ ایک سینیئر رجسٹرار مارک رمر کے مطابق لوگ باقاعدگی سے اس طرح کی شادیاں کرتے تھے۔ مارک رمر نے امیگریشن سروس کے ساتھ مل کر گروپ کو پکڑوانے میں مدد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں ہونے والی ہر پانچویں شادی میں سے ایک فراڈ ہے۔ اس حساب سے تقریباً ہر سال 8000 کے قریب شادیاں جعلی ہوتی ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق مستقبل میں غیر ملکیوں کو شادی کرنے کے لیے متعین کردہ رجسٹرار کے آفس سے اجازت لینا ہو گی۔ تاہم اس طرح کا قانون ابھی لاگو نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||