BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2008, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی

پراگ ساونت (فائل فوٹو)
دھماکوں کی زد میں پراگ ساونت بھی آئے جو دوبرسوں سے کوما میں ہيں
ممبئی لوکل ٹرینوں میں ہوئے بم دھماکوں کو دو برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ہندوجا ہسپتال میں پراگ ساونت اور جسلوک ہسپتال میں امیت سنگھ ابھی بھی زیر علاج ہیں۔

ان کے ساتھ ان کے والدین کے لیے بھی زندگی تھم گئی ہے کیونکہ وہ دونوں ابھی تک ’کوما‘ کی حالت میں ہیں۔ ان دو برسوں میں پراگ نے صرف ایک مرتبہ اپنی ماں کو پکارا ہے۔

گیارہ جولائی سن دو ہزار چھ کو ممبئی کی سات لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار سات دھماکے ہوئے تھے جس سے پورا شہر لرز گیا تھا۔ان دھماکوں میں تقریباً 187افراد ہلاک اور سات سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان دھماکوں کی یادیں آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں جو انہیں لرزا دیتی ہیں۔ دادر سبزی بازار میں چائے کے ایک سٹال کےمالک لکشمن سامنت کی اس حادثہ میں سیدھے کان کی قوت سماعت ختم ہو گئی ہے۔

لکشمن سامنت اس روز بوریولی جانے والی ٹرین میں دادر سے سوار ہوئے۔ ان کا ڈبہ فرسٹ کلاس ڈبے سے لگا ہوا تھا۔ ٹرین جب ماہم پہنچی تو زور دار دھماکہ ہوا اور پھر انہیں کچھ سنائی نہیں دیا۔ لکشمن سامنت کہتے ہيں’ آج بھی جب ٹرین ماہم پہنچتی ہے تو بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔‘

ایک سو ستاسی ہلاک
 گیارہ جولائی سن دو ہزار چھ کو ممبئی کی سات لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار سات دھماکے ہوئے تھے جس سے پورا ممبئی شہر لرز گیا تھا۔ان دھماکوں میں تقریبا 187افراد ہلاک اور سات سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے

ڈاکٹر این ایم کامت نیچرو پیتھی کے معالج ہیں۔اس حادثہ میں ان کی بھی قوت سماعت پوری طرح متاثر ہو گئی، ان کی پیٹھ پر زخم آئے اور پھیپھڑوں کو بھی نقصان ہوا۔انہوں نے ریلوے سے پانچ لاکھ روپوں کے معاوضے کا دعوی کیا ہے اور ان کا کیس ٹریبونل میں زیر سماعت ہے۔

ٹرینوں میں ہوئے ان دھماکوں کے لیے انسداد دہشت گردی کے عملے( اے ٹی ایس ) کے سربراہ کے پی رگھوونشی نے اپنی تفتیش کے بعد جو چارج شیٹ داخل کی ہے اس کے مطابق ان دھماکوں میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کا ہاتھ تھا۔

اے ٹی ایس نے اس سلسلہ میں تیرہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جو اس وقت مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت شروع ہی ہوئی تھی کہ اس پر سپریم کورٹ نے سٹے دے دیا۔ ملزمان نے عدالت عظمیٰ میں اپنی اپیل میں کہا ہے کہ ان پر انتہائی سخت قانون ’مکوکا‘ کا اطلاق نہیں ہو سکتا ہے۔

ملزمان نے اپنے لیے کسی بھی وکیل کو نامزد نہیں کیا ہے۔ اور وہ شروع سے ان دھماکوں میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

یہ تمام ملزمان جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں ایک ہفتے قبل تک آرتھر روڈ جیل میں بند تھے۔

ممبئی بم دھماکہ فائل فوٹو
گیارہ جولائی سن دو ہزار چھ کو ممبئی کی سات لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار سات دھماکے ہوئے تھے

جیل حکام اور عدالت کے ساتھ مبینہ عدم تعاون کے نتیجے میں جب یہ قیدی آرتھر روڈ جیل میں بند تھے تو ان پر مبینہ طور پر جیل میں زدوکوب بھی کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق انہیں آرتھر روڈ جیل سے صوبے کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جارہا تھا اور اس پر احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ منتقل کیے جانے سے قبل انہیں عدالت کے حکم کی کاپی دکھائی جائے۔

کے پی رگھوونشی جو بم دھماکوں کے وقت اے ٹی ایس سربراہ تھے، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ملزمان نے مکوکا قانون کو ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس لیے مقدمہ کی سماعت میں تاخیر ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ اس ماہ کے آخر تک سپریم کورٹ اس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دے گی۔

رگھوونشی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ملزمان کے خلاف پختہ ثبوت ہیں اور ایک بار کیس شروع ہو جائے گا تو صرف اٹھارہ ماہ میں اس کا فیصلہ آسکتا ہے۔

رگھوونشی جو اس وقت ریلوے کے ڈائرکٹر جنرل ہیں ان کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں کے بعد ریلوے نے ایسی کسی تخریبانہ کارروائی کے لیے بہت سے انتظامات کیے۔ٹرینوں اور پلیٹ فارموں پر پولیس بندوبست میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔

اٹھائیس ریلوے سٹشنوں پر کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے اور اہم سٹیشنوں پر اکہتر میٹل دروازے لگائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں معلوم ہے کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے ریلوے ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔

ممبئی دھماکوں کی برسی11 جولائی 2006
ممبئی میں ٹرین دھماکوں کی پہلی برسی
ممبئیبم دھماکے کی گتھیاں
پولیس کے دعووں کے بعد بھی کچھ سوال باقی ہیں
انڈین اخباراتانڈین اخبارات
ذرائع ابلاغ میں ممبئی بم دھماکوں کے تذکرے
ممبئی کی روِش
مسافرممبئی میں دوسرا دن
ذمہ دار کون؟
ممبئی دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
بارہ جولائی کی صبح
یہی تو میرا ممبئی ہے: ریحانہ بستی والا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد