’عراق میں بھی اتنا ڈر نہیں لگا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے کولابہ مارکیٹ اور وہاں کے لیوپولڈ کیفے کا علاقہ سیاحوں خاص طور پر غیر ملکی سیاحوں کے لیے اہم مرکز ہے۔ لیکن بدھ کی رات ممبئی میں ہوئے شدت پسند حملے کے بعد غیر ملکی پریشان ہیں۔ کولابہ میں موجود عراقی شہری جمال البخش کہتے ہیں کہ انہیں اتنا خوف کبھی عراق میں نہیں لگاجتناممبئی میں لگ رہا ہے کیونکہ اس کی بالکل امید نہیں تھی۔ وہ کہتے ہیں ’یہ اصل دہشتگرد کارروائی ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کولابہ علاقے میں لوگ گولیاں چلائيں گے اور بم دھماکے ہوں گے، یہاں تو بس سیاح رہتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’میں عراق میں رہتا تھا لیکن وہاں پتا ہوتا ہے کہ کس علاقے میں دقتیں پیش آئيں گی، اس علاقے میں لوگ نہيں جاتے ہیں، لوگ گھر میں رہتے ہیں لیکن یہاں تو کئی دکانوں میں گولیاں چل رہی ہے۔ آپ کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔‘
جمال کے دوست غفور بھی اس وقت اسی علاقے میں تھے، ان کا کہنا تھا وہ دو لوگ تھے، ان کے پاس بڑے ہتھیار تھے۔ وہ زبردست گولیاں چلا رہے تھے، میرے سامنےانہوں نے دو لڑکیوں پر گولیاں چلائيں۔ غفور کا تعلق بغداد سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دونو حملآور دیکھنے میں غیر ملکی لگ رہے تھے اور ایک کے بال تو سنہرے بھی تھے۔" ایک کے بال سنہرے تھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس ملک کے ہوں گے لیکن ان کی جلد ہندوستانیوں جیسی نہیں تھی، وہ بہت اعتماد کے ساتھ چل رہے تھے۔ آسٹریلیا کے سڈنی شہر سے آئی ایملی لیوپولڈ کیفے کے پاس کھڑی تو ہیں لیکن ان کا دل ممبئی میں نہيں لگ رہا ہے۔ ان کا صرف اتنا ہی کہنا تھا کہ انہيں ممبئی سے باہر جانا ہے۔ ایملی کے ساتھ ان کا چھوٹا بچہ بھی ہے اور اس حادثے کا اثر اس کے چہرے پر صاف صاف نظر آتے ہیں۔ لیوپولڈ کیفے میں باورچی کا کام کرنے والے محبوب خان بھی کافی ڈرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی کیفے میں فائرنگ شروع ہوئی تھی اور میرا ایک ویٹر بھی ہلاک ہو گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اسی فائرنگ میں ان کا ایک ویٹر مارا گیا اور کیفے کو فوری طور پر خالی کرانا پڑا، پھر سڑک پر گولیاں چلنے لگیں۔ پولیس کی جانب سے اب تک اس بات کی تصدیق نہيں کی گئی ہے کہ حملہ آور ملکی تھے یا غیر ملکی۔ جرمنی کی جوڈتھ تاج ہوٹل کے نزدیک ایک بنگالی میوزک وڈیو کی شوٹنگ کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’ میں گزشتہ 18 مہینوں سے ممبئی میں ہوں ۔ ممبئی سے بے حد محبت ہے لیکن اس قسم کے واقعات کے بعد ڈر تو لگتا ہے۔‘ ان کے مطابق ہندوستان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے ہی اس قسم کے حملے کیے جا رہے ہیں۔ کولابہ مارکٹ کی فٹ پاتھ پر دکان لگانے والے نصیر کے مطابق ’اس سے تو ہمیں ہی نقصان ہوگا، ہماری دکانیں بند ہو جائيں گی، پتا نہیں کب کھلیں گی، سیاحت کا بزنس چوپٹ ہو جائے گا، پتا نہیں کب تک سیاح ڈرتے رہيں گے اور ممبئی نہیں آئيں گے۔‘ ایک برطانوی اور اسرائیلی جوڑا بھی ڈرا ہوا نظر آیا۔ اسرائیلی جوڑا ایک دن پہلے ہی ممبئی آیا تھا۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا شیلا ڈکشت کی ہیٹ ٹرک؟ 25 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||