پارلیمان پرحملے کی پانچویں برسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی پارلیمان پر حملے کی آج پانچوی برسی ہے۔13 دسبمر 2001 کو پارلیمان پر حملے میں پانچ مشتبہ شدت پسند اور نو حفاظتی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس موقع پر حملے میں ہلاک ہونے والے حفاظتی اہلکاروں کے لواحقین نے صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سے حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کے سزا پانے والے افضل گرو کو جلد از جلد پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کاروائی شروع ہوتے ہی پارلمینٹ پر حملے میں ہلاک ہونے والے حفاظتی اہلکاووں کو خراج عقیدت پیش کیا گيا۔ ہلاک ہونے والے حفاظتی اہلکاروں کے لواحقین نے افضل گرو کی پھانسی میں تاخیر کے خلاف احتجاجا حفاظتی اہلکاروں کو دیۓ گۓ شجاعت کے تمغے صدر کو واپس کردیۓ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف محاذ کے سربراہ ایم ایس بٹاّ کا کہنا ہے’ افضل گرو کے لیے رحم کے جذبات رکھنے والے ان اہلکاروں کی قربانی کا مذاق اڑا رہے ہیں جنہوں نے اس حملے کو ناکام بنانے میں اپنی جان دے دی تھی۔، پارلیمان پر حملے کی سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل کو گزشتہ بیس اکتوبر کو پھانسی دی جانی تھی لیکن افضل کی اہلیہ تبسم اور بعد میں خود افضل نے صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کی تھی۔ تبسم کا کہنا ہے کہ افضل کو مقدمے کے لیے کوئی وکیل نہیں دیاگیا اس لیے انہیں انصاف نہیں ملا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بھی کئی بار یہ سوال اٹھا چکی ہے کہ حکومت افضل کو پھانسی دینے میں تاخیر کیوں کر رہی ہے۔ جب یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران اٹھایاگیا تو وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے کہا تھا ’حال ہی میں رحم کی درخواست صدر کے دفتر سے وزارت داخلہ کے پاس پہنچی ہے اور اس پر وزارت داخلہ اور وزارت قانون غور کر رہے ہيں لہذا اس میں ابھی وقت لگے گا۔،
دانشوروں اور سماجی کارکنوں کا ایک گروپ افضل کی پھانسی کی مخالفت کررہے ہیں۔ اس گروپ میں شامل دانشور، وکلاء اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ افضل گرو کے کیس کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی ہے جس کے سبب افضل کو اپنی بات سامنے رکھنے کا موقع نہیں ملا ہے اور یہ ’کسی بھی جمہوری اصول کے خلاف ہے۔، اروندھتی رائے کا کہنا ہے ’ کسی بھی انسان کو معاشرے کے جذبات کو مطمئن کرنے کے لیے پھانسی پر چڑھانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔، انکا کہنا تھا کہ افضل کے معاملے میں ’میڈیا نے بھی یک طرفہ تصویر پیش کی ہے اور سماعت سے پہلے ہی انہیں مجرم قرار د ے دیا گیا تھا۔، اروندھتی رائے کے مطابق خود سپریم کورٹ کے پاس افضل کے خلاف ثبوت نہیں ہیں تو حکومت کو صدق دل کے ساتھ غور کرنا ہوگا کہ افضل کو پھانسی دی جاۓ یا نہیں۔ | اسی بارے میں دلی میں ایک کشمیری کا قتل 13 October, 2006 | انڈیا افضل کی رحم اپیل کے خلاف مہم تیز17 October, 2006 | انڈیا افضل کی پھانسی مؤخر 19 October, 2006 | انڈیا ’افضل کیلیئے رحم کی اپیل نہیں کی‘ 31 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||