شیلا ڈکشت کی ہیٹ ٹرک؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارالحکومت دلی کے اسمبلی انتخابات کے لیے انتیس نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں زور شور سے انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور شہر میں ہر طرف انتخابی ہلچل ہے۔ دلی میں اسمبلی کی ستّر نشستیں ہیں اور اس بار بھی حکمراں کانگریس پارٹی اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ کانگریس رہنما شیلا ڈکشت گزشتہ دس برس سے دلی کی وزیر اعلی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ تیسری بار بھی وہی حکومت تشکیل دیں گي۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیلا دیکشت نے کہا کہ انہوں نےگزشتہ دس برس میں جو کام کیا ہے اسی کے بل بوتے پر وہ انتخابات میں اتری ہیں۔ ’بنیادی ڈھانچے، سماجی سیکٹر اور اقتصادی شعبہ میں گزشتہ دس برس میں جو ترقی ہوئی ہے وہ دلی میں پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ بہت سے فلائی اوور، سڑکوں اور میٹرو ریل کی تعمیر بھی ہوئی ہے اور ہمارا انتخابی موضوع ترقی اور صرف ترقی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں محترمہ ڈکشت نے کہا کہ مہنگائی کا مسئلہ تشویش کا باعث رہا ہے لیکن ’ عوام یہ بات جانتی ہیں کہ یہ قومی اور عالمی سطح کا مسئلہ ہے جس پر ریاستی حکومت کا زیادہ کنٹرول نہیں تھا لیکن پھر بھی اب مہنگائی میں کمی آگئي ہے۔‘ شیلا ڈکشت کو پورا یقین ہے کہ وہ اپنی ہیٹ ٹرک کی کوشش میں کامیاب ہوں گي۔ سنہ انیس سو ترانوے میں دلی اسمبلی کے قیام کے بعد پہلے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی ملی تھی۔ اس بار پارٹی نے وزارت اعلی کے عہدے کے لیے شیلا دیکشیت کے مقابلے سینیر رہنما وجے کمار ملہوترا کو میدان میں اتارا ہے۔ وجے کمار ملہوترا اپنی انتخابی ریلیوں میں شیلا ڈکشت پر بد عنوانی کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دلی میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔’ اس بد عنوان حکومت نے ترقیاتی کام نہیں کیے ہیں۔ پانی، بجلی، مہنگائی اور دہشت گردی جیسے مسائل اس انتخاب کے اہم موضوع ہیں اور بی جے پی کی جیت سے مہنگائی اور دہشت گردی کی ہار ہوگی۔‘ وجے کمار ملہوترا کا کہنا ہے کہ اس بار ان کی جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگي۔ تاہم اس کے لیے وہ زیادہ انحصار حکومت مخالف رجحان پر کرتے ہیں۔’ عوام اس حکومت سے بہت ناراض ہیں اور اسے اب مزید دیکھنا نہیں چاہتے۔‘
مسٹرملہوترا کا کہنا ہے کہ اترپردیش کی وزیراعلی مایا وتی کی جماعت بہوجن سماج پارٹی بھی اس بار کانگریس کی شکست میں اہم رول ادا کرےگي۔’ بی ایس پی دس سے پندرہ فیصد تک ووٹ حاصل کر سکتی ہے جس سے نقصان صرف کانگریس پارٹی کا ہوگا۔‘ دلی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ اس بار بی ایس پی بھی اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ اگر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بڑے انتخابی اجتماعات سے خطاب کر رہی ہیں تو مایا وتی کے جسلوں میں بھی کم بھیڑ نہیں ہورہی ہے۔ دلی اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والے امیر ترین امیداور کنور سنگھ تنور کا تعلق بی ایس پی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں’ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ہی غریب عوام کے مسائل حل نہیں کیے ہیں اور وہ عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔‘ بعض جائزوں سے لگتا ہے کہ اس بار کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قوی امکان اس بات کا ہے کہ اس بار حکومت سازی میں بہوجن سماج پارٹی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ دلی ملک کی دارالحکومت ہے جہاں جرائم اور خاص کر خواتین کے ساتھ جرم کااہم مسائل ہیں۔ سینکڑوں بستیاں برسوں سے غیر قانونی تعمیرات کے زمرے میں ہیں جنہیں قانون کے دائرے میں لانے کا مطالبہ ہوتا رہا ہے۔ بجلی، پانی اور سڑکوں کی تعمیر بھی ایک اہم اشو ہے۔ لیکن مسلم علاقوں میں جامعہ نگر انکاؤنٹر اور مسلمانوں کے تحفظ کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب14 October, 2008 | انڈیا کشمیر: پولنگ کے دوران مظاہرے بھی23 November, 2008 | انڈیا سری نگر میں ’غیر اعلانیہ کرفیو‘21 November, 2008 | انڈیا دوسرے مرحلے میں 65 فیصد ووٹنگ20 November, 2008 | انڈیا چھتیسگڑھ، پولنگ کےدوران تشدد14 November, 2008 | انڈیا چھتیس گڑھ میں جمعہ سے پولنگ 13 November, 2008 | انڈیا پینسٹھ فیصد سے زیادہ پولنگ23 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||