دوسرے مرحلے میں 65 فیصد ووٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست چھتیس گڑھ ميں اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے 65 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس مرحلے میں اسمبلی کی نوے میں سے 51 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے کے لیے 14 نومبر کو ووٹنگ ہو چکی ہے جس میں 39 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ووٹوں کی گنتی آٹھ دسمبر کو ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 53 فی صد پولنگ ہوئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق نائب چیف انتخابی افسر اروند دکشت کا کہنا ہے’ رائے پور ضلع میں دوپہر ڈیڑھ بجے تک 38 فیصد ووٹروں نے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاس پور میں 32 فیصد، رائے گڑھ میں 36 فیصد، کوربا ضلع میں 38 فیصد، سرگوزا میں40 فیصد، جشپور میں 38 فیصد کوریا میں 35 فیصد اور جنجگیر اور چپا میں 35 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ریاست میں ماؤنواز باغیوں کے متاثرہ علاقوں میں تشدد کے کچھ واقعات پیش آئے ہیں۔ ادھر ریاست کے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی کی گاڑی پر جمعرات کی صبح حملہ کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب اجیت جوگی اپنے اتنخابی حلقے مروالی کے گروار گاؤں سے ہو گر گزر رہے تھے تو بعض افراد نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا۔ اس واقعہ میں اجیت جوگی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انتخابی کمیشن نے اس مرحلے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ حالانکہ اس مرحلے کے لیے ماؤنوازوں کی جانب سے ویسی دھمکی موصول نہیں ہوئی ہے جیسی پہلے مرحلے کے لیے ملی تھی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے انتخابی میدان میں اہم چہرے ہیں۔ سابق وزیر اعلی اجیت جوگی اور ان کی بیوی رینو جوگی کی بھی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔
اس مرحلے میں جن اضلاع میں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں سے کئی جگہ ماؤنواز باغی سرگرم ہیں۔ ان علاقوں ميں ماؤنواز باغیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی کال دی ہے جس کے سبب ووٹرز ڈرے ہوئے ہیں۔ انتخابی کمیشن نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے سی آر پی ایف کی 17 بٹالیئن کے علاوہ کل 300 کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ انتخابات ميں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے علاوہ بہوجن سماج پارٹی بھی اہم پارٹیوں میں شامل ہیں۔ کانگریس نے دوسرے مرحلے کی 51 سیٹوں میں سے تین اپنی ساتھی این سی پی کے لیے چھوڑ دی ہیں جبکہ بی جے پی اور بہوجن سماج پارٹی نے سبھی 51 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ انتخابات میں جہاں بی جے پی نے ترقی کے علاوہ غریبوں کو تین روپے کلو چاول دینے جیسے موضوعات اٹھائے ہیں وہيں کانگریس نے ترقیاتی کام کاج میں بدعنوانی اور حکومت میں آنے کے بعد دو روپے کلو چاول دینے کا وعدہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں چھتیسگڑھ، پولنگ کےدوران تشدد14 November, 2008 | انڈیا چھتیس گڑھ میں جمعہ سے پولنگ 13 November, 2008 | انڈیا پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب14 October, 2008 | انڈیا کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا یوپی انتخابات: مسلم ووٹرز کا المیہ14 April, 2007 | انڈیا اتر پردیش میں انتخابات شروع13 March, 2007 | انڈیا انتخابات میں کانگریس کو دھچکا27 February, 2007 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||