یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد یہاں کی سب سے بڑی ہند نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے پہلے انتخابی جلسے کے دوران اعتراف کیا ’ اس سال الیکشن آسان نہیں ہونگے۔‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر اور الیکشن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ وسطی ضلع بڈگام میں قریب تین ہزار پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا’ ہم ایک بار پھر یہ دوہرانا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کا تعلق عوامی مسائل کے ساتھ ہے۔ انتخابات مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے۔ جو لوگ بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں اگر وہ عام لوگوں کو بجلی، پانی اور سڑک کی سہولت فراہم کریں تو ہم الیکشن نہیں لڑیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔‘ مسٹر عبداللہ نے، جو بھارت کی بی جے پی قیادت والی سابقہ مخلوط حکومت میں نائب وزیرخارجہ رہ چکے ہیں، نیشنل کانفرنس کارکنوں کو بتایا ’یہ الیکشن آسان نہیں ہونگے کیونکہ ہمیں دو بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ ایک بائیکاٹ کا مسئلہ ہے۔ دوسرا مسئلہ ان لوگوں کا جو ہمارے مقابلے میں الیکشن لڑینگے۔‘ اگست میں شروع ہوئی نئی عوامی تحریک کے دوران بعد ہندنواز جماعتوں کو عوام کا سامنا کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ، کیونکہ امرناتھ شرائن کے لیے جنگلات کی زمین شرائن بورڑ کو منتقل کئے جانے کے بعد حکومت اور حکومت نواز سیاسی گروپوں کے خلاف ہمہ گیر سطح پر عوامی غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے۔ آزادی کے حق میں کم از کم چار بڑے اجتماعات اور باون ہلاکتوں کے بعد عوامی رجحان کو انتخابات کے حق میں کرنا ہندنواز گروپوں کے لیے واقعی ایک چیلنج ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا پاکستانی تاجر وفد سری نگر میں10 October, 2008 | انڈیا کشمیر:منموہن کی آمد پر مظاہرے10 October, 2008 | انڈیا کشمیر پر زرداری کے بیان کاخیرمقدم06 October, 2008 | انڈیا آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||