کشمیر پر زرداری کے بیان کاخیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اس کا دلی میں پر جوش انداز میں خیر مقدم کیا گیا ہے اور تقریباً سبھی اخبارات نے اس خبر کو صفحہ اول پر جگہ دی ہے۔ ہندوستان کے وزیر مملکت وزیر خارجہ آنند شرما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’یہ بیان پاکستان کی اس پالیسی سے مختلف ہے جس میں وہ شدت پسندوں کو جہادی کہتا رہا ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔‘ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی کشمیر پر زرداری کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان راجیو پرتاپ سنگھ روڈی نے کہا کہ ’اس بیان سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو کم کرنےمیں مدد ملے گی، اس سے ہمیں ان امن مذاکرات کی یاد تازہ ہوتی ہے جس کی شروعات اٹل بہاری واجپئی نے کی تھی۔‘ دو روز قبل آصف علی زرداری نے امریکی اخبار وال سٹریٹ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ نہیں رہا اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں شدت پسند مجاہد آزادی نہیں بلکہ دہشتگرد ہیں۔ ہندوستان میں بیشتر اخبارات نے بھی مسٹر زرداری کے بیان کو صفحہ اول پر بڑی بڑی ہیڈ لائنز کےساتھ شائع کیا ہے۔ ٹائمز آف نڈیا کی یہ پہلی سرخی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ زرداری کے اس بیان سے جس قدر بھارتی دلوں میں جوش پیدا ہوگا اسی قدر پاکستانی دلوں میں ہلچل پیدا ہوگی۔ ’ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کے کسی بڑا رہنما نے ہندوستان کے موقف کی تائید کی ہو۔‘ انڈین ایکسپریس کی بھی یہی سرخی ہے جس نے لکھا ہے کہ آئی ایس آئی میں تبدیلی امریکی انتظامیہ کے دباؤ کے تحت کی گئی ہے لیکن آئی ایس آئی میں کشمیر کے حوالے سے تبدیلی نہیں آئےگی۔ اخبار نے زرداری کے بیان پر مسلم لیگ نون کے رد عمل کو بھی شائع کیا ہے۔ ہندی اخبار نوبھارت ٹائمز نے آصف علی زرداری کی ایک بڑی تصویر شائع کی ہے اور ان کے بیان کی وجوہات بتائی ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ بیان کہ ہندوستان پاکستان کے لیے کبھی خطرہ نہیں رہا اس کی روایتی پالیسی کے عین بر عکس ہے۔’ پاکستان اس وقت گہری مصیبت میں ہے اور زرداری نے اپنے آپ کو لبرل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ انہیں ( امریکہ) کی مدد چاہیے، انہیں یہ بھی احساس ہے کہ بھارت کے ساتھ ٹکراؤ مہنگا پڑ رہا ہے اور پاکستان اسے جاری رکھنے کی حالت میں نہیں ہے، امریکہ میں صدارتی امید واروں نے پاکستان کے تئیں سخت رویہ اپنایا ہے اور زرداری اپنے ملک کی شبیہہ بدلنے پر مجبور ہیں۔‘
اخبار ہندوستان اور دینک جاگرڑ نے بھی آصف علی زرداری کے بیان کو پہلے صفحہ پر جگہ دی ہے۔ جن ستہ نے وال سٹریٹ کو دیےگئے انٹریو کے تمام اہم نکات شائع کیے ہیں جس میں طالبان گے خلاف جنک اور آئی ایس ائی کے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔ ادھر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں علحیدگی پسند رہنماؤں نے زرداری کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور وادی کے ان کے دیگر ساتھی زرداری کے بیان کی مذمت اور اسے پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔ مسٹر گیلانی نے کہا کہ ’ زرداری امریکہ کے دباؤ میں ایسا کر رہے ہیں، وہ امریکہ اور بھارت دونوں کو خوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ کشمیر کے شدت پسندوں کو دہشت گرد بتانے سے آزادی کی تحریرک کمزور پڑنے والی نہیں ہے۔‘ بیشتر ٹیلی ویژن چینلز اور دیگر ایلکٹرانک میڈیا میں بھی آصف علی زرداری کے بیان کو نشر کیا گیا ہے اور اس پر تبصرے ہورہے ہیں۔ کئی ویب سائٹ پر اس بارے میں قارئین کی رائے طلب کی گئی۔ |
اسی بارے میں ’زرداری اپنے الفاظ تبدیل کریں‘05 October, 2008 | پاکستان بھارت کبھی خطرہ نہیں رہا: زرداری05 October, 2008 | پاکستان ’مسئلہ کشمیر کاحل بعد میں کرلیں گے‘02 March, 2008 | انڈیا زرداری کے بیان پر کشمیری ناراض03 March, 2008 | انڈیا زرداری کی ’خوشخبری‘19 September, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||