’زرداری اپنے الفاظ تبدیل کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ صدر آصف زرداری سے امریکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو کے دوران بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد میں مصروف عناصر کو دہشتگرد قرار دینے کے بیان کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ وال سٹریٹ جرنل کے کالم نویس بریٹ اسٹیفنس کو دیے گئے انٹرویو میں اس حوالے سے بی بی سی اردو کے کاشف قمر سے بات کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم ان سے ضرور کہیں گے کہ وہ اپنے الفاظ تبدیل کریں۔ ٹھیک ہے وہ(آصف زرداری) ہمارے ملک کے صدر ہیں لیکن بیان دینے اور الفاظ کے انتخاب کے معاملے میں شاید ابھی انہیں تجربے سےگزرنا باقی ہے‘۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جس طرح دنیا بھر میں عسکریت پسند تحریکوں کو دہشتگرد کہہ دیا جاتا ہے ممکنہ طور پر صدر زرداری نے اسی ذیل میں ایسا کہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں اور کشمیری مجاہدین کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیشہ پاکستان نے بھارت کے مظالم کو ریاستی دہشتگردی کا نام دیا ہے اور ان کی قربانیوں کو جدوجہدِ آزادی کا نام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آئے روز جو واقعات پیش آتے ہیں وہ وہاں کے عوام کا داخلی معاملہ ہے اور ان کی داخلی سوچ ہے جو ہمیشہ سے پروان چڑھتی چلی آ رہی ہے۔ اس سوال پر کہ ایسے وقت میں جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لوگ پاکستان کی حمایت میں جلوس نکال رہے ہیں اور نعرے بازی کر رہے ہیں، اسے کشمیریوں کا داخلی معاملہ قرار کیوں قرار دے رہے ہیں، مولا نافضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے وابستگی کی خواہش کے حوالے سے ایک سوچ ہے لیکن ان کی تحریک کی قیادت روزمرہ کے معاملات پر پاکستان سے ڈکٹیشن نہیں لیتی تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے نقطۂ نظر سے لاتعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کا یہ کہنا کہ بھارت پاکستان کے لیے کبھی بھی خطرہ نہیں رہا موجودہ اور مستقبل کے حالات کے تناظر میں ایک خیرسگالی بیان ہے۔ فضل الرحمان کے مطابق پاکستانی فوج کے ایک ایک سپاہی کے لیے دشمن سے مراد بھارت ہے تاہم اب دونوں ممالک نیک نیتی سے دوستی کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں اور صدر زرادی کا بیان بھی اس جذبے کے تحت دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی جانب سے بھارت کے لیے نرم الفاظ کا استعمال اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان بھارت سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ |
اسی بارے میں امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر اتفاق25 September, 2008 | پاکستان ’بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ‘22 September, 2008 | پاکستان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب16 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||