BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 October, 2008, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زرداری اپنے الفاظ تبدیل کریں‘
کشمیر کمیٹی کے سربراہ
پاکستان کے عوام کشمیریوں اور کشمیری مجاہدین کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں
پاکستانی پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ صدر آصف زرداری سے امریکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو کے دوران بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد میں مصروف عناصر کو دہشتگرد قرار دینے کے بیان کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

وال سٹریٹ جرنل کے کالم نویس بریٹ اسٹیفنس کو دیے گئے انٹرویو میں
صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرگرم مسلح افراد ’دہشت گرد‘ ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہندوستان پاکستان کے لیے کبھی بھی خطرہ نہیں رہا ہے‘۔

اس حوالے سے بی بی سی اردو کے کاشف قمر سے بات کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم ان سے ضرور کہیں گے کہ وہ اپنے الفاظ تبدیل کریں۔ ٹھیک ہے وہ(آصف زرداری) ہمارے ملک کے صدر ہیں لیکن بیان دینے اور الفاظ کے انتخاب کے معاملے میں شاید ابھی انہیں تجربے سےگزرنا باقی ہے‘۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جس طرح دنیا بھر میں عسکریت پسند تحریکوں کو دہشتگرد کہہ دیا جاتا ہے ممکنہ طور پر صدر زرداری نے اسی ذیل میں ایسا کہا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں اور کشمیری مجاہدین کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیشہ پاکستان نے بھارت کے مظالم کو ریاستی دہشتگردی کا نام دیا ہے اور ان کی قربانیوں کو جدوجہدِ آزادی کا نام دیا ہے۔

 ہم ان سے ضرور کہیں گے کہ وہ اپنے الفاظ تبدیل کریں۔ ٹھیک ہے وہ(آصف زرداری) ہمارے ملک کے صدر ہیں لیکن بیان دینے اور الفاظ کے انتخاب کے معاملے میں شاید ابھی انہیں تجربے سےگزرنا باقی ہے
فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آئے روز جو واقعات پیش آتے ہیں وہ وہاں کے عوام کا داخلی معاملہ ہے اور ان کی داخلی سوچ ہے جو ہمیشہ سے پروان چڑھتی چلی آ رہی ہے۔

اس سوال پر کہ ایسے وقت میں جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لوگ پاکستان کی حمایت میں جلوس نکال رہے ہیں اور نعرے بازی کر رہے ہیں، اسے کشمیریوں کا داخلی معاملہ قرار کیوں قرار دے رہے ہیں، مولا نافضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے وابستگی کی خواہش کے حوالے سے ایک سوچ ہے لیکن ان کی تحریک کی قیادت روزمرہ کے معاملات پر پاکستان سے ڈکٹیشن نہیں لیتی تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے نقطۂ نظر سے لاتعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا یہ کہنا کہ بھارت پاکستان کے لیے کبھی بھی خطرہ نہیں رہا موجودہ اور مستقبل کے حالات کے تناظر میں ایک خیرسگالی بیان ہے۔ فضل الرحمان کے مطابق پاکستانی فوج کے ایک ایک سپاہی کے لیے دشمن سے مراد بھارت ہے تاہم اب دونوں ممالک نیک نیتی سے دوستی کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں اور صدر زرادی کا بیان بھی اس جذبے کے تحت دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی جانب سے بھارت کے لیے نرم الفاظ کا استعمال اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان بھارت سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔

’انڈیا خطرہ نہیں تھا‘
صدر زرداری کا امریکی اخبار کو انٹرویو
اسی بارے میں
کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد