BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 September, 2008, 01:05 GMT 06:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر اتفاق
صدر زرداری نے بھارت کی اقتصادی ترقی کو منموہن سنگ کی کوششوں کا ثمر قرار دیا

پاکستان کے صدر آصف زرداری اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات میں طے پایا ہے کہ پاکستان اور بھارت تین ماہ کے اندر امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔

اقوام متحدہ کے تریسٹھویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم منموہن سنگھ اور آصف زرداری کے درمیان نیویارک کے ملینیم ہوٹل میں ہونی والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والی ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے امن مذاکرات کے رکے ہوئے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ اگلے تین ماہ میں ملاقات کریں گے اور تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کے پانچویں دور کی تاریخ طے کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اب تک ہونے والے چار دور کے مزاکرات کے نتائج پر بھی گفتگو کی۔

ملاقات کے بعد آصف زرداری نے کہا کہ وہ وزیراعظم منموہن سنگھ سے انتہائی متاثر ہوئے ہیں اور انڈیا میں جو اقتصادی ترقی ہوئی وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موہون منت ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستان اقوام متحدہ میں جانے کا حق رکھتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ صدر زرداری سے کشمیر اور دہشتگردی سمیت تمام اہم مسائل اور دونوں ملکوں کے درمیاں تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔

 پاکستان مسئلہ کشمیر کو دوطرف بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستان اقوام متحدہ میں جانے کا حق رکھتا ہے۔
آصف زرداری

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے پانی کے مسئلے پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس حوالے سے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ صدر زرداری سے سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ پانی کے مسئلے پر بات چیت ہوئی ہے۔

بھارتی وزیراعظم کیساتھ ملاقات سے قبل صدر آصف زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیاں ایک انتہائي اہم مسئلہ ہے اور کشمیر میں اٹھنے والی حالیہ احتجابی لہر مقامی لوگوں کی تحریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جو امن کا پیغام دیا تھا اور وہ بینظیر بھٹو کے فلسفے کو عمل تک ضرور لے جائيں گے۔

آصف علی زرداری جمعرات کو اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کر رہے ہیں۔ نیویارک میں بی بی سی کے نمائندے حسن مجتبیٰ کے مطابق صدر آصف زرداری کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وکلاء کی تنظیم پاکستانی ایڈووکیٹس فار ہیومن رائیٹس نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تاحال غیر بحالی کیخلاف اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کے باہر ایک مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد