BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2008, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری کی ’خوشخبری‘

آصف علی زرداری حامد کرزئی
آصف علی زرداری نے نو ستمبر کو حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد کہا کہ کشمیر کے بارے خوشخبری ملے گی

’کشمیریوں کو بھارتی انتخابات سے قبل خوشخبری دی جائےگی۔‘

جب کشمیر میں یہ خبر پہنچی تو بیشتر لوگوں نے پہلے اسے ہنسی میں اڑا دیا پھر آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کیا زرداری کی بات پر یقین کر لیا جائے؟


پاکستان کے حکمرانوں کی، چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین، اکثر کشمیری کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے۔ کیا معلوم سننے والا فورا برہم ہوجائے۔ اور کسے معلوم کہ وہ کس تنظیم سے تعلق رکھتا ہو؟

سن نوے کی مسلح تحریک کے بعد کوئی پاکستان کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرسکتا ہے۔

کشمیریوں کو بخوبی احساس ہے کہ ساٹھ سال کی تاریخ میں پاکستان نے ان کے لیے کافی کچھ کیا اور سہا۔

کشمیر کے باعث بھارت سے کبھی دوستی نہیں ہوسکی، پاکستان کو اپنے’ایک بازو‘ سے محروم ہونا پڑا۔۔۔ مسلح تحریک میں بھارتی الزام کے تحت تن من دھن سے مدد کرنے کے باوجود کشمیر کو آزاد نہیں کراسکا۔

مگر شاید اب پاکستان ان حالات سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہے۔

حالیہ دنوں میں جب کشمیر میں پرامن مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان کو اسکی ٹائمنگ راس نہیں آئی۔

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان
ایک تو ملک میں جمہوری سیاست کے بکھرے تانے بانے سنبھالنے کی کوشش ہورہی تھی اور دوسری طرف طالبان نے اسکے پچھواڑے میں جو اودھم مچا رکھا ہے اس پر قابو پانے میں ساری فوجی مشینری مصروف عمل نظر آ رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کشمیر کے معاملے پر کتنا سنجیدہ ہے اسکا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو پارلیمان میں ان کی غیرموجودگی میں کشمیر کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا جاتا ہے اور خود مولانا صاحب عمرہ پر ہوتے ہیں۔

حالانکہ چند بیانات جاری کرکے حکومت نے باور کرانے کی بڑی کوشش کی کہ وہ کشمیر کو بھولی نہیں، نئی نئی جمہوریت آئی ہے، سیاست کو مستحکم کرنا ہے، طالبان سے فراغت پانی ہے۔۔۔ کشمیر ہماری شہ رگ دوبارہ بن سکتا ہے۔

بہت سے کشمیریوں کو پاکستانی حکمرانوں کی کسی بات کا اب یقین نہیں ہوتا۔

بھارتی سیاست دان پاکستان کی تنگدستی اور کشمیریوں کے خدشات پر قہقہے لگارہے ہیں۔ انہیں اطمینان ہے کہ طالبان سے ابھی فراغت پانے کا سوال ہی نہیں اور کشمیر میں جاری شورش یا مظاہروں کو زندہ رکھنے کی پاکستان کم سے کم اس وقت سنجیدہ کوشش نہیں کرے گا۔

لائن آف کنٹرول پر حالیہ مارچ کے وقت یہ تجربہ خوب رہا۔ لوگوں کا جم غفیر بھارتی فوج کے سائے میں ایل او سی پر فروٹ بیچنے کے لۓ از خود راہداری کھولنے کے لیے مارچ کر رہا ہے اور پاکستان چیں بھی نہیں کر رہا ہے۔۔۔ بعض فروٹ گروورس ایک دوسرے سے چہ مہ گویاں کرنے لگے ’یہ کیسی جمہوریت آگئی جو کشمیر سے بے حس ہوگئی ہے‘۔ فروٹ گروورس کو امید تھی کہ ان کے فروٹ کے لیے شاید پاکستان نے ٹرکیں تیار رکھیں ہونگی۔

 بھارت اگر سمجھتا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کے پیش نظر کشمیری پاکستان سے دور ہوگۓ ہیں تو وہ بھارت کے قریب بھی نہیں ہوئے ہیں
ڈاکٹر حمیدہ، کشمیر
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کشمیر کے بھارت نواز سیاست دانوں نے زرداری کی ’خوشخبری‘ کو خوب بیچنا شروع کردیا۔ بعض نے بلند بانگ دعوے بھی کیے اور کہا کہ زرداری کی باتوں سے یہ محسوس کیاگیاہے کہ پاکستان کشمیر سے اب اپنی جان چھڑانے کے حق میں ہے اور موجودہ حالات کے پس منظرمیں کشمیریوں کو حقیقت پسندی سے کام لے کر اپنا فیصلہ خود کرنا ہوگا، جو جنرل پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے میں پنہاں ہے اور جسکی زرداری حمایت کرتے ہیں۔

مگر ہندو قوم پرستوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی جو کشمیر میں ’جیوے جیوے پاکستان‘ اور سبز پرچم کو دیکھ کر پاکستان کی جان چھڑانے کی پالیسی کا یقین نہیں کرتے۔

جب ہندو جماعتیں جموں میں کیسری پرچم اٹھا کر ’بم بم بولے‘ کے نعرے لگاتی ہیں تو کشمیری ’جیوے جیوے پاکستان‘ اور سبز پرچم سے اسکا جواب دے کر حساب برابر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ زرداری کی خوشخبری کا دائرہ ایل او سی پر تجارتی راہداری دینے تک محدود ہوگا جس پر بھارت اور پاکستان کی حکومتیں کسی حد تک تیار ہوگئی ہیں اور دونوں ممالک اب کشمیر پر لڑائی کے حق میں نہیں۔

بقول کشمیری دانشور ڈاکٹر حمیدہ ’یہ قوم اب سمجھ گئی ہے کہ اسے اپنی لڑائی خود لڑنی ہے، بھارت اگر سمجھتا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کے پیش نظر کشمیری پاکستان سے دور ہوگۓ ہیں تو وہ بھارت کے قریب بھی نہیں ہوئے ہیں۔‘ بھارتی اخباروں کے مطابق ’ستر فیصد آبادی آزادی کے حق میں ہے جس کی خوشخبری وہ زرداری سے نہیں بلکہ ان سے سننا چاہتے ہیں جو بندوق کے سائے میں گزشتہ ساٹھ برس سے پر امن جہدو جہد میں مصروف عمل ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد