زرداری کی ’خوشخبری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کشمیریوں کو بھارتی انتخابات سے قبل خوشخبری دی جائےگی۔‘ جب کشمیر میں یہ خبر پہنچی تو بیشتر لوگوں نے پہلے اسے ہنسی میں اڑا دیا پھر آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کیا زرداری کی بات پر یقین کر لیا جائے؟ پاکستان کے حکمرانوں کی، چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین، اکثر کشمیری کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے۔ کیا معلوم سننے والا فورا برہم ہوجائے۔ اور کسے معلوم کہ وہ کس تنظیم سے تعلق رکھتا ہو؟ سن نوے کی مسلح تحریک کے بعد کوئی پاکستان کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرسکتا ہے۔ کشمیریوں کو بخوبی احساس ہے کہ ساٹھ سال کی تاریخ میں پاکستان نے ان کے لیے کافی کچھ کیا اور سہا۔ کشمیر کے باعث بھارت سے کبھی دوستی نہیں ہوسکی، پاکستان کو اپنے’ایک بازو‘ سے محروم ہونا پڑا۔۔۔ مسلح تحریک میں بھارتی الزام کے تحت تن من دھن سے مدد کرنے کے باوجود کشمیر کو آزاد نہیں کراسکا۔ مگر شاید اب پاکستان ان حالات سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں جب کشمیر میں پرامن مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان کو اسکی ٹائمنگ راس نہیں آئی۔
حالانکہ چند بیانات جاری کرکے حکومت نے باور کرانے کی بڑی کوشش کی کہ وہ کشمیر کو بھولی نہیں، نئی نئی جمہوریت آئی ہے، سیاست کو مستحکم کرنا ہے، طالبان سے فراغت پانی ہے۔۔۔ کشمیر ہماری شہ رگ دوبارہ بن سکتا ہے۔ بہت سے کشمیریوں کو پاکستانی حکمرانوں کی کسی بات کا اب یقین نہیں ہوتا۔ بھارتی سیاست دان پاکستان کی تنگدستی اور کشمیریوں کے خدشات پر قہقہے لگارہے ہیں۔ انہیں اطمینان ہے کہ طالبان سے ابھی فراغت پانے کا سوال ہی نہیں اور کشمیر میں جاری شورش یا مظاہروں کو زندہ رکھنے کی پاکستان کم سے کم اس وقت سنجیدہ کوشش نہیں کرے گا۔ لائن آف کنٹرول پر حالیہ مارچ کے وقت یہ تجربہ خوب رہا۔ لوگوں کا جم غفیر بھارتی فوج کے سائے میں ایل او سی پر فروٹ بیچنے کے لۓ از خود راہداری کھولنے کے لیے مارچ کر رہا ہے اور پاکستان چیں بھی نہیں کر رہا ہے۔۔۔ بعض فروٹ گروورس ایک دوسرے سے چہ مہ گویاں کرنے لگے ’یہ کیسی جمہوریت آگئی جو کشمیر سے بے حس ہوگئی ہے‘۔ فروٹ گروورس کو امید تھی کہ ان کے فروٹ کے لیے شاید پاکستان نے ٹرکیں تیار رکھیں ہونگی۔ مگر ہندو قوم پرستوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی جو کشمیر میں ’جیوے جیوے پاکستان‘ اور سبز پرچم کو دیکھ کر پاکستان کی جان چھڑانے کی پالیسی کا یقین نہیں کرتے۔ جب ہندو جماعتیں جموں میں کیسری پرچم اٹھا کر ’بم بم بولے‘ کے نعرے لگاتی ہیں تو کشمیری ’جیوے جیوے پاکستان‘ اور سبز پرچم سے اسکا جواب دے کر حساب برابر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ زرداری کی خوشخبری کا دائرہ ایل او سی پر تجارتی راہداری دینے تک محدود ہوگا جس پر بھارت اور پاکستان کی حکومتیں کسی حد تک تیار ہوگئی ہیں اور دونوں ممالک اب کشمیر پر لڑائی کے حق میں نہیں۔ بقول کشمیری دانشور ڈاکٹر حمیدہ ’یہ قوم اب سمجھ گئی ہے کہ اسے اپنی لڑائی خود لڑنی ہے، بھارت اگر سمجھتا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کے پیش نظر کشمیری پاکستان سے دور ہوگۓ ہیں تو وہ بھارت کے قریب بھی نہیں ہوئے ہیں۔‘ بھارتی اخباروں کے مطابق ’ستر فیصد آبادی آزادی کے حق میں ہے جس کی خوشخبری وہ زرداری سے نہیں بلکہ ان سے سننا چاہتے ہیں جو بندوق کے سائے میں گزشتہ ساٹھ برس سے پر امن جہدو جہد میں مصروف عمل ہیں۔‘ | اسی بارے میں کشمیر: پاکستان عدم مداخلت خوش آئند15 August, 2008 | انڈیا کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات01 September, 2008 | انڈیا کشمیری نوجوانوں میں بیداری بڑھی ہے22 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||