BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 00:08 GMT 05:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات

کشمیری مظاہرین(فائل فوٹو)
’حریت قیادت کو قید میں کر رکھ کر حکومت ان سے اپنی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتی ہے جیسا ماضی میں کئی بار ہوا‘
شرائن بورڈ کو دوبارہ زمین دینے کے حکومت کے فیصلے سے جموں کی ہندو قوم پرست جماعتوں کو ضرور تشفی ہوئی ہوگی مگر جموں میں موجود سیکولر اور اعتدال پسند قوتوں کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ اس معاملے نے ریاست کے دونوں حصوں، مذہبوں اور برادریوں میں ایسی دوری پیدا کر دی ہے جو شاید صدیوں تک دور نہیں کی جا سکے گی۔

سن سنتالیس کے وہ زخم اب تک لوگ نہیں بھولے جب برصغیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ جموں کے مسلمان اس کی لپیٹ میں آ کر نہ صرف ہجرت پر مجبور ہوگئے بلکہ سینکڑوں خاندان مذہبی منافرت کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ وہ تلخ اور دل دہلانی والی یادیں ہزاروں خاندانوں کے لیےاب بھی ذہنی انتشار کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

’اندرونی خودمختاری‘
 ’سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ بھارت کشمیر کی آزادی کا تصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ بھارت دوسری تقسیم پر کبھی تیار نہیں ہوگا۔ اندرونی خود مختاری ہی بات چیت کا محور ہوسکتی ہے
زمین کے تنازعے کو لے کر فرقہ پرست جماعتوں نے ریاست کو حقیقت میں مذہبی منافرت کا اکھاڑہ بنا دیا۔ بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ اصل میں انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا بہانہ تلاش کر رہی تھیں۔

کانگریسں کے دور اقتدار میں جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادیں کمزور ہوگئیں کیونکہ کانگریس نے اپنی حکومت کی تمام تر توجہ جموں کے ترقیاتی کاموں پر مرکوز کی اور وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد جموں والوں کو اس سرزمین کا قابل سپوت ثابت کرنے کی فکر میں تھے مگر اس کا برا اثر بی جے پی پر پڑا اور آہستہ آہستہ گلی کوچوں میں اس کے نشان غائب ہوتے گئے۔

کانگریسں کو یقین ہوگیا کہ اگلے انتخابات میں اس نےکامیابی یقینی بنا لی ہے جو بی جے پی کے لیے ایک بڑا چلینج تھا۔ جب شرائن بورڈ کا تنازعہ کھڑا ہوا تو بی جے پی کو جموں میں ایک نئی زندگی عطا ہوئی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ایک بڑا ایشو بھی۔

کانگریں کو احساس ہے کہ کشمیر کبھی اس کا حلقہ انتخابات نہیں رہا حالانکہ غلام نبی آزاد نے دلی والوں کو خوب آس دلائی تھی کہ وہ آخر کار کشمیری عوام کو کانگریسی بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

’قید کر کے مذاکرات‘
 حریت پسند قیادت گرفتاریوں سے پہلے مذاکرات پر تیار نہیں تھی مگر مبصرین کے مطابق انہیں قید میں کر رکھ کر حکومت ان سے اپنی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتی ہے جیسا ماضی میں کئی بار ہوا ہے۔ اس کا مقصد اگلے انتخابات سے پہلے کانگریس پوزیشن مضبوط کرنا ہے
کانگریس نے جموں اور لداخ کو اپنے دور اقتدار میں ترقیاتی کاموں کا محور بنایااور عوام کو خوش کرنے کے لیے کافی سرمایا لگایا۔ بی جے پی اس کا توڑ کرنے کی تاک میں تھی اور شرائن بورڈ کا خدا بھلا کرے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کی جان میں جان آگئی اور کانگریس ساکھ بچانے کی فکرمیں ہے۔

سیاستدان ہوں یا بیوروکریسی حکومت ہو یا فوج بعض اوقات اپنی ساکھ بچانے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں اور اسے جائز کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ مثلا اپنی نااہلی پر پردے ڈالنے کے لیے عوامی مظاہروں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ ہفتوں کرفیو نافذ رکھاجاتاہے۔ سیاسی قیادت کو گرفتار کر کے ’کچھ لو کچھ دو‘ پر منوانے کی کوششیں کی جاتیں ہیں۔

حریت پسند قیادت گرفتاریوں سے پہلے مذاکرات پر تیار نہیں تھی مگر مبصرین کے مطابق انہیں قید میں کر رکھ کر حکومت ان سے اپنی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتی ہے جیسا ماضی میں کئی بار ہوا ہے۔ اس کا مقصد اگلے انتخابات سے پہلے کانگریس پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔

مبصرین کے بقول ’سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ بھارت کشمیر کی آزادی کا تصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ بھارت دوسری تقسیم پر کبھی تیار نہیں ہوگا۔ اندرونی خود مختاری ہی بات چیت کا محور ہوسکتی ہے‘۔

سوال یہ ہے کہ کیا حریت رہنما ’کچھ لو کچھ دو‘ کا فارمولہ منظور کریں گے اور اگر اس کے لیے تیار بھی ہوگئے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ سن ترپن کو دوہرایا نہیں جائے گا کیونکہ بیشتر کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ساٹھ سال کی کشمیر کی سیاسی تاریخ میں وعدہ خلافی میں بھارت نے سب کو مات کردیا ہے۔

کیا حریت قیادت پھر تاریخی رسک لینے پر تیار ہوگی؟

کشمیر سے آزادی؟
کشمیر چھوڑنے کا وقت آگیا: انڈین مبصرین
نوجوان پیش پیش
وادی سے جانے والے نوجوان بھی آگے آگے
کشمیر میں احتجاج، آزادی کے لیے دعاتصاویر میں
کشمیر میں احتجاج، آزادی کے لیے دعا
پولیس اہلکارکشمیر میں کرفیو
وادی میں کشیدہ حالات اور مظاہرے: تصاویر
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد