کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شرائن بورڈ کو دوبارہ زمین دینے کے حکومت کے فیصلے سے جموں کی ہندو قوم پرست جماعتوں کو ضرور تشفی ہوئی ہوگی مگر جموں میں موجود سیکولر اور اعتدال پسند قوتوں کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ اس معاملے نے ریاست کے دونوں حصوں، مذہبوں اور برادریوں میں ایسی دوری پیدا کر دی ہے جو شاید صدیوں تک دور نہیں کی جا سکے گی۔ سن سنتالیس کے وہ زخم اب تک لوگ نہیں بھولے جب برصغیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ جموں کے مسلمان اس کی لپیٹ میں آ کر نہ صرف ہجرت پر مجبور ہوگئے بلکہ سینکڑوں خاندان مذہبی منافرت کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ وہ تلخ اور دل دہلانی والی یادیں ہزاروں خاندانوں کے لیےاب بھی ذہنی انتشار کا سبب بنی ہوئی ہیں۔
کانگریسں کے دور اقتدار میں جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادیں کمزور ہوگئیں کیونکہ کانگریس نے اپنی حکومت کی تمام تر توجہ جموں کے ترقیاتی کاموں پر مرکوز کی اور وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد جموں والوں کو اس سرزمین کا قابل سپوت ثابت کرنے کی فکر میں تھے مگر اس کا برا اثر بی جے پی پر پڑا اور آہستہ آہستہ گلی کوچوں میں اس کے نشان غائب ہوتے گئے۔ کانگریسں کو یقین ہوگیا کہ اگلے انتخابات میں اس نےکامیابی یقینی بنا لی ہے جو بی جے پی کے لیے ایک بڑا چلینج تھا۔ جب شرائن بورڈ کا تنازعہ کھڑا ہوا تو بی جے پی کو جموں میں ایک نئی زندگی عطا ہوئی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ایک بڑا ایشو بھی۔ کانگریں کو احساس ہے کہ کشمیر کبھی اس کا حلقہ انتخابات نہیں رہا حالانکہ غلام نبی آزاد نے دلی والوں کو خوب آس دلائی تھی کہ وہ آخر کار کشمیری عوام کو کانگریسی بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
سیاستدان ہوں یا بیوروکریسی حکومت ہو یا فوج بعض اوقات اپنی ساکھ بچانے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں اور اسے جائز کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ مثلا اپنی نااہلی پر پردے ڈالنے کے لیے عوامی مظاہروں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ ہفتوں کرفیو نافذ رکھاجاتاہے۔ سیاسی قیادت کو گرفتار کر کے ’کچھ لو کچھ دو‘ پر منوانے کی کوششیں کی جاتیں ہیں۔ حریت پسند قیادت گرفتاریوں سے پہلے مذاکرات پر تیار نہیں تھی مگر مبصرین کے مطابق انہیں قید میں کر رکھ کر حکومت ان سے اپنی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتی ہے جیسا ماضی میں کئی بار ہوا ہے۔ اس کا مقصد اگلے انتخابات سے پہلے کانگریس پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ مبصرین کے بقول ’سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ بھارت کشمیر کی آزادی کا تصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ بھارت دوسری تقسیم پر کبھی تیار نہیں ہوگا۔ اندرونی خود مختاری ہی بات چیت کا محور ہوسکتی ہے‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا حریت رہنما ’کچھ لو کچھ دو‘ کا فارمولہ منظور کریں گے اور اگر اس کے لیے تیار بھی ہوگئے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ سن ترپن کو دوہرایا نہیں جائے گا کیونکہ بیشتر کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ساٹھ سال کی کشمیر کی سیاسی تاریخ میں وعدہ خلافی میں بھارت نے سب کو مات کردیا ہے۔ کیا حریت قیادت پھر تاریخی رسک لینے پر تیار ہوگی؟ |
اسی بارے میں کشمیری نوجوانوں میں بیداری بڑھی ہے22 August, 2008 | انڈیا کریک ڈاؤن، شبیر شاہ بھی گرفتار29 August, 2008 | انڈیا ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی خاموش ہوگئی30 August, 2008 | انڈیا زمین کی دوبارہ منتقلی پر احتجاج 31 August, 2008 | انڈیا کشمیر: زمین پھر شرائن بورڈ کے حوالے31 August, 2008 | انڈیا ’ کشمیر پر یو این تشویش بلاجواز‘28 August, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، فائرنگ، ہلاکتیں27 August, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||