BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 August, 2008, 06:51 GMT 11:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمین کی دوبارہ منتقلی پر احتجاج

جموں (فائل فوٹو)
جموں میں امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کی ریلی کے شرکاء اور پولیس کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئی ہیں

جموں میں ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد ریاستی انتظامیہ کی جانب سے امرناتھ یاترا بورڈ کو آٹھ سو کنال زمین کی الاٹمنٹ کی واپسی کے فیصلے کی منسوخی کے بعد سرینگر اور وادی کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک شہری کی ہلاکت اور کم از کم پندرہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

حکام نے وادی کے بعض قصبوں، پائیں شہر کے بیشتر علاقوں اور جموں شہر میں بھی حفاظتی اقدامات کے تحت کرفیو لگا دیا گیا ہے جبکہ کچھ علاقوں میں پہلے سے نافذ کرفیو میں دیے جانے والے طویل وقفے کو مختصر کر دیا گیا ہے۔

جموں سے بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق زمین کی شرائن بورڈ کو واپسی کے فیصلے کا اعلان اتوار کی صبح حکومتی پینل اور امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کے درمیان معاہدے کے بعد کیا گیا۔

سرکاری پینل کے سربراہ ڈاکٹر ایس ایس بلوریا نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے آٹھ سو کنال زمین امرناتھ شرائن بورڈ کے استعمال کے لیے مختص کر دی ہے جو ماضی میں امرناتھ یاترا کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی ملکیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس سے پہلے وادی اور سرینگر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں شدید احتجاج کے بعد حکومت نے یہ الاٹمنٹ منسوخ کردی تھی۔

سنگھرش سمیتی کے کنوینر لیلا کرن شرما نے کہا کہ انہیں اب اس سے زیادہ مِل گیا جو پہلی بار زمین کی شرائن بورڈ کو منتقلی کے وقت دیا گیا تھا۔

امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی نے اتوار کو جموں کے سٹیڈیم میں’جیت‘ کا جشن منانے کے لیے ریلی کا اہتمام بھی کیا اور اس دوران ریلی کے شرکاء اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ریلی کے شرکاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس نے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی۔

سنگھرش سمیتی نے جموں میں’فتح ریلی‘ نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے

ری الاٹمنٹ کی خبر عام ہوتے ہی سرینگر کے پائیں شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد نے جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس اور نیم فوجی عملے نے لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کے گولوں سے منتشر کر دیا۔ تاہم راجوری کدل میں مشتعل نوجوانوں کی ایک ٹولی پر نیم فوجی عملے کے اہلکاروں نے فائرنگ کے نتیجہ میں عینی شاہدین کے مطابق ایک نوجوان ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے۔

مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکڑ سلیم اقبال نے ایک نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’زخمیوں میں سے تین کی حالت نازک ہے‘۔ اس کے علاوہ بارہمولہ، سوپور، شوپیاں اور اسلام آباد سے بھی عوامی ردعمل کی اطلاعات ملی ہیں۔

ادھر جموں میں حکام کے مطابق ان اطلاعات کے بعد ’سخت کرفیو‘ نافذ کیا گیا ہے کہ امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کے رہنما کو ہلاک کرنے کی دھمکی دینے والے شدت پسند گروپ علاقے میں دیکھے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خبریں ہیں جموں کے اردگرد کم از کم تین مقامات پر شدت پسند گروپ چھپے ہوئے ہیں۔

انتظامیہ نے علاقے میں صورتِ حال کو قابو کرنے کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔میجر جنرل ڈّی ایل چوہدری کا کہنا ہے کہ ’فوج جموں اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں گشت کر رہی ہے۔آنے اور جانے کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سخت کرفیو نافذ کرتے ہوئے دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے‘۔

 زمین کی شرائن بورڈ کو واپسی کے فیصلے کا اعلان اتوار کی صبح حکومتی پینل اور امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کے درمیان معاہدے کے بعد کیا گیا۔ سنگھرش سمیتی زمین کی واپسی کے لیے جموں میں احتجاج کر رہی تھی

ری الاٹمنٹ کے فیصلے پر حریت کانفرنس رہنماؤں، پروفیسر عبدالغنی بٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون، فضل حق قریشی اور آغا سید حسن نے ے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ پروفیسر عبدالغنی بٹ نے بی بی سی کوبتایا،’ہم لوگ اجتماعی طور ہی فیصلہ لیں گے۔ ہم اس فیصلہ کے مضمرات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی ردعمل دیں گے‘۔

وادی کے ہند نواز سیاسی رہنما، جن میں دو سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور مفتی محمد سعید قابل ذکر ہیں، پہلے ہی الگ الگ بیانات میں زور دے کر کہ چکے ہیں کہ، ’سمیتی کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ یکطرفہ نہیں ہونا چاہیئے، اس کے لیے وادی کے لوگوں کو بھی اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے‘۔

جموں و کشمیر میں زمین کا تنازعہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب کشمیر کے جنوب میں پہاڑی سلسلے پر واقع ہندوؤں کے بھگوان شِو سے منسوب ایک غار’امرناتھ گپھا‘ کی سالانہ یاترا سے قبل ریاستی گورنر کی سربراہی میں کام کرنے والے امرناتھ شرائن بورڑ کی درخواست پر ریاستی کابینہ نے بال ٹل کے قریب آٹھ سو کنال اراضی بورڑ کو منتقل کردی۔

اس فیصلے کے خلاف وادی کشمیر کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور کہا گیا کہ انیس سو نوے کے اوائل کے بعد پہلی بار کشمیری پہلی بار اتنے متحرک نظر آئے۔ زمین کی منتقلی کے فیصلہ کو بعد ازاں واپس لے لیا گیا تھا جس پر جموں میں ہندو نے احتجاج کیا تھا۔

حقیقت کیا ہے؟
جموں میں جھڑپ کی اصل حقیقت کیا ہے؟
ٹریک ٹو ڈپلومیسی
کشمیر میں ’پرو ایکٹو‘ پالیسی کا نقصان
کشمیر سے آزادی؟
کشمیر چھوڑنے کا وقت آگیا: انڈین مبصرین
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
پولیس اہلکارکشمیر میں کرفیو
وادی میں کشیدہ حالات اور مظاہرے: تصاویر
کشمیر میں سبز پرچم
کشمیر میں پاکستانی عدم مخالفت خوش آئند قدم
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد