کشمیر: کرفیو، فائرنگ، ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ کے تازہ واقعات میں مزید دو شہری ہلاک ہوگئے ہیں اور چار روز سے جاری کرفیو میں بدھ کو دو گھنٹے کا وقفہ دیا گیا۔ اس طرح اتوار کی شب سے نافذ کرفیو کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ اس سے قبل اتوار کو سرینگر میں غلام محمد حجام عرف راکٹ نائی، بانڈی پورہ میں شاہد احمد پہلو، بشیر بہار اور نسیمہ اشرف، نارہ بل میں شوکت احمد کھانڈے، پلوامہ میں سولہ سالہ طالب علم باسط بشیراور ہندواڑہ کی خاتون فہمیدہ فیاض مظاہروں کے دوران پولیس، فوج اور نیم فوجی عملے کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ ہندواڑہ کے ایک رہائشی غلام نبی نے چشم دید واقعہ بیان کرتے ہوئے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ظہر کی نماز میں لوگوں کو کرفیو کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں، ہندواڑہ کے بانڈے محلہ میں کرفیو کی سختیوں پر لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کیا جبکہ نوجوانوں نے نعرے بازی کی۔ اس پر مقای فوجی یونٹ کے جوانوں نے علی محمد بانڈے کو ماراپیٹا ۔ اس پر مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے، لیکن فوج نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس میں علی محمد کا بڑا بھائی چالیس سالہ محمدیوسف بانڈے موقع پر ہی ہلاک ہوگیا‘۔
غلام نبی کا کہنا ہے کہ واقعہ کے فوراً بعد مقامی ایس پی محمد رفیق وکیل نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا مشورہ دیا تو مشتعل نوجوانوں نے اس پر بھی حملہ کیا، جسکے نتیجہ میں انہیں چوٹیں آئیں۔ مقای ڈی ایس پی غلام جیلانی نےبتایا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں کیس رجسٹر کیا ہے، اور محمد یوسف کی ہلاکت کی تفتیش کرینگے۔ اس دوران بڈگام ضلع کے سوئبگ گاؤں میں بھی اسی طرح کے ایک واقعہ میں فوج نے مشتعل مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں ہلال احمد میر نامی شہری ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے۔ جہلم ویلی ہسپتال کے ڈاکٹروں کو کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے محمد امین وانی نامی شہری کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سوئبگ میں شام کو دو گھنٹے کی ڈھیل کے دوران مقامی نوجوان محمد رفیق کو فوج نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جس پر سینکڑوں لوگوں نے احتجاج کیا۔
ایک مقامی باشندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’مشتعل مظاہرین نے فوج اور ہندوستان کے خلاف شدید نعرے بازی کی، اس پر فوج نے رفیق کو رہا کردیا لیکن رفیق کے رہا ہوتے ہی بعض نوجوانوں نے فوج کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔ اس پر فوج نے فائرنگ کی جس کی وجہ سے ہلال موقع پر ہی ہلاک ہوگیا‘۔ اِدھر سرینگر اور بعض دیگر اضلاع میں بدھ کو کرفیو میں مرحلہ وار نرمی کی گئی، جس کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے روزہ مرہ استعمال کی اشیا کی خریداری کی۔ لیکن اس اثنا میں کئی مقامات پر لوگوں نے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے، جن پر پولیس اور نیم فوجی عملے نے اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے اور ہوا میں فائرنگ بھی کی گئی۔ ان واقعات میں پولیس کے مطابق سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اس دوران میوہ تاجروں کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی، جو موجود عوامی تحریک کی نمائندگی کررہی ہے، نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کو مختلف ضلعی صدر مقامات پر اجتماعی طور نماز ادا کریں۔ |
اسی بارے میں کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ18 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||