BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر سے آزادی کا وقت؟

عوامی تحریک میں پاکستان کا ہاتھ نہیں: ہندوستانی مبصرین
ہندوستان میں پہلی مرتبہ کھل کر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کشمیر سے علیحدگی اختیار کرنے کا وقت آگیا ہے؟

یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اب تک اس نظریہ کو چیلنج کرنا کہ’ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے‘ غداری کے مترادف سمجھا جاتا رہا ہے۔

لیکن امرناتھ شرائن بورڈ کو محکمہ جنگلات کی اراضی کی منتقلی اور پھر واپسی سے وادی میں جو وسیع البنیاد عوامی تحریک شروع ہوئی ہے، اس کے پس منظر میں بعض ہندوستانی مبصرین روایتی سوچ اور اب تک ناکام رہنے والی کشمیر پالیسی پر نظرثانی کی وکالت کررہے ہیں۔

کشمیر کو ہندوستان سے اور ہندوستان کو کشمیر سے آزادی حاصل نہیں کرلینی چاہیے
اروندھتی رائے

سماجی کارکن اور مصنف اروندھتی رائے کا کہنا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ’ کشمیر کو ہندوستان سے اور ہندوستان کو کشمیر سے آزادی حاصل نہیں کرلینی چاہیے؟‘

مبصرین کی جانب سے جو دلائل پیش کیے جارہے ہیں، ان کے بنیادی طور پر دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ کشمیری عوام کی آرزوؤں کو کچلنا ہندوستان کی جمہوری اقدار سے ہم آہنگ نہیں، اور دوسرا یہ کہ ساٹھ سال سے جاری یہ تنازعہ ہندوستان کے پیروں کی بیڑی بن گیا ہے جس سے چھٹکارا پانا اس کے اپنے حق میں ہوگا۔

انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مدیر ویر سنگھی کے مطابق ’اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ گزشہ چند مہینوں سے ہمیں جو بتایا جارہا تھا کہ حالات معمول پر لوٹ رہے ہیں وہ سب غلط تھا۔۔۔ ہمیں امن کی ظاہری علامتیں تو نظر آتی ہیں لیکن وہ ناراضگی اور غصہ نہیں جو کشمیریوں( کے دلوں) میں ہے۔ہم کچھ بھی کر لیں، حالات بہتر نہیں ہوتے۔‘

 اگر ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں تو ہم ان لوگوں پر کیسے حکمرانی کرسکتے ہیں جو ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے؟
ویر سنگھوی

’اگر ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں تو ہم ان لوگوں پر کیسے حکمرانی کرسکتے ہیں جو ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے؟‘

ویر سنگھوی کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ریاست میں ریفرینڈم کرایا جانا چاہیے۔’ اگر وہ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔ اگر نہیں تو انہیں زبردستی روکنے کا ہمیں کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔‘

’۔۔۔ اب اس حل کے بارے میں سوچنا ہوگا جس کے بارے میں پہلے سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔‘

کالم نگار جگ سوریا کہتے ہیں کہ ’کشمیر سے علیحدگی کا وقت آگیا ہے۔۔۔ وادی کشمیر سے جو آواز اٹھ رہی ہے وہ پاکستان کی نہیں، خود کشمیریوں کی ہے اور پیغام بالکل واضح ہے کہ ہندوستان کو اب کشمیر کو آزاد کر دینا چاہیے۔‘

جگ سوریا کہتے ہیں کہ ’ضرورت پڑی تو ہندوستان کشمیر کے بغیر بھی سلامت رہ سکتا ہے، لیکن ہندوستان کے وجود کی بنیاد جمہوریت اور جمہوری انحراف کا حق اور آزادی ہے، اور اس بنیاد کے بغیر وہ قائم نہیں رہ سکتا۔‘

 ہم نے ساٹھ سال پہلے کشمیروں سے ریفرینڈم کا وعدہ کیا تھا۔ اب یہ ریفرینڈم کرانےکا وقت آگیا ہے۔ ۔۔اور اس ریفرینڈم کے نتائج کا فیصلہ کشمیری عوام کو ہی کرنے دیا جائے
سوامی ناتھن ائیر

’سید علی شاہ گیلانی مہاتما گاندھی نہیں لیکن اگر انہوں نے اور ان کے حامیوں نے کشمیر میں عدم تعاون اور ستیہ گرہ کے وہ ہتھیار اپنا لیے جو برطانیہ سے آزادی کے لیے استعمال کیے گئےتھے تو کیا ہوگا؟ کیا ہندوستان اس پر امن تحریک کے خلاف طاقت کا استعمال کر پائے گا جیسا کہ برطانیہ نے مجاہدین آزادی کے خلاف کیا تھا۔‘

ٹائمز آف انڈیا کے کنسلٹنگ ایڈیٹر سوامی ناتھن انکلیشریا ائیر کے مطابق ’چھ دہائیوں کی کوششوں کے بعد بھی کشمیروں کی ناراضگی پچھلے کسی بھی دور سے زیادہ ہی نظر آتی ہے اور اب مجھے ایسا لگنے لگا ہے کہ ہندوستان کشمیر پر اسی طرح حکمرانی کرنا چاہتا ہے جیسے برطانیہ نے ہندوستان پر کی تھی۔‘

سوامی ناتھن ائیر ہندوستان سے کشمیرکے الحاق کو بھی نئے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

’اگر زمینی حقائق بدل جائیں تو ایسے معاہدے بےکار ہوجاتے ہیں۔۔۔ ہندوستانی راجہ مہاراجوں نے بھی برطانوی راج کے ساتھ الحاق کے معاہدے کئے تھے، لیکن جب آزادی کی تحریک شروع ہوئی تو ان دستاویزات کی کوئی اہمیت باقی نہ رہی۔‘

’ہم نے ساٹھ سال پہلے کشمیروں سے ریفرینڈم کا وعدہ کیا تھا۔ اب یہ ریفرینڈم کرانےکا وقت آگیا ہے۔ ۔۔اور اس ریفرینڈم کے نتائج کا فیصلہ کشمیری عوام کو ہی کرنے دیا جائے۔‘

کشمیر پر بحث کا یہ ایک نیا پہلو ہے جس کا جواب بھی پوری شدت سے دیا جا رہا ہے۔ دلیل وہی پرانی ہے کہ کشمیر چھوڑ دیا گیا تو ملک کے ہر حصے میں علیحدگی کی تحریک جنم لے گی اور یہ کہ ملک کو ایک مرتبہ پھر مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

کشمیر کی عوامی تحریک اور تحریک پر یہ بحث، دونوں ہی پورے زور شور سے جاری ہیں اور وقت ہی بتائے گا کہ کشمیر کی اسی کنال زمین ہندوستان کے لیے کتنی مہنگی ثابت ہو تی ہے؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد