کشمیر: یکجہتی مارچ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنماؤں کی کال پر ہزاروں لوگوں نے وادی کے مختلف اطراف سے ’یکجہتی مارچ‘ شروع کیا ہے۔ علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے متوازی دھڑوں کی مشترکہ کارڑنیشن کمیٹی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ جمعہ کی نماز اجتماعی طور سرینگر کے وسیع و عریض عید گاہ میں ادا کرینگے۔ جمعہ کی صبح سے ہی شمالی اور جنوبی کشمیر کے علاوہ سرینگر اور بڈگام اضلاع کی مساجد میں لاوڑ سپیکر کے ذریعے لوگوں کو ’موبلائز‘ کیا گیا اور بڑی و چھوٹی گاڑیوں میں درجنوں قافلے عیدگاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بارہمولہ کے رہائشی غلام حسن کے مطابق نماز فجر کے فوراً بعد مقامی بستیوں کے نوجوانوں نے مسافر بسوں، ٹرکوں، لوڑ کیرئروں اور دیگر گاڑیوں کو قرآنی عبارت لکھے ہوئے سبز بینروں سے سجانے کا کام شروع کیا۔ مسٹر حسن نے کہا: ’سینکڑوں گاڑیاں صبح دس بجے ہی بارہمولہ سے چل پڑیں۔ قافلے اسلام ، آزادی اور پاکستان کے حق میں شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ ان قافلوں نے سبز ہلالی پرچم تھام رکھا تھا اور ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ پاکستان کا قومی ترانہ بجا رہے تھے۔‘ بارہمولہ کے بازاروں اور سرینگر۔مظفرآباد شاہراہ کے دونوں طرف جگہ جگہ خواتین نے میوہ جات اور مشروبات کا اہتمام رکھا تھا۔ جنوبی کشمیر کے رہائشی شبیر علی کے مطابق وہاں بھی اسلام آباد، کولگام، پلوامہ اور دیگر علاقوں سے بڑے بڑے قافلے سرینگر کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کے مناظر جنوبی اور وسطی کشمیر کی شاہراہوں پر بھی دیکھنے کو ملے۔ جنوبی کشمیر کے شبیر علی نے بتایا کہ کئی مقامات سے لوگ بس اڈے تک پہنچنے کے لیے گھوڑا گاڑی کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ بعض دیگر بستیوں سے لوگ شاہراہ تک پہنچنے کے لیے سفر مختصر کرتے ہوئے کشتیوں سے دریا عبور کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کارڈنیشن کمیٹی نے سوموار، منگل اور بُدھ کو لوگوں سے معمول کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔ دلچسپ امر ہے کہ اس دوران نوجوانوں نے جمعہ کی یکجہتی مارچ کی خاطر بینر اور پرچم بنائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کارڈنیشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ’عیدگاہ چلو‘ کی کال ’قومی یکجہتی‘ کے مظاہرے کی خاطر دی تھی۔ اس دوران آج تعلیمی اور تجارتی ادارے بند رہے اور معمول کی سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔ |
اسی بارے میں پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں08 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||