ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | یو این مارچ کے دوران علیحدگی پسند گروپوں کے قائدین مشترکہ طور پر شریک ہوئے ہیں |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے آر پار منقسم کشمیری خاندان کی سہولت کے لئے تین سال قبل شروع کی گئی سرینگر۔مظفرآباد بس سروس بحال ہوگئی ہے۔ یہ سروس ریاست ميں گزشتہ ہفتے شروع ہوئے پرتشدد مظاہروں کے بعد عارضی طور پر معطل کی گئی تھی۔ اس بس سروس کو سات اپریل دو ہزار پانچ کو ہندوستان کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سِنگھ نے سرینگر سے جھنڈی لہرا کر روانہ کیا تھا۔ یہ سروس پچھلے ہفتے وادی میں 'مظفرآباد چلو' تحریک کے دوران فوجی کارروائی میں ہوئی ہلاکتوں کے باعث معطل ہوگئی تھی۔ ہندوپاک حکومتوں کے درمیان ایک معاہدے کے بعد کنٹرول لائن کے آر پار رہنے والے منقسم کنبوں کے لئے یہ ہفتہ وار بس سروس اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر شروع کی گئی تھی۔  | حالات بہتر  چودہ اگست کو بس نہیں جاپائی، کیونکہ گیارہ اگست مظفرآباد بس سروس شروع ہوگئی تھی، اور بارہمولہ ضلع میں ہلاکتوں کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔لیکن اب حالات میں بہتری ہے اور مظفرآباد روڑ کو بس سروس کے لئے محفوظ کردیا گیا ہے  بصیر احمد |
بارہمولہ کے ڈپٹی کمیشنر بصیر احمد خان نے بی بی سی کو بتایا ’چودہ اگست کو بس نہیں جاپائی، کیونکہ گیارہ اگست مظفرآباد بس سروس شروع ہوگئی تھی، اور بارہمولہ ضلع میں ہلاکتوں کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔لیکن اب حالات میں بہتری ہے اور مظفرآباد روڑ کو بس سروس کے لئے محفوظ کردیا گیا ہے۔‘ واضح رہے کہ ہندو عقیدے سے منسلک امرناتھ گپھا کے یاتریوں کی سہولت کے لئے ہندو شرائن بورڈ کو قریب ایک سو ایکڑ جنگلاتی زمین کی منتقلی کا حکمنامہ وادی میں نوروزہ تحریک کے بعد منسوخ کیا گیا تو جموں میں بی جے پی کی حمایت یافتہ امرناتھ سنگھرش سمیتی نے’زمین کی واپسی‘ عنوان سے پورے جموں خطے میں تحریک چھیڑ دی، جس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد بھی ہوا۔ اس دوران سنگھرش سمیتی کے رضاکاروں نے جموں۔سرینگر شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے مال بردار گاڑیوں کو سرینگر آنے اور سرینگر سے میوہ بردار گاڑیوں کو جموں جانے پر پابندی عائد کردی۔ اس ناکہ بندی کے خلاف وادی میں دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کی گئی جس کے دوران گیارہ اگست کو لاکھوں لوگوں نے مظفرآباد روڑ عبور کرنے کے لئے لانگ مارچ کیا۔ |