کشمیر سے ہندو مزدوروں کا انخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے تقریباً ڈیڑھ ہزار غیر کشمیری وادی چھوڑ کر اتوار کو جموں پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کی جانب سے یہ دھمکی ملنے کے بعد کیا ہے جس میں ان سے کہا گيا تھا کہ وہ کشمیر چھوڑ کر چلے جائيں نہیں تو اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائيں۔ کشمیر میں غیر کشمیری مزدور سنیچر کی رات بسوں میں چڑھ کر فوری طور پر جموں کے ریلوے سٹیشن پہنچ گئے تاکہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔ بیشتر مزدوروں کا تعلق ریاست بہار اور جھارکھنڈ سے ہے۔ بہار کے سوانگ علاقے سے تعلق رکھنے والے سنتوش کمار گزشتہ دو برس سے سری نگر میں عمارتوں کو رنگنے کا کام کررہے تھے۔ وہ ہردن ڈیڑھ سو روپے کماتے تھے۔ گزشتہ دنوں کشمیر میں ہونے والے ہند مخالف احتجاج کے واقعات کے بارے میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’ ہم نے زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا جب ایک ہجوم ہند مخالف اور پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کررہے تھے اور ہم سے کہہ رہے تھے کہ تم ہندوستانیوں کے لیے کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ فوراً یہ جگہ چھوڑ دو ورنہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ ‘ انکا مزید کہنا تھا کہ ’وہ جگہ پاکستان بن گئی ہے۔ ہمیں نہیں لگتا ہے وہ اب انڈیا کہ ایک حصہ ہے۔ ‘
بہار کے سیتامڑھی علاقے کے ورندر کمار کا کہنا ہے ’ وہ ہمارا نام پوچھتے تھے اور کہتے تھے کہ بہاری ہندؤں کو مارو۔ وہ ہم سے فوراً کشمیر چھوڑنے کو کہتے تھے۔ ایک مقامی بشیر احمد نے مجھے دس ہزار روپے دینے تھے لیکن اس نے کہا کہ تم ہندوستانی بھاگ جاؤ یہاں سے تمہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔‘ سری نگر کی ایک دکان پر کام کرنے والے جھارکھنڈ کے راجش کمار نے بتایا ’وہ کہتے تھے یہ پاکستان ہے انڈیا نہیں ہے۔‘ سوانگ کے ہی ایک اور باشندے راج کشور نے بتایا کہ ’ایک ہجوم آزادی اور پاکستان حمایتی نعرے لگا رہا تھا اور یوم آزادی پر لال چوک میں انڈیا کا پرچم ہٹا کر پاکستان کا پرچم لہرا دیا‘۔ سخت گير علیحدگي پسند رہنما سید علی شاہ گلانی نے 29 جولائی 2007 کو کہا تھا کہ بہاری مزدور کشمیر چھوڑ دیں اس دوران شدت پسندوں نے بعض حملے کیے تھے جس میں آدھا درجن بہاری مزدور ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں جموں میں کشیدگی، فوج طلب02 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ، جموں میں ہڑتال جاری 31 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا ساتواں دن30 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا تیسرا دن26 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: جموں میں کرفیو24 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی07 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||