BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 August, 2008, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر سے ہندو مزدوروں کا انخلاء

جموں (فائل فوٹو)
جموں کشمیر میں پر تشدد مظاہرے چند ہفتوں سے جاری ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے تقریباً ڈیڑھ ہزار غیر کشمیری وادی چھوڑ کر اتوار کو جموں پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کی جانب سے یہ دھمکی ملنے کے بعد کیا ہے جس میں ان سے کہا گيا تھا کہ وہ کشمیر چھوڑ کر چلے جائيں نہیں تو اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائيں۔

کشمیر میں غیر کشمیری مزدور سنیچر کی رات بسوں میں چڑھ کر فوری طور پر جموں کے ریلوے سٹیشن پہنچ گئے تاکہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔ بیشتر مزدوروں کا تعلق ریاست بہار اور جھارکھنڈ سے ہے۔ بہار کے سوانگ علاقے سے تعلق رکھنے والے سنتوش کمار گزشتہ دو برس سے سری نگر میں عمارتوں کو رنگنے کا کام کررہے تھے۔ وہ ہردن ڈیڑھ سو روپے کماتے تھے۔

گزشتہ دنوں کشمیر میں ہونے والے ہند مخالف احتجاج کے واقعات کے بارے میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’ ہم نے زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا جب ایک ہجوم ہند مخالف اور پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کررہے تھے اور ہم سے کہہ رہے تھے کہ تم ہندوستانیوں کے لیے کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ فوراً یہ جگہ چھو‍ڑ دو ورنہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ ‘

انکا مزید کہنا تھا کہ ’وہ جگہ پاکستان بن گئی ہے۔ ہمیں نہیں لگتا ہے وہ اب انڈیا کہ ایک حصہ ہے۔ ‘

کشمیر چھوڑو
 ہم نے زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا جب ایک ہجوم ہند مخالف اور پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کررہے تھے اور ہم سے کہہ رہے تھے کہ تم ہندوستانیوں کے لیے کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ فوراً یہ جگہ چھو‍ڑ دو ورنہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔
سنتوش کمار، مزدور

بہار کے سیتامڑھی علاقے کے ورندر کمار کا کہنا ہے ’ وہ ہمارا نام پوچھتے تھے اور کہتے تھے کہ بہاری ہندؤں کو مارو۔ وہ ہم سے فوراً کشمیر چھوڑنے کو کہتے تھے۔ ایک مقامی بشیر احمد نے مجھے دس ہزار روپے دینے تھے لیکن اس نے کہا کہ تم ہندوستانی بھاگ جاؤ یہاں سے تمہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔‘

سری نگر کی ایک دکان پر کام کرنے والے جھارکھنڈ کے راجش کمار نے بتایا ’وہ کہتے تھے یہ پاکستان ہے انڈیا نہیں ہے۔‘

سوانگ کے ہی ایک اور باشندے راج کشور نے بتایا کہ ’ایک ہجوم آزادی اور پاکستان حمایتی نعرے لگا رہا تھا اور یوم آزادی پر لال چوک میں انڈیا کا پرچم ہٹا کر پاکستان کا پرچم لہرا دیا‘۔

سخت گير علیحدگي پسند رہنما سید علی شاہ گلانی نے 29 جولائی 2007 کو کہا تھا کہ بہاری مزدور کشمیر چھوڑ دیں اس دوران شدت پسندوں نے بعض حملے کیے تھے جس میں آدھا درجن بہاری مزدور ہلاک ہوئے تھے۔

سرینگر میں مظاہرےکشمیرسراپااحتجاج
کشمیر میں مظاہرے، غم و غصہ
بھارتی فوجیفوج کی چڑھائی
سری نگر میں صرف دو دن میں بیس افراد ہلاک
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
خاک اور خون
کشمیر: مظاہرے اور ہلاکتیں، تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد