کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے مرکزی عیدگاہ میں جمعہ کو لاکھوں لوگوں نے ’ہندوستان سے آزادی‘ کےلیے اجتماعی طور جمعہ کی نماز ادا کی۔ ’یکجہتی مارچ‘ عنوان سے اس اجتماع کی کال علیحدگی پسند اتحاد اور تاجر تنظیموں کی حمایت یافتہ کوآرڈینیشن کمیٹی نے دی تھی۔ یہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران وادی کشمیر میں ہونے والا تیسرا بڑا اجتماع ہے۔ اس سے قبل سولہ اور اٹھارہ اگست کو بھی پانپور اور سرینگر میں بھاری عوامی اجتماعات منعقدہوئے۔ جمعے کے یکجہتی مارچ میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے حصہ لیا جو ہندوستان کے خلاف اور آزادی و پاکستان کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔
اجتماع میں لوگوں کا جوش و جذبہ اس قدر شدید تھا کہ سید علی گیلانی، میرواعظ عمر، محمد یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ اور دیگر حریت رہنما تقریر بھی نہ کرسکے۔ تاہم انہوں نے مزید دو روز یعنی سنیچر اور اتوار کو ہڑتال جبکہ سوموار کو ’لال چوک چلو‘ نام سے ایک اور مارچ کا پروگرام پیش کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھاری تعداد میں تعینات فوج اور نیم فوجی اہلکار برلب سڑک ان قافلوں کو دیکھ رہے تھے۔ یاد رہے گیارہ اگست کو جب علیٰحدگی پسندوں نے میوہ تاجروں کی حمایت سے ’مظفرآباد چلو‘ تحریک کا آغاز کیا تو اس روز مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی عملے نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سینیئر حریت رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت اکیس افراد ہلاک ہوگئے۔
اس کے بعد کئی روز تک مظاہرین پولیس و نیم فوجی عملے کے ساتھ متصادم رہے اور ان جھڑپوں میں اب تک غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق بتیس افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ ایک رضاکار ڈاکڑ سلیم اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً بارہ سو افراد زخمی ہیں۔ لیکن شیخ عزیز کے آبائی قصبہ پانپور میں سولہ اگست کو بھاری تعزیتی اجتماع اور اٹھارہ اگست کے ’حق خود ارادیت مارچ‘ کے دوران پولیس اور نیم فوجی عملے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائنن نے جمعرات کو حکومتِ ہند کی سکیورٹی اور سراغ رساں ایجنسیوں کے ساتھ وابستہ افسروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وادی کا دورہ کیا اور یہاں صوبائی گورنر این این ووہرا کے ساتھ حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ سرکاری طور اس اجلاس کی تفاصیل کا خلاصہ نہیں بتایا گیا تاہم مقامی اخبارات نے ’راج بھون ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ حکومت نے مظاہرین کے تئیں ’نرم روی‘ کی پالیسی پر تب تک کاربند رہنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک یہ مظاہرے قابو میں رہینگے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق اس اجلاس میں مظاہرین کی طرف سے ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کا بھی نوٹس لیاگیا۔ مارچ میں راجوری، پونچھ اور ڈوڈہ سے بھی لوگوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ اس دوران جنوبی کشمیر سے آنے والے قافلے میں شامل ایک نوجوان، نثار احمد بٹ کی اُس وقت موت ہوگئی جب گاڑی کی چھت پر سوار پرجوش نوجوانوں کی ایک ٹولی ہائی ٹینشن بجلی تار کے ساتھ الجھ گئی۔ حادثہ میں دیگر چار نوجوان زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے۔شمالی کشمیر کے پٹن علاقہ میں بھی لوگوں سے بھرا ایک ٹرک الٹنے سے بیس افراد زخمی ہوگئے۔ واضح رہے پٹن میں ہی اٹھارہ اگست کے ’حق خودارادیت مارچ‘ کے دوران ایسے ہی ایک حادثہ میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ |
اسی بارے میں کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں08 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||