BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 August, 2008, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: کرفیو سے انسانی بحران

وادی میں کرفیو
کرفیو کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات تک پہنچ گئی ہے

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کی صبح سے ہی سختی سے نافذ کرفیو نے انسانی بحران کی صورت اختیار کرلی ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں اور مظاہروں میں زخمی ہونےوالے سینکڑوں افراد کی نگہداشت میں بھی طبی عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس دوران سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں سے باشندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سوموار کی شب ہندوستان کی مرکزی پولیس یا سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

دریں اثنا کرفیو کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات تک پہنچ گئی ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار کی شام سے مختلف مقامات پر سی آر پی ایف نے بارہ ایمبولینس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ان میں سوار زخمیوں اور ان کے تیمارداروں کو زدوکوب کیا۔

مقامی ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں کو، جن کے ذریعہ زخمیوں، عام مریضوں اور ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کو ہسپتال پہنچایا جاتا ہے، حکومت کی طرف سے سیکورٹی فراہم کی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ سرینگر کے ہڈیوں اور جوڑوں کے مخصوص ہسپتال میں صرف سوموار کو تیس زخمیوں کو لایا گیا۔ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ زخمیوں میں صرف سترہ افراد کو گولیاں لگی تھیں جبکہ تیرہ افراد کو راستے میں سی آر پی ایف کی مارپیٹ سے چوٹیں آئیں تھیں۔

سرینگر کے مرکزی طبی ادارہ مہاراجہ ہری سنگھ میموریل ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ وسیم قریشی نے بی بی سی کو بتایا ’صرف سوموار کو پینتیس زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے بیس افراد کو گولیاں لگی تھیں، جبکہ پندرہ افراد مارپیٹ میں زخمی ہوئے تھے۔‘

وادی کے معروف سرجن ڈاکٹر محمد رمضان میر نے بتایا کہ ایمبولینسوں پر راستے میں حملوں کی وجہ سے دوردراز علاقوں میں زخمیوں کو مقامی طور ہی علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو خطرناک بھی ہے۔

انہوں نے انتظامیہ کی طرف سے عدم تعاون کی شکایت کرتے ہوئے بتایا’ کرفیو نافذ کرتے وقت ریڈیو اور ٹی وی پر اعلان کیا گیا کہ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کا شناختی کارڑ ہی کرفیو پاس تصور ہوگا، لیکن جب ہمارا عملہ باہر آیا تو ان کو مارا پیٹا گیا۔‘

’ کرفیو کا مطلب ہے سڑک پر کوئی نقل و حرکت نہ ہو‘

شمالی قصبہ پٹن سے تصدق احمد نے بتایا ’ہائیگام اور سرینگر۔بارہمولہ شاہراہ کے کئی دوسرے مقامات پر نیم فوجی عملہ نے سفیدے کے درخت کاٹ کر انہیں شاہراہ کے آر پار پھیلا دیا ہے اور ان پر خار دار تار لگادی ہے۔ ایسے میں ایمبولنسوں کو واپس لوٹنا پڑتا ہے۔‘

کشمیر خطے کے ڈویژنل کمیشنر مسعود سامون نے اس سلسلے میں بتایا ’ہمیں بھی ایسی کچھ شکایات ملی ہیں۔ ہم نے متعلقہ افسروں کے ساتھ بات کی ہے، اب ایسا نہیں ہوگا۔ ہم نے پہلے ہی کہا ہے کہ ڈی سی آفس میں کرفیو پاس دیا جاتا ہے، طبی عملے کو چاہیئے کہ وہ ہم سے رابطہ کرے۔‘

واضح رہے اتوار کی شام سے ہی مظاہرین اور نیم فوجی عملے کے درمیان تصادم کے واقعات میں شدید طور پر زخمی ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد بتائی جاتی ہے جبکہ اس دوران دو خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پائین شہر کی رہنے والی ایک خاتون حاجرہ بیگم نے بتایا ’ہمارے لیے تو یہ قیامت ہے۔ شام ہوتے ہی سی آر پی والے دندناتے ہوئے گھروں میں گھس جاتے ہیں، ناشائستہ الفاظ کہتے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ میں سمجھ نہیں رہی ہوں کہ یہ لوگ چاہتے کیا ہیں۔‘

ایسی ہی زیادتیوں کی اطلاعات بارہمولہ، بانڈی پورہ، بجبہاڑہ اور پلوامہ سے بھی موصول ہورہی ہیں۔

سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی کا اس سلسلے میں کہنا ہے’ کرفیو کا مطلب ہے سڑک پر کوئی نقل و حرکت نہ ہو۔ لوگ ہمارے جوانوں کے سامنے نعرے بازی کرتے ہیں اور بعض اطلاعات ہیں کہ گھروں کے اندر سے پتھر مارے جاتے ہیں۔ جوانوں کو اکسایا جاتا ہے، لیکن پھر بھی ہم نے شکایات درج کی ہیں، ہم کوشش کررہے ہیں کہ امن و قانون بحال کرتے وقت عام لوگ محفوظ رہیں۔‘

زخمیوں کے علاج و معالجہ اور نیم فوجی عملہ کی مبینہ زیادتیوں کے علاوہ بھی لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

سرینگر سے شائع ہونے والے سبھی انگریزی اور اُردو اخبارات کی اشاعت معطل ہے، جبکہ مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہے۔ موبائل فون پر تحریری پیغام رسانی یا ایس ایم ایس سروس بھی روک دی گئی ہے۔

مقامی ٹی وی چینلوں پر خبروں کی نشریات پر سرکاری طور پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی ضروری خدمات (ایسینشل سروسز) بھی میسر نہیں ہیں۔ متعدد بستیوں کے ساتھ ساتھ کئی یتیم خانوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔

ڈویژنل کمیشنر مسٹر سامون نے اس صورتحال کو انسانی بحران قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ’ ہم سکیورٹی ایجنسیوں کےساتھ رابطے میں ہیں، صورتحال کا جائزہ لے کر ہی کوئی فیصلہ کیا جائےگا، تب تک کرفیو جاری رہے گا۔‘

سرینگر میں مظاہرےکشمیرسراپااحتجاج
کشمیر میں مظاہرے، غم و غصہ
کشمیر میں احتجاج، آزادی کے لیے دعاتصاویر میں
کشمیر میں احتجاج، آزادی کے لیے دعا
کشمیر سے آزادی؟
کشمیر چھوڑنے کا وقت آگیا: انڈین مبصرین
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
شیخ عبدالعزیزشیخ عبدالعزیز
’تحریک آزادیِ کشمیر کا نیا شہید‘
فائل فوٹووہ کہتے تھے۔۔۔۔
کشمیر چھوڑو۔ یہ پاکستان ہے انڈیا نہیں۔
خاک اور خون
کشمیر: مظاہرے اور ہلاکتیں، تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد