کریک ڈاؤن، شبیر شاہ بھی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے کئی روز سے روپوش علیحدگی پسند لیڈر شبیر احمد شاہ کو سرینگر کے نواحی علاقے سے گرفتار کر لیا ہے۔ مسٹر شاہ کو جمعہ کو جامع مسجد میں ہونے والی ایک احتجاجی ریلی سے ذرا قبل حراست میں لیا گیا۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس کا کہنا ہے’ شاہ صاحب کو کسی نامعلوم جگہ منقتل کیا گیا ہے۔‘ اس دوران سخت پہرے اور کرفیو کی وجہ سے جامع مسجد میں جمعہ کا اجتماع نہیں ہوسکا اور لوگوں نے مقامی بستیوں میں ہی نماز ادا کی۔ شبیر احمد شاہ پچھلے کئی روز سے روپوش تھے اور پولیس انہیں سرگرمی سے تلاش کر رہی تھی۔اس سلسلے میں سرینگر اور دیگر قصبوں میں کئی مقامات پر پولیس نے چھاپے بھی مارے۔ واضح رہے پولیس نے پہلے ہی سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک، محمد اشرف صحرائی اور خاتون رہنما آسیہ انداربی سمیت تقریباً سو علیحدگی پسند کارکنوں کوگرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں وادی میں گیارہ اگست سے جاری احتجاجی تحریک کو قابو کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی ہیں۔ اس طرح علیٰحدگی پسند قیاد ت میں جو بھی معروف نام ہیں وہ فی الوقت پولیس حراست میں ہیں۔ تاہم نعیم احمد خان اور مسرت عالم ابھی بھی روپوش ہیں اور پولیس ان کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس نے جنوبی اور شمالی کشمیر کے علاوہ پائین شہر میں بھی متعدد نوجوانوں کو ’پتھراؤ کرنے کی پاداش‘ میں حراست میں لے لیا ہے، تاہم ان میں سے بعض کو رہا کر دیا گیا ہے۔
جنوبی کشمیر میں منی بس ایسوسی ایشن کے صدر شبیر احمد راتھر نے بی بی سی کوبتایا ’ بجبہاڈہ میں فوج نے مسافر بسوں کے ڈرائیوروں کو کمیپ پر طلب کرکے ان سے گزشتہ دنوں ریلیوں میں بسیں فراہم کرنے پر پوچھ گچھ کی۔‘ شبیر کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی روز سے فوج ان بسوں کا استعمال کر رہی ہے۔ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ چوبیس اور پچیس اگست کی درمیانی شب سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کی گرفتاری کے ساتھ شروع ہوا۔ پچیس اگست کو محمد یٰسین ملک کو بھی حراست میں لے لیاگیا۔ اسی روز یہ رہنما لالچوک میں ’آزادی مارچ‘ کے عنوان سے ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے۔ اس دوران جمعہ کو رابطہ کمیٹی کی ’جامع مسجد‘ چلو کال کے پیش نظر پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے گرد و نواح کی بستیوں میں نیم فوجی عملے کی مزید نفری طلب کر کے پہرہ سخت کیا گیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کے ترجمان مسرت عالم نے بدھ کے روز ٹیلی فون کے ذریعہ خبر رساں اداروں کو بتایا تھا’جمعہ کو ہر ضلع صدرمقام پر اجتماعی طور جمعہ کی نماز ادا کی جائے گی، اور سرینگر کی جامع مسجد میں بھی اجتماع ہوگا۔‘ لیکن جعمہ کی صبح ہی جامع کے گرد نیم فوجی عملہ کی اضافی نفری تعینات کردی گئی۔ مقامی رہائشی غلام جیلانی نے بی بی سی کوبتایا’یہ پہلا موقعہ ہے کہ جامع مسجد میں نماز کی اجازت نہیں دی گئی۔‘ سینئر پولیس افسر وحید احمد، جو جامع مسجد علاقہ کے ایس پی ہیں، نے ’نماز پر پابندی‘ کے حوالے سے بتایا ’یہ نماز پر پابندی نہیں، بلکہ پرتشدد واقعات کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ آخر ہم لوگ امن و امان بھی تو لوگوں کےلئے ہی بحال کر رہے ہیں۔‘ مقامی لوگوں کے مطابق دیگر اضلاع میں بھی ’جمعہ مارچ‘ روکنے کےلیے جمعرات کو ہی مقامی خطیبوں کو مختلف کیمپوں پر طلب کیا گیا تھا۔ یاد رہے وادی میں اتوار کی صبح سے ہی سخت کرفیو نافذ ہے، جس کے دوران کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے اور پولیس، فوج و نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے اب تک دو خواتین اور ایک کم سن طالب علم سمیت نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ18 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||