امرناتھ بورڈ مخالف مظاہرے،ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں پیر کو امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کےخلاف ہونے والےمظاہروں کے دوران پولیس فائرنگ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کشیدگی کا سب سے زیادہ اثر پائین شہر کے جامع مسجد، نوہٹہ، صورہ، بہوری کدل، زینہ کدل، خانیار اور رعناواری میں ہے، جہاں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز کے بنکر منہدم کئے ہیں اور وہ پولیس اور نیم فوجی عملے کی گاڑیوں پر رک رک کر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ان علاقوں میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ شہر کے شمالی زون کے ایس پی بشیر احمد خان کا کہنا ہے کہ ’حالات کشیدہ تو ہیں لیکن قابو میں ہیں۔‘ شرائن بورڑ کی طرف سے زمین کے حصول کےخلاف پیر کی شام جامع مسجد کے قریب احتجاجی مظاہرین اور نیم فوجی عملہ سی آر پی ایف کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مظاہرین پر براہ راست فائر کیا۔ اس موقع پر تین مقامی لڑکے زخمی ہوگئے جن میں سے فیروز احمد راہ نامی نوجوان کی ہسپتال پہنچانے کے دوران موت واقع ہوگئی۔ جبکہ دوسرے نوجوان سرفراز احمد نے منگل کی صبح ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ تیسرے نوجوان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
فیروز احمد راہ کے جلوس جنازہ کو پولیس نے منگل کی صبح روکنے کی کوشش کی جس پر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے نواب بازار کے قریب نیم فوجی عملے کے دو بنکر منہدم کردیئے۔ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے اور ہوا میں شدید فائرنگ کی، جس سے پورے علاقے میں تناؤ پیدا ہوگیا۔ منگل کی صبح جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ’مزار شہداء‘ میں فیروز احمد کی تدفین کے بعد واپس لوٹ رہی تھی، تو سرفراز کی موت کی خبر نے انہیں مزید مشتعل کردیا ۔ اس دوران پولیس نے پورے پائین شہر میں گشت بڑھا دی ہے اور کئی مقامات پر گاڑیوں کی نقل وحرکت کو بھی کم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ تناؤ کی یہ صورتحال پیر کے روز اسوقت پیدا ہوگئی جب پائین شہر کی قدیم زیارت گاہ، خانقاہ معلیٰ سے لالچوک تک علیٰحدگی پسند رہنماء سید علی گیلانی کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا ، جس میں نوجوانوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ جلوس پر پولیس نے اشک آور گیس کے گولے داغے جس میں متعدد افراد کو چوٹیں آئیں۔ بعد ازاں شام کے وقت نوہٹہ میں جامع مسجد کے قریب نوجوانوں کی ایک ٹولی احتجاجی مظاہرہ کر رہی تھی کہ وہ نیم فوجی عملہ، سی آر پی ایف اہلکاروں کے ساتھ اُلجھ پڑی اس دوران گولی چلی جس کے نتیجہ میں تین مقامی لڑے زخمی ہوگئے، جن میں سے ابھی تک دو کی موت واقع ہوئی ہے۔ شرائن بورڑ کی طرف سے زمینوں کی حصولی کو علیٰحدگی پسند قیادت نے ’جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو زائل کرنے کی ایک سازش‘ قرار دے کر اس کے خلاف ہمہ گیر احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ہند نواز سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں جموں: اہم شدت پسند ہلاک28 May, 2008 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا کشمیر: دو شدت پسند ہلاک01 January, 2007 | انڈیا سری نگر: دو ہلاک، دو زخمی30 December, 2006 | انڈیا جھڑپ، دو شدت پسند ہلاک16 December, 2006 | انڈیا کشمیر میں’البدر کا کمانڈر‘ ہلاک15 December, 2006 | انڈیا کشمیر: 17 سالوں میں کتنے ہلاک؟09 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||