کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فوج اور پولیس کے ساتھ مختلف جھڑپوں کے دوران آٹھ مسلح شدت پسند ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک کو پولیس نے زندہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کشمیر کے شہری علاقوں میں انسداد تشدد کے لیے تعینات نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اعلیٰ افسر آئی جی گپتا نے جنوبی قصبہ ترال میں ہفتہ کو ایک کارروائی کے دوران چھ شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا ’پچھلے کئی دنوں سے مسلح شدت پسندوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں ہندوستانی زیرانتظام علاقے میں داخل ہوگئی ہیں لیکن ہم ان کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘ پولیس کے مطابق سرینگر کے جنوب میں واقع ترال قصبہ کے بالائی جنگلی خطہ لرو جاگیر میں دس مسلح شدت پسندوں کا گروپ ایک باغ میں منصوبہ بندی کر رہا تھا کہ مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس، فوج اور سی آرپی ایف نے مشترکہ آپریشن کے دوران باغ کوچاروں طرف سے گھیر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فورسز پر گولیاں چلائیں اور جوابی کارروائی میں چھ شدت پسند مارے گئے جن میں تین غیر کشمیری تھے اور سبھی کا تعلق عسکری تنظیم جیش محمد کے ساتھ تھا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر چار شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، تاہم انہیں تلاش کرنے کے لیے تقریباً پانچ کلومیٹر کے وسیع علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ہلاکتوں کی خبر پھیلتے ہی ترال قصبہ کی مختلف بستیوں سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد باشندوں نے شدت پسندوں کے حق میں جلوس نکالا، تاہم یہ جلوس پر امن رہا۔ اس دوران شمالی ضلع بانڈی پورہ کے کوٹا ستری جنگلات میں مقامی فوجی یونٹ نےمسلح شدت پسندوں کی کمین گاہ پر چھاپہ مارا اور اسق کے نتیجے میں گولہ باری شروع ہو گئی۔ اس جھڑپ میں پولیس کے مطابق سیالکوٹ پاکستان کا رہنے والا شدت پسند مطیع الرحمان عرف تنویر خالد مارا گیا۔ مقامی فوجی یونٹ کے بریگیڈئر یو کے گرونگ کےمطابق مطیع کا ساتھی رحیم اللہ جنگلی علاقے میں کہیں چھپ گیا ہے اور اسکی تلاش جاری ہے۔ اُدھر جموں صوبے کے پونچھ ضلع کے کوٹلی علاقے میں فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ مسلح شدت پسندوں کی طرف سے دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک شدت پسند کو ہلاک کردیا ہے۔
جموں میں مقیم ہندوستانی افواج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل ایچ ڈی گوسوامی نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کو پونچھ کے گھمبیر سیکٹر میں کنٹرول لائن پر لگی خاد دار تاروں سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کا رہنے والا ابو ثقلین نامی مسلح شدت پسند مارا گیا۔‘ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ فوج اور نیم فوجی دستوں نے دیگر دراندازوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ اس دوران شمالی ضلع کپوارہ میں فوج نے ایک مقامی شدت پسند کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوجی ترجمان کنرل منجندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’ہماری گشتی پارٹی نے معمول کی چیکنگ کے دوران کپوارہ میں ایک مقامی شدت پسند کوگرفتار کیا ہے۔ اس کی تحویل سے اسلحہ برآمد ہواہے۔‘ واضح رہے گزشتہ ہفتے جموں کے سانبہ سیکٹر میں ہندپاک عالمی سرحد پر دراندازی کی کوشش کے دوران دو شدت پسند مارے گئے تھے اور اس کے بعد سانبہ میں ہی شدت پسندوں نے فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے فیملی کوارٹرز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس میں چھ شہری اور دو فوجی مارے گئے تھے۔ دریں اثنا جمعہ کے روز ہندوستان کی سرحدی حفاظتی فورس یا بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل اے کے مترا نے جموں میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ کنٹرول لائن کے اُس پار چار سو مسلح شدت پسند ریاست میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں موقع کی تلاش ہے۔‘ |
اسی بارے میں کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک09 November, 2007 | انڈیا سرکاری اور غیر سرکاری یوم شہداء13 July, 2007 | انڈیا ’بیس ڈالر لے کر بم پھینکا تھا‘ 11 November, 2006 | انڈیا کشمیر: مسجد پر بم حملہ، 5 ہلاک10 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||