جموں جھڑپ کی اصل حقیقت کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے جموں خطے میں بدھ کو تقریباً بارہ گھنٹے تک جاری رہنے والے مشتبہ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس تصادم میں تین مشتبہ شدت پسندوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بدھ کی صبح پولیس اور فوج نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ایک گھر میں شدت پسند داخل ہو گئے ہیں اور انہوں نے چھ افراد کو یرغمال بنا لیا ہے، یرغمالیوں ميں چار بچے شامل ہے جن کی عمر دو سے نو برس ہے۔ لیکن فوج اور پولیس دونوں ہی اس سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے کہ ’ جن شدت پسندوں نے گھر والوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا وہ کیسےایک ایک کر کے باہر آتے گئے اور سکیورٹی فوجوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے رہے۔‘ اس کے جواب میں پولیس کا کہنا تھا ’ اس کا جواب تو آپ کو شدت پسندوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیوں اس طرح باہر آئے۔‘ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ تصادم ختم ہونے کے بعد تقریباً نصف رات جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں چھ لاشیں لائی گئی۔ یہ لاشیں تین مشتبہ شدت پسندوں اور یرغمالیوں کی تھیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق مارے گئے یرغمالیوں کی شناخت اشوک کمار ، جو بچوں کے ٹیوٹر تھے، سندیپ کمار، ایک پڑوسی جسے فوج نے اس وقت گھر میں دھکا دے دیا تھا جب شدت پسند اندھا دھند گولیاں چلا رہے تھے اور تیسرے شخص کی شناخت اس کے جیب سے ملنے والے شناختی کارڈ کے ذریعے بطور شیام موراری کی گئی ہے جو ٹریٹورئل آرمی سے تعلق رکھتا تھا۔ شناخت کے سوال پر پولیس اور فوج میں سے کوئی بھی جواب دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ یہاں تک کہ گھر میں یرغمال بنائی گئی سنیتا دیوی نے اسپتال میں علاج کے دوران بی بی سی کو بتایا’میں اس تیسرے شخص کو نہیں جانتی وہ تو کمرے میں ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔‘ سنیتا دیوی نے بتایا’سب سے پہلے ماسٹر جی کو مارا گیا جو بچوں کو پڑھانے آتے تھے اور ہمارے ساتھ رہتے تھے۔‘ پولیس کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سب سے پہلے مشتبہ شدت پسند تھا۔ لیکن اگر ہم اس واقعہ کی وڈیو کلپ کو غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پہلے شخص، جسے پولیس اور فوج نے شدت پسند بتایا تھا، نے خاکی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ایسا لگا تھا کہ اس دھکّا دے کر گھر سے باہر کیا گیا ہے۔
پولیس اور فوج نے کہا تھا کہ شدت پسند خاکی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ جائے وقوع پر موجود اس نامہ نگار کے کانوں میں مقامی باڈی کونسل کی منتخب ممبر شیلا ہانڈو نے کہا’جو سب سے پہلے مرا ہے وہ شدت پسند نہیں ہے میں اسے جانتی ہوں‘۔ اس کے بعد سنیتا نے سب سے دلچسپ بات بتائی کہ یہ شدت پسند ڈوگری زبان ميں باتیں کر رہے تھے۔ (ڈوگری جموں خطے کی زبان ہے) ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار نے اس سلسلے میں کہا’مجھے یہ یقین نہیں ہوتا کہ مسلم شدت پسند ڈوگری میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ میرا تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ انہیں یا تو اردو میں یا پھر کسی کشمیری زبان ميں بات چیت کرنی چاہیے اور اگر ان کا تعلق پاکستان سے ہے تو انہیں وہاں کی علاقائی زبان میں بات کرنا چاہیے۔‘ بدھ کو بی بی سی کے جموں دفتر کو فون کرنے والے اس شخص ، جو یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ گھر میں موجود شدت پسندوں میں سے ایک ہے، سے جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر ان کا تعلق کس تنظیم سے ہے تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے بولا ’ کیا اتنا کافی نہیں ہے کہ میں ایک مسلمان ہوں جو کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔‘ سکیورٹی فورسز نے میڈیا کو بتایا کہ یہ شدت پسند امرناتھ یاتاراسنگھرش سمیتی کی اس ریلی پر حملہ کرنے والے تھے جو بدھ کی دوپہر ہونے والی تھی۔ قومی مفاد اور سکیورٹی فورس کی جانب سے سنجیدہ حالات سے نمٹنے میں مصروفیات کے مد نظر سمیتی نے ریلی رد کر دی تھی۔ | اسی بارے میں ’تین پاکستانی دارنداز انڈيا میں‘ 26 August, 2008 | انڈیا کشمیر: تین شدت پسند ہلاک08 August, 2006 | انڈیا حملہ آوروں کی مخبری پر انعام03 August, 2006 | انڈیا انڈین کشمیر: دو شدت پسند ہلاک02 August, 2006 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا ’نومینز لینڈ‘ پر بنکروں کی تعمیر29 July, 2008 | پاکستان ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||