’تین پاکستانی دارنداز انڈيا میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر ميں بارڈر سکیورٹی فورسز یعنی بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کم از کم تین افراد غیر قانونی طریقے سے بین الاقوامی سرحد پار کر کے انڈیا آ گئے ہیں۔ بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پیر کی نصف رات جموں کے نزدیک کنا چک علاقے میں پیش آيا ہے۔ بی ایس ایف کے مطابق تقریباً بیس مسلح افراد نے کنا چک علاقے میں سرحد پر لگی ہوئی تین سو میٹر باڑھ کاٹ دی۔ بی ایس ایف کے مطابق ’باڑھ کو گیارہ مقامات پر کاٹا گیا ہے جس کی مدد سے دارنداز انڈیا میں داخل ہوئے اور ان کی مدد کے لیے کور فائرنگ دی گئی۔‘ جواب میں بی ایس ایف محافظین نے فائرنگ کی جو تقریباً دو گھنٹےتک جاری رہی۔’ہماری نگران پوسٹ نے دیکھا کہ کم از کم تین درانداز انڈیا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘
بی ایس ایف نے اس واقعہ کی اطلاع مقامی انتظامیہ کو دی اور دارندازوں کی تلاشی کی کارروائی شروع ہو گئی۔ جموں میں تقریباً گزشتہ دو مہینے سے جاری امرناتھ شرائن بورڈ کو دی گئی زمین واپس لینے کے خلاف جاری احتجاج کے سبب مقامی انتظامیہ نےاس واقعہ پر تشویش ظاہر کی ہے۔’ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ شدت پسند ان احتجاجیوں کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہيں جو ہر روز مظاہروں کے لیے سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔‘ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی اہلکار جموں شہر کے حساس علاقوں میں زیادہ چوکنا ہو گئے ہیں۔بی ایس ایف کے ایک دیگر اہلکار کا کہنا ہے کہ پونچھ ضلع میں کنٹرول لائن پر بھی پاکستان کی جانب سے دارندازی کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو پیش آئے اس واقعہ میں دارندازوں کی جانب سے کی گئی فائرنگ ميں بی ایس ایف کے چار جوان زخمی ہو گئے ہیں۔’ہم علاقے کی تلاشی لے رہیں تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ کہیں کوئی دارنداز انڈیا میں داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو گیا ہو۔‘ | اسی بارے میں ’نومینز لینڈ‘ پر بنکروں کی تعمیر29 July, 2008 | پاکستان ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ29 July, 2008 | پاکستان ’جنگ بندی کا احترام کریں‘29 July, 2008 | پاکستان ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ26 July, 2008 | پاکستان کشمیر: برف پگھل گئی، تشدد شروع25 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||