ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی خاموش ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شرائن بورڈ کو زمین دینے کے معاملے پر جب کشمیر میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو حکومت کافی عرصے تک ٹس سے مس نہیں ہوئی اور مرغے کی ایک ٹانگ والے اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ حکمران اتحاد کے دھڑوں میں سیاسی دنگل عروج کو پہنچی اور جب اقتدار ہاتھوں سے چھنتا نظر آیا تو سیاست دانوں کی توجہ مظاہروں کی جانب مرکوز ہوگئی جو اب آہستہ آہستہ تحریک آزادی کے عوامی جلسوں کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ سیاست دان کرسی بچانے کی غرض سےجموں کشمیر اور دلی کے چکر لگاتے رہے مگر جلسے جلوسوں اور آزادی کے عوامی مطالبے پر دھیان دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ دلی کی سرکار کو حالات کا اندازہ اس وقت ہوا جب ہزاروں لوگوں نے تجارتی برادری کی اپیل پر لبیک کہہ کر مظفر آباد کی جانب رخ کیا حالانکہ مبصرین کے مطابق جموں سرینگر کی شاہراہ کی ناکہ بندی کو روکنے کے بر وقت اقدام نہ کرنے کے پیش نظر ہی عوام ایسا راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔ ان مظاہروں کے باعث نوے کی تحریک آزادی میں دوبارہ جان پڑ گئی، حریت کے وہ رہنما جو عوام کی نظروں میں اپنی اہمیت کھو چکے تھے راتوں رات دوبارہ ہیرو بن گئے اور’نارملسی‘ کا ڈرامہ بری طرح ناکام ہوگیا۔ خود بھارتی دانشور جن میں جگ سرّیا، ارون دھتی رائے، ویر سنگھوی اور سوامی انکلیسور ایّر شامل ہیں عوامی مظاہروں کو دیکھ کر صلاح دینے پر مجبور ہوگئے کہ کشمیر کو آزاد کرنے کا وقت اب شاید آ گیا ہے۔ بجائے لوگوں کو سمجھانے کے یا قیادت کو اعتماد میں لینے کے شدت پسندی پر قابو پانے کے جو طریقے استعمال کیے گئے تھے وہی عوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے استعمال کیے جانے لگے۔
سرینگر جموں قومی شاہراہ کی کئی ہفتے تک ناکہ بندی، ایک ہفتے تک کرفیو کے نفاذ اور میڈیا پر پابندی جیسے اقدام نے ایک بار پھر کشمیری انا اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچا دی۔ خود بھارت کے عوام اسے جمہوریت کی پامالی سمجھتے ہیں اور جمہوری اصولوں کی نفی قرار دیتے ہیں۔ عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے،بیمار علاج کو ترس رہے ہیں حتی کہ حاملہ عورت کو ہسپتال جانے سے روک دیا جاتا ہے۔کرفیو میں دو گھنٹے کے وقفے میں لوگ دکانوں کی خاک چھان رہے ہیں مگر بازار اشیائے ضروریہ سے خالی ہیں۔ بیشتر کشمیری سوال کر رہے ہیں ایسے حالات پیدا کر کے کیا عوام یہ ماننے کے لیے تیار ہوں گے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے؟ اور کشمیریوں کو’ہیلنگ ٹچ کی ضرورت ہے؟‘۔ خود بھارتی دانشور کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ’ کشمیر کے مسئلے کو بزورِ طاقت حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا احساس اٹل بہاری واجپائی کو بھی ہوا تھا۔ کسی بھی مسئلے کو آج تک نہ طاقت کے بل پرحل کیا گیا اور نہ بندوق سے آزادی حاصل کی گئی ہے‘۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی والوں نے کشمیر میں ایک نئی سوچ کی بنیاد ڈالی تھی اور مختلف نکتہ نظر سے وابستہ رہنما ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی تہذیب سیکھ گئے تھےاور وہ وقت قریب تھا کہ ہر مکتب فکر سے وابستہ لوگ مذاکراتی میز پر آ کر کوئی ٹھوس حل تلاش کرتے مگر شرائن بورڈ کے جھگڑے اور حکومت کی ’پرو ایکٹیو‘ پالیسی نے ٹریک ٹو ڈپلومیسی والوں کو بھی اب شاید خاموش کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||