BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری نوجوانوں میں بیداری بڑھی ہے

کشمیری نوجوان تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں
بیشتر لوگ یہ مان کر چل رہے تھے کہ پندرہ بیس برس کا وہ کشمیری نوجوان جو بھارت کی دوسری ریاستوں میں اپنے ہندو ساتھیوں کے ساتھ حصول تعلیم میں مصروف ہے وادی میں جاری ’تحریک آزادی‘ سے غافل ہے یا پڑھنے کے سوا کسی بات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

ان بچوں کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی تصور تھا کہ اپنے بزرگوں کی طرح ان میں آزادی یا بھارت مخالف جذبہ موجود نہیں۔ اور اگر وادی کے نامساعد حالات سے واقف بھی ہیں تو اسی حد تک کہ حالات کب بہتر اور نارمل ہوں تاکہ چھٹیوں میں اپنے خاندان کے ساتھ آسانی سے وقت گذار سکیں۔

 رہا سوال آزادی کا تو وہ ہمارا بنیادی حق ہے دوسری ریاستوں میں جاکر واقعی ہماری سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے ہمیں اپنے کلچر تہذیب اور شناخت کا ادراک ہوا۔
کشمیری نوجوان

وادی میں سن نوے کی شورش کے دوران کئی ہزار والدین نے اپنے بچوں کو حصول تعلیم اور روزگار کے لئے بھارت کی دوسری ریاستوں میں بھیجا تاکہ ان میں علحیدگی پسند سوچ جنم نہ لے سکے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً تین لاکھ کشمیری نوجوان ملک کے مختلف اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔

باہر بھیجنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ بڑے مصروف ترین شہروں میں اور مختلف برادریوں کے درمیان رہنے سے ان میں روایتی مذہبی رواداری کا جذبہ مزید پختہ ہوگا اور، چند لوگوں کے خیال میں، وہ بھارت کے خلاف نفرت کے جذبےکو پنپنے نہیں دیں گے۔

بھارت نواز مقامی سیاست دانوں اور بھارتی دانشوروں نے ایسے والدین کی خوب حوصلہ افزائی کی جو اپنے بچوں کو باہر بھیجنے پر بخوشی راضی ہوگئے تاکہ نئی نسل میں بھارت کے تئیں جذبہ لگاؤ خود بخود پیدا کیا جاسکے۔

اقوام متحدہ کے باہر مظاہرہ

لیکن اس سال جب جون کے مہینے میں وادی کشمیر میں امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے تو سب کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ان میں سے بیشتر مظاہروں کی قیادت وہ لڑکے کر رہے تھے جو یا تو دوسری ریاستوں سے چھٹی کی غرض سے وادی میں موجود تھے یا نجی انگریزی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور انہوں نے نعروں کی وہی گونج پیدا کردی جو سن نوے کی مسلح تحریک کے دوران سنی گئی تھی۔

بنگلور میں حصول تعلیم میں مصروف مشتاق احمد نے، جو اقوام متحدہ کو قرارداد دینے والے جلوس کی قیادت کر رہے تھے، جلوس نکالنے اور نعرے لگانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہاں کی سر زمین ہماری ماں ہے ۔ ماں کے بغیر ہماری کوئی وقعت نہیں، یہ مسئلہ ہندو مسلم کا نہیں اصول کا ہے جو ہندو کو بھی عزیز ہیں اور مسلمان کو بھی ۔یہ سبق ہم نے ہندوؤں سے سیکھا ہے۔ ہندوؤں کے ساتھ رہنے کا ایک تو فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں بھی اپنی تہذیب جاننے اور پرکھنے کی تحریک ملی۔‘

’رہا سوال آزادی کا تو وہ ہمارا بنیادی حق ہے دوسری ریاستوں میں جاکر واقعی ہماری سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے ہمیں اپنے کلچر تہذیب اور شناخت کا ادراک ہوا۔ ‘

مشتاق کا کہنا ہے کہ ’بھارتیوں کی تحریک آزادی کی داستان پڑھ کر اور اسکی چشم دید مثالیں دیکھ کر جذبہ آزادی اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ ہم سب ایک گاندھی کی تلاش میں ہیں جو ہندوستانیوں کی طرح ہمیں بھی منزل مقصود تک لے جائے۔‘

دوسری ریاستوں میں رہنے اور مختلف برادریوں کے ساتھ رہنے سے اگر کوئی فرق پڑا ہے تو وہ یہی ہے کہ یہ بچے واقعی اپنی شناخت، زبان اور تہذیب کے بارے میں بیدار ہوگئے ہیں، بھارت سےنفرت کا جذبہ نہیں رکھتے مگر ان میں بھارت سے علحیدگی اختیار کرنے کی امنگ مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر سے آزادی کا وقت؟
22 August, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد