’کشمیر پر جلد خوشخبری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ کشمیر کے بارے میں رواں ماہ کے آخر تک خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق میاں نواز شریف سے ان کی بات ہوئی ہے اور انہوں نے مسلم لیگی رہنما کو اعتماد میں لیا ہے اور بہت جلد پارلیمان کی کشمیر کمیٹی قائم ہو جائےگی۔ ’ہم اس بارے میں فاسٹ لین میں جانا چاہتے ہیں اور مجھے پس پردہ ہونے والی بات چیت کا بھی علم ہے اور اس کی روشنی میں معاملہ پارلیمان میں لائیں گے۔۔پس پردہ ہونے والی بات چیت سے وہ آگاہ ہیں اور بہت جلد تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کریں گے اور مہینہ ختم ہونے سے پہلے۔۔ کانگریس کے الیکشن میں جانےسے پہلے ہمارے پاس اچھی خبر ہوگی،۔ آصف علی زرداری نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان نے امریکی حکام سے اپنے شہریوں پر حملوں پر احتجاج کیا ہے اور صدر کی حیثیت سے وہ خود بھی احتجاج کریں گے۔ یہ بات انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور ایک انٹرنیشنل فنڈ قائم کیا جائے جس سے دہشت گردی کے شکار افراد کی مدد کی جا سکے۔ اس موقع پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان، پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اور اسی لیے دونوں ممالک کو ایک ہی مسئلے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم افغانستان، پاکستان کے لیے بہتر ہے۔ افغانستان کے صدر نے ایک سوال پر کہا کہ وہ پاکستان پر الزامات نہیں لگاتے بلکہ جو کہتے ہیں وہ حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم افغان صدر نے آصف علی زرداری کو اپنا بھائی قرار دیا اور کہا کہ ان کے ساتھ کھل کر دل سے باتیں ہوئی ہیں اور انہوں نے ایسا دور اندیش رہنما خطے میں پہلے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سے مجھے بہت ساری امیدیں پیدا ہوئی ہیں،۔ افغانستان کی جانب سے حال ہی میں پاکستان پر لگائے گئے شدید الزامات کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ افغانستان کے صدر کافی مطمئن اور خوش نظر آئے۔ بڑے عرصے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے صدور میں مکمل ہم خیالی اور اتفاق رائے نظر آیا۔ ایک سوال پر حامد کرزئی نے کہا کہ ’ہم عام شہریوں کا قتل برداشت نہیں کرسکتے۔۔ ایک بھی نہیں۔۔ عام شہریوں کا قتل روکنے کے لیے فول پروف مکینزم بنانا چاہیے،۔ آصف علی زرداری نے صدر منتخب کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا جس پر پریس کانفرنس میں موجود جیالوں نے جیے بھٹو کے نعرے لگائے۔ نئے صدر نے ایک سوال پر کہا کہ وہ ہمسایوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ کسی بھی مسئلے پر یہ خطہ یک زبان ہوکر اپنی آواز اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں مسائل تھے، ہیں اور رہیں گے لیکن پاکستان ان کا حل تلاش کر سکتا ہے۔ آصف علی زرداری سے سترہویں ترمیم ختم کرنے، پارٹی عہدہ چھوڑنے اور ججوں کی بحالی کے بارے میں کئی سوالات ہوئے لیکن انہوں نے واضح جواب نہیں دیا۔ اٹھاون ٹو بی کے اختیارات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جب بھی پارلیمنٹ ان اختیارات کو واپس مانگے گی وہ واپس کردیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستان کی فوج اور سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے، حامد کرزئی نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے عوام کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے موزوں ماحول ہونا ضروری ہے۔ ’اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم پاکستان کا ساتھ دیں گے‘ ۔ حامد کرزئی سے جب پوچھا گیا کہ غیر ملکی فورسز کو وہ کب خدا حافظ کہیں گے تو انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بڑے عرصہ سے جنگی حالات کی وجہ بڑی تباہی ہوئی ہے۔ ان کے بقول جب ان کی مضبوط فوج بنے گی، عدلیہ اور سول بیرو کریسی جیسے ادارے مستحکم ہوں گے تو پھر اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔ قبل ازیں جب حامد کرزئی متحدہ عرب امارات سے اسلام آباد پہنچے تو قائم مقام صدر محمد میاں سومرو اور دیگر نے ان کا چکلالہ ایئر بیس پر خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ حامد کرزئی کے دورے سے دونوں ممالک میں اعتماد کا فقدان دور ہوگا۔ | اسی بارے میں ’پہلا امتحان آئی ایس آئی پر قابو پانا ہے‘08 September, 2008 | پاکستان وزیرستان: کارروائی میں بیس ہلاک03 September, 2008 | پاکستان افغان پناہ گزین، دو سال کی توسیع29 August, 2008 | پاکستان وزیرستان حملہ، پاکستان کا احتجاج12 March, 2008 | پاکستان باجوڑ :افغان نیشنل آرمی کے جوان رہا15 March, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن جاری رہے گا: پاک فوج22 August, 2008 | پاکستان پاکستان کو شورش کا سامنا: بریفِنگ15 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||