کئي رہنما تقریب ميں نہيں آئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایوان صدر میں منگل کو آصف علی زرداری کی حلف برداری کی تقریب میں ویسے تو اکثر اہم سیاستدان حاضر اور سابق اعلی سرکاری اہلکار اور سفارت کار موجود تھے لیکن کئی ایسے بھی تھے جن کی موجودگی سے ’شاید تقریب کی رونق مزید بڑھ جاتی‘۔ یہ ایک صدر کی حلف برداری کی تقریب تھی لہذا نہ آنے والوں میں بھی سابق صدور ہیں۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی موجودگی تو شاید سیاسی طور پر کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی تھی لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی مفاہمت کی خاطر اگر آصف علی زرداری ایم کیو ایم کے پاس جاسکتے ہیں، قبرستانوں میں فاتحہ پڑھ سکتے ہیں تو ایک سابق صدر کے آنے سے کوئی زیادہ نقصان نہ ہوتا۔ پرویز مشرف کی شرکت تو شاید ممکن نہیں تھی لیکن جسٹس ریٹائرڈ محمد رفیق تارڑ، وسیم سجاد اور فاروق لغاری جیسے سابق صدور بھی دکھائی نہیں دیئے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (قاف) کے چوہدری پرویز الہی، سینیٹ میں حزب اختلاف، کامل علی آغا اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد بھی تقریب میں موجود نہیں تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ حلف برداری کی اس تقریب کے سلسلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔ لہذا تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ان کا تھا۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی طر ف سے تاہم مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی ’باغی‘ رکن کشمالہ طارق بھی صدر کے حلف اُٹھانے کی تقریب میں موجود تھیں۔ اٹھارہ اگست کو عہدہ صدارت سے مستعفی ہو نے والے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے سابق ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی سے یہ معلوم کرنے کے لیئے رابطہ کیا کہ آیا کہ سابق صدر کو مدعو کیا گیا تھا یا نہیں تو اُن کا جواب تھا کہ اُنہیں پرویز مشرف کو مدعو کرنے کے بارے میں تو علم نہیں تاہم خود اُنہیں بھی اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ نہیں ملا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے لیے حلف لیا تھا تو اُس وقت سابق صدر فاروق لغاری کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ایوان صدر کے پروٹوکول کے محکمے کے اہلکاروں سے رابطہ کرکے جب پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے سابق صدرور کو حلف برداری کی اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے جاری کیے تھے تو متعلقہ حکام نے اس کے متعلق کچھ بتانے سے انکار کیا۔ حلف برداری کی اس تقریب میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کی ایک بڑی تعداد کو وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں نے تقریب میں شامل نہیں ہونے دیا تاہم اُن میں سے تین جیالے پولیس اہلکاروں کو دھمکی دیتے ہوئے گیٹ پھلانگ کر اندر چلے گئے کہ اگر اُنہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو اُن کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کروا دیں گے۔ آصف علی زرداری کے حلف اُٹھانے کے بعد سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹیلی وژن میں پیپلز پارٹی کی جانب سے تعینات کیے گیے تین اعلی اہلکاروں میں سے دو نذیر حسین ڈھوکی اور کیپٹن ریٹائرڈ سید واصف نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے دفاتر میں مٹھائی بھیجی۔ جیالوں کے لیے منگل کا دن یقینا کافی قربانیوں اور مشکلات دیکھنے کے بعد آیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’قانونی، آئینی اقدام میں ساتھ دیں گے‘09 September, 2008 | پاکستان زرداری نے صدر کا حلف اٹھا لیا09 September, 2008 | پاکستان ’احتجاج کیا بھی ہے، احتجاج کریں گےبھی‘09 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||