BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسئلہ کشمیر، صدر کے بیان پر رد عمل

لائن آف کنٹرول
اتنے کم عرصے میں کوئی بڑی پیش رفت ہوسکتی ہے: بشارت نوری
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی عوام نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے اس بیان پر کہ ’رواں ماہ کے آخر تک خوشخبری ملے گی‘ ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

سابق کشمیری عسکریت پسند بشارت نوری کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کشمیر کے معاملے پر اتنے کم عرصے میں کوئی بڑی پیش رفت ہوسکتی ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دونوں کشمیر کے درمیان تجارت شروع کی جائے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا ہے ’کشمیر کا معاملہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی دو طرفہ زمینی تنازعہ نہیں کہ دونوں ملک بیٹھ کر اس کا حل نکالیں بلکہ یہ ایک کروڑ بیس لاکھ انسانوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اس تنازعے کے بنیادی فریق کشمیری ہیں اور ان کو مذاکرات میں شامل کیے بغیر تنازعے کا حل ممکن ہی نہیں ہے۔‘

سرکاری ملازم ملک الطاف نے امید ظاہر کی کہ کشمیر کے تنازعے پر کوئی نہ کوئی پیش رفت ہوگی لیکن ان کا کہنا ہے پہلے مرحلے میں بھارتی فوج کی کشمیریوں پر ظلم و زیادتیاں بند ہونی چاہیں، بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کیا جائے، کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان آمدرفت کو آسان بنایا جائے اور تجارت کا آغاز ہو۔

نا امید
 ساٹھ برسوں میں مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی ہمیں کوئی امید ہے کہ آئندہ اس تنازعے کا کوئی حل نکلے گا۔ جو بھارت اور امریکہ چاہیں گے وہی ہوگا اور پاکستان کے سیاست دانوں میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ کرسکیں۔
قاری محمد نطیر

انہوں نے کہا اگر یہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

لیکن قاری محمد نطیر ناامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ساٹھ برسوں میں مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی ہمیں کوئی امید ہے کہ آئندہ اس تنازعے کا کوئی حل نکلے گا۔ جو بھارت اور امریکہ چاہیں گے وہی ہوگا اور پاکستان کے سیاست دانوں میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ کرسکیں۔‘

دوکاندار طارق نظیر کا کہنا تھا ’پرویز مشرف، بینظیر بھٹواور نواز شریف جیسے رہنما بھی مسئلہ کشمیر حل نہیں کرسکے اور ہمیں امید نہیں کہ آصف زرداری تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آصف زرداری پاکستان کے حالات ٹھیک کریں اور بعد میں مسئلہ کشمیر کو حل کریں۔‘

ایک طالب علم فیاض میر نے کہا ہے کہ ’آصف زرادی کے بیان پر بالکل یقین نہیں اور ان کے بیانات پر یقین کرنا اس لئے بے و قوفی ہوگی کہ انہوں نے ججوں کی بحالی کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔‘

کشمیرنواز کی تنبیہہ
بھارت تعلقات چاہتا ہے تو مظالم بند کر دے
صلاح الدین ’کشمیر سے پسپائی‘
’پاکستان مسئلہ کشمیر سے پسپا ہو چکا ہے‘
اسی بارے میں
’کشمیر پر جلد خوشخبری‘
09 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد