بھارت کشمیریوں پر ظلم بند کر دے:نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ ہندوستان اگر پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتا ہے تو فوری طور پر کشمیریوں پر مظالم بند کر کے اور جلد از جلد ان کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جائے۔ نواز شریف نے یہ بات پاکستان کے اکسٹھویں یومِ آزادی کے موقع پر لاہور میں مزار اقبال پر حاضری کے بعد بادشاہی مسجد کے سامنے حضوری باغ میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نواز شریف کے خطاب کے موقع پر بادشاہی مسجد اور شاہی قلع کے ارد گرد سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہندوستان کہتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ اس کا اندرونی معاملہ ہے، انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور کشمیر کا معاملہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کا بھی اتنا ہی معاملہ ہے جتنا کشمیریوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل دونوں ممالک کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں ہے جب کشمیر کے عوام بھی اپنی امنگوں کے مطابق آزادی حاصل کریں گے۔ نواز شریف نے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے مواخذے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کا مواخذہ ہوگا اور یہ مواخذہ مشرف کا نہیں بلکہ اس آمریت کا ہوگا جس نے اکسٹھ سالوں سے پاکستان کو برباد کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا آمریت پاکستان کے تئنتیس سال کھا گئی اور آج ہر پاکستانی یہ سوچ رہا ہے کہ ملک کا کیا ہوگا، پاکستان کہاں جا رہا ہے اور بقول نواز شریف اب لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ خدا نہ کرے کہیں یہ ملک بربادی کی طرف تو نہیں جا رہا؟
انہوں نے کہا کہ آج قوم مشرف کی آٹھ سالہ آمریت سے آزاد ہوئی ہے۔ اور وہ یعنی مشرف اپنے لیے مخفوظ راستہ مانگ رہے ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے آمر کو محفوظ راستہ ملنا چاہیے جس نے ملک کا آئین، قانون توڑا، پارلمینٹ توڑی، ملک کی خودمختاری کا سودا کیا، غربت، مہنگائی بیروزگاری میں اضافہ کیا اور جس نے نواب اکبر بگٹی پر گولی چلائی، کیا ایسے شخص کو محفوظ راستہ ملنا چاہیے؟۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمن آصف زرداری کے ساتھ ان کا جو معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت صدر کے مواخذے کے فوری بعد جج بحال ہوں گے۔ اور اس کے بعد حکمران اتحاد چارٹر آف ڈیموکریسی کے ایجنڈے پر عمل کرے گا اور غریب عوام کو ترقی دلائی جائے گی۔ نواز شریف کے خطاب کے دوران مسلم لیگی کارکن ’مشرف گو اور وزیر اعظم نواز شریف‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے یوم آزادی کے موقع پر غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے فوڈ سٹمپ پروگرام کا اجراء کیا ہے۔ جس کے مطابق بیس لاکھ خاندانوں کو محکمہ ڈاک کے تعاون سے منی آرڈر کے ذریعے رقوم بجھوائی جائیں گی۔ ہر خاندان کو ماہانہ ایک ہزار رپے دیے جائیں گے۔ اس پروگرام پر سالانہ بائیس ارب رپے کی رقم خرچ کی جائے گی۔ جشن آزادی کے موقع پر لاہور میں پیپلز پارٹی کی جانب سے ’گو مشرف گو‘ ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل چوھدری غلام عباس نے کی۔ ادھر ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان اور ہندستان کی جشن آزادی کے موقع پر لاہور میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ ’ رل مل کر روٹی کھائیے‘ کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب میں دونوں ممالک کے دانشوروں نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کی حکومتوں سے ویزا قوانین کا ازسر نو جائزہ لینے، صحافیوں، کاروباری شخصیات، تعلیمی ماہرین، فنکاروں، طلبہ و طالبات اور معمر افراد کو ویزا سے مستثنیٰ قرار دے کر سرحدی پوسٹوں پر نرم ویزا کے اجرا کا مطالبہ کیا گیا۔ تقریب میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ واہگہ اٹاری چیک پوسٹ پر امن پارک کے لیے آٹھ کلومیٹر علاقے پر مشتمل زمین مختص کی جائے تاکہ لوگ بغیر ویزا کے ایک دوسرے سے مل جل سکیں، خرید فروخت کے علاوہ بحث مباحثے کر سکیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||