پرویز امروز پر’قاتلانہ حملہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارہ کولیشن آف سِول سوسائیٹیز یا سی سی ایس نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے سربراہ پرویز امروز پر مقامی پولیس نے قاتلانہ حملہ کیا ہے لیکن پولیس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ سی سی ایس کے ساتھ وابستہ خرم پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ تیس جون کی شام نواحی علاقہ کرالہ پورہ میں واقع پرویز امزوز کی رہائش گاہ پر پولیس اور سی آر پی ایف کے مسلح دستوں نے دھاوا بولا اور مکان کے صحن میں اندھا دھند فائرنگ کی اور ایک دستی بم بھی پھینکا۔ تاہم مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد پولیس والے بھاگ گئے۔‘ پولیس نے اس الزام کی تردید کردی ہے۔ ایس ایس پی سیّد افہاد المجتبیٰ نے بی بی سی کوبتایا’یہ الزام بالکل غلط ہے۔ اور پھر سی سی ایس نے اس واقع سے متعلق جو شکایتی درخواست دی ہے اس میں پولیس کا ذکر نہیں۔ ہم اس معاملے کی تفتیش کررہے ہیں۔‘ حملے کے پیچھے محرکات سے متعلق پرویز امروز نے بتایا’ ہم نے پچھلے چند سال سے انسانی حقوق سے متعلق ٹھوس شواہد جمع کرنے کا کام ہاتھ میں لیا ہوا ہے اور اس میں ہم نے کچھ معتبر عالمی اداروں کو بھی شامل کیا ہوا ہے۔ یہ بات حکومت کو گوارا نہیں ہے، وہ نہیں چاہتے کہ انصاف کی بات اور سچ سامنے آئے۔‘
مسٹر خُرم نے بتایا ’پچھلے تیرہ سال کے دوران پرویز امروز پر یہ تیسرا قاتلانہ حملہ ہے۔ اُنیس سو پچانوے میں وہ اُس وقت بال بال بچ گئے جب عسکریت پسندوں نے انہیں گاڑی سے اُتار کر ان پر گولی چلائی۔ دو ہزار پانچ میں خود سپردگی کے بعد حکومت کے لیے کام کرنے والے بعض مسلح نوجوانوں نے ان کے گھر پر دھاوا بول دیا، تاہم پڑوسیوں نے شور مچاکر ان کی کوشش ناکام بنا دی۔‘ واضح رہے مسٹرامروز کی سربراہی والے اس ادارے نے حالیہ دنوں شمالی کشمیر کے اوڑی قصبہ میں اجتماعی قبروں سے متعلق ایک دستاویزی کتابچہ شائع کیا ہے۔ امروز کا کہنا ہے کہ پوری ریاست میں فرضی جھڑپوں اور اجتماعی قبروں سے متعلق آزادانہ تفتیش اور ایک مفصل رپورٹ شائع کرنے کے لیے انہوں نے ہندوستان اور امریکہ کے بعض معروف لوگوں پر مشتمل ایک عالمی ٹریبیونل قائم کیا ہے۔ امروز کے مطابق اس ٹریبیونل نے ریاست کے کئی خطوں کا دورہ کیا ہے اور اجتماعی قبروں سے متعلق یہ جامع رپورٹ اگست کے آخر میں جاری کی جائے گی۔ پچھلے اُنیس برسوں کے دوران کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم جلیل انداربی اور ہردے ناتھ وانچو بھی پراسرار حالات میں مارے گئے ہیں۔ مسٹروانچو کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں عسکریت پسندوں نے قتل کردیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے مقامی اداروں کا کہنا ہے کہ ایک فوجی افسر نے جلیل انداربی کو آٹھ مارچ اُنیس سو ستانوے کو اغوا کیا اور بعد میں ان کی لاش دریائے جہلم سے برآمد ہوئی۔ یہ کیس اب ہندوستان کے سب سے بڑے تفتیشی ادراہ سی بی آئی کے پاس ہے۔ سی بی آئی کے مطابق ملزم میجر اوتار سنگھ نے کینیڈا میں پناہ لی ہے اور اسے واپس لانے کے لیے انٹرپول کی مدد لی جارہی ہے۔ |
اسی بارے میں گمنام قبروں کی تحقیقات سے انکار02 April, 2008 | انڈیا گمنام قبروں کے انکشاف کے بعد رضاکار خوفزدہ02 April, 2008 | انڈیا سرکاری اور غیر سرکاری یوم شہداء13 July, 2007 | انڈیا کشمیر 2006 :فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال24 December, 2006 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا لاپتہ کشمیری۔۔۔28 October, 2006 | انڈیا ’سچائی میری طاقت اورہتھیار ہے‘10 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||