ہندو، سکھ کا نقصان نہ ہو: جہاد کونسل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کئی عسکری تنظیموں پر مشتمل متحدہ جہاد کونسل نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وادی کشمیر میں ہندوؤں اور سکھوں کی حفاطت کی جائے۔ یہ بیان بعض بھارتی اخبارات ان خبروں کی اشاعت کے بعد جاری کیا گیا جن میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عسکری تنظیمیں ہندوؤں اور سکھوں کو نشانا بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عسکری تنظیموں کی قیادت نے عسکریت پسندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہندوؤں اور سکھوں کا کوئی نقصان نہ پہنچائیں اور یہ کہ ان کی جان و مال کی حفاظت کریں۔ سید صلاح الدین نے’جو کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ بھی ہیں’ یہ بیان بعض بھارتی اخبارات میں بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ سے منسوب بعض اطلاعات کی اشاعت کے بعد دیا۔
ان اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عسکری تنظیمیں حزب المجاہدین اور العمر مجاہدین بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کے لئے ہندوؤں اور سکھوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی کلعدم تنظیم لشکر طیبہ ہندوؤں کے مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کی غرض سے ان پر نگرانی کررہی ہے۔ سید صلاح الدین نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کی کشمیریوں کے حق خود ارایت کی تحریک کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا مقصد کشمیریوں کے حق خود ارایت کی تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور ان کے بقول انتہا پسند ہندوؤں کو مسلمانوں پر حملے کے لئے اکسانا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’وادی کشمیر میں عوامی تحریک کے نتیجے میں بھارتی حکومت کو جس اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے یہ حکمت عملی اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے بھی اپنائی جارہی ہے‘۔ سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ عسکری قیادت نے عسکریت پسندوں کو ان جگہوں پر کارروائی کرنے سے منع کیا ہے جہاں عام شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ |
اسی بارے میں کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ18 August, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||