BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 08:15 GMT 13:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ

فائل فوٹو
کشمیر کے بعض اضلاع سے پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپوں کی خبریں ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دو اضلاع میں حکام نے کرفیو نافذ کردیا ہے، جبکہ سرینگر اور کپوارہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقفہ وقفہ سے جھڑپوں کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر ہوگئی ہے۔

کشمیر زون کے انسپکڑ جنرل پولیس ڈاکٹر بی سرنواس نے بی بی سی کوبتایا کہ پولیس نے شوپیان اور بارہمولہ میں احتیاط کے طور کرفیو نافذ کیا ہے، لیکن حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہوسکتا ہے شام تک اس میں نرمی کی جائے۔‘

بارہمولہ کے الطاف احمد نے بی بی سی کوبتایا کہ کرفیو کے دوران مقامی نوجوانوں نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد قصبہ میں فوج طلب کی گئی اور مظاہرین منتشر ہوگئے۔

شوپیان کے نثارالحق نے بتایا کہ وہاں فوج اور نیم فوجی عملہ نہ صرف شاہراہ پر بلکہ اندرونی بستیوں میں تعینات ہے۔

احتیاط
ہم شوپیان اور بارہمولہ میں احتیاط کے طور کرفیو نافذ کیا ہے، لیکن ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہوسکتا ہے شام تک اس میں نرمی کی جائے
بی سرنواس، انسپکٹر جنرل پولیس

واضح رہے شوپیان میں جمعہ کے روز مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان سجاد گنائی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اسی طرح بارہمولہ میں بھی مظاہرین پر فائرنگ کے دوران کپوارہ کا رہنےوالا امتیاز احمد نامی نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔

آزادی کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تازہ تصادم جنوبی ضلع شوپیاں کی مرکزی جامع مسجد کے باہر جمعہ کی نماز کے فوراً بعد ہوا تھا۔
پولیس نے شوپیان واقع سے متعلق کہا ہے کہ مشتعل ہجوم میں سے جب کسی نے ایک پولیس اہلکار پر گولی چلائی اور اس کی بندوق چھیننے کی کوشش کی تو پولیس کو گولی چلانی پڑی ۔ بارہمولہ واقع سے متعلق بھی پولیس ہجوم میں نامعلوم افراد کے ذریعہ فائرنگ کو پولیس ایکشن کی وجہ بتایا ۔

ادھر سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک میں بھی سنیچر کی صبح سے ہی تناؤ کی صورتحال بنی رہی۔ لالچوک میں جمعہ کے روز ایک مظاہرے کے دوران لبریشن فرنٹ رہنما محمد یٰسین ملک اور ان کے ساتھیوں کو نیم فوجی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد مسٹر ملک کے آبائی علاقہ مائسمہ میں مزید فورس تعینات کی گئی۔ مائیسمہ کے رہنے والے عبدالاحد نے بتایا کہ ،’یہاں تو بغیر اعلان کے کرفیو ہے۔‘

میر واعظ عمر فاروق کی تصویر(فائل فوٹو) ’کچھ لو کچھ دو‘
کشمیر: کیا مُقیّد حریت قیادت مان جائے گی؟
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
پولیس اہلکارکشمیر میں کرفیو
وادی میں کشیدہ حالات اور مظاہرے: تصاویر
نوجوان پیش پیش
وادی سے جانے والے نوجوان بھی آگے آگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد