کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دو اضلاع میں حکام نے کرفیو نافذ کردیا ہے، جبکہ سرینگر اور کپوارہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقفہ وقفہ سے جھڑپوں کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر ہوگئی ہے۔ کشمیر زون کے انسپکڑ جنرل پولیس ڈاکٹر بی سرنواس نے بی بی سی کوبتایا کہ پولیس نے شوپیان اور بارہمولہ میں احتیاط کے طور کرفیو نافذ کیا ہے، لیکن حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہوسکتا ہے شام تک اس میں نرمی کی جائے۔‘ بارہمولہ کے الطاف احمد نے بی بی سی کوبتایا کہ کرفیو کے دوران مقامی نوجوانوں نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد قصبہ میں فوج طلب کی گئی اور مظاہرین منتشر ہوگئے۔ شوپیان کے نثارالحق نے بتایا کہ وہاں فوج اور نیم فوجی عملہ نہ صرف شاہراہ پر بلکہ اندرونی بستیوں میں تعینات ہے۔
واضح رہے شوپیان میں جمعہ کے روز مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان سجاد گنائی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اسی طرح بارہمولہ میں بھی مظاہرین پر فائرنگ کے دوران کپوارہ کا رہنےوالا امتیاز احمد نامی نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ آزادی کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تازہ تصادم جنوبی ضلع شوپیاں کی مرکزی جامع مسجد کے باہر جمعہ کی نماز کے فوراً بعد ہوا تھا۔ ادھر سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک میں بھی سنیچر کی صبح سے ہی تناؤ کی صورتحال بنی رہی۔ لالچوک میں جمعہ کے روز ایک مظاہرے کے دوران لبریشن فرنٹ رہنما محمد یٰسین ملک اور ان کے ساتھیوں کو نیم فوجی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد مسٹر ملک کے آبائی علاقہ مائسمہ میں مزید فورس تعینات کی گئی۔ مائیسمہ کے رہنے والے عبدالاحد نے بتایا کہ ،’یہاں تو بغیر اعلان کے کرفیو ہے۔‘ |
اسی بارے میں سرینگر: انتخابی بائیکاٹ کی اپیل07 September, 2008 | انڈیا جموں معاہدہ منظور نہیں: گیلانی04 September, 2008 | انڈیا ’کرفیو نہیں اجتماعی قید تھی‘03 September, 2008 | انڈیا جموں معاہدہ کے بعد وادی میں پھرکرفیو01 September, 2008 | انڈیا کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات01 September, 2008 | انڈیا زمین کی دوبارہ منتقلی پر احتجاج 31 August, 2008 | انڈیا کریک ڈاؤن، شبیر شاہ بھی گرفتار29 August, 2008 | انڈیا ’ کشمیر پر یو این تشویش بلاجواز‘28 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||