سرینگر: انتخابی بائیکاٹ کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر میں مجوزہ ریاستی انتخابات کے بارے میں صلاح مشورہ کرنے کے لیے پیر کو انڈیا کی اور علاقائی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخاب کے بارے میں یہ اجلاس ایسے وقت طلب کیا ہے جب وادی بھر میں پچھلے دو ماہ سے آزادی کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ علیحدگی پسند تنظیموں نے اتوار کو انتخابی بائیکاٹ کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ علیحدگی پسند جماعتوں نے پیر کو الیکشن کمیشن کے اجلاس کے موقع پر ہڑتال کی کال دی ہے۔ کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی نے سرکاری ملازمین اور انڈیا نواز سیاسی جماعتوں سے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ ریاست کی دو دیگر جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں بھی یہ رائے ابھر رہی ہے کہ موجودہ حلات میں انتخابات کا عمل شروع کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ دریں اثناء سرینگر اور اس کے جنوبی قصبے اننتناگ میں بھی نوجوانوں نے بھی انڈیا مخالف مظاہرے کیے۔ پولیس اور مظاہرین کےدمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ علیحدگی پسند تنظیموں نے چھ اکتوبر کو سرینگر کے لال چوک میں ایک ریلی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکام نے پچھلے ماہ لال چوک میں ریلی کو روکنے کے لیے وادی میں نو دن کا کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات01 September, 2008 | انڈیا کیا زمین کی تحریک آگے بڑھے گی؟02 September, 2008 | انڈیا ’کرفیو نہیں اجتماعی قید تھی‘03 September, 2008 | انڈیا جموں معاہدہ منظور نہیں: گیلانی04 September, 2008 | انڈیا کشمیر:حریت رہنما پھر نظر بند 05 September, 2008 | انڈیا کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ06 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||