ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | ہلاکت کے بعد سرینگر میں تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی اپیل پر سنیچر کو ہونے والی ہڑتال کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں ایک نوجوان ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہڑتال کے دوران تاریخی جامع مسجد کی قریبی بستی نوہٹہ میں مقامی نوجوانوں نے بھارت مخالف مظاہرہ کیا تو پولیس نے ان پر اشک آور گیس کے گولے داغے اور فائرنگ کی، جس میں کئی نوجوان زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے ایک نوجوان جاوید اقبال بٹ ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑدیا۔ سرینگر شہر کے پولیس سربراہ افہاد المجتبیٰ نے بی بی سی کو بتایا ’ کچھ مشتعل نوجوانوں نے نوہٹہ کے پولیس تھانہ پر پیٹرول بم پھینکے جس پر پولیس نے ربر کی گولیاں فائر کیں جس سے دو لڑکے زخمی ہوگئے۔ ایک کی ٹانگ میں جبکہ ایک کے سینے میں ربر کی گولی لگی‘۔ مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال کے ڈاکٹر سلیم اقبال نے جاوید اقبال کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’ربر کی گولی کی رفتار بھی اصلی گولی کی ہی طرح ہوتی ہے۔ اگر یہ گولی جسم کے کسی نازک حصے پر لگے تو موت ہو سکتی ہے۔ جاوید کے سینے پر یہ گولی بالکل دل کے پاس لگی تھی، جسکے نتیجہ میں اس کی موت ہوگئی‘۔ یاد رہے کہ علیحدگی پسندوں نے سنیچر کو ہڑتال کی کال دے کر رمضان کے دوران احتجاجی تحریک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب اس ہلاکت کے بعد سرینگر میں تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شہر کی جامع مسجد میں جاوید بٹ کی نماز جنازہ میں شرکت کی ہے۔ ادھر علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر اور محمد یٰسین ملک کی ان کےگھروں میں نظربندی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اقدام پچھلے کئی ہفتوں سے سرینگر کی مختلف مساجد میں احتجاجی مظاہروں اور سید علی گیلانی کی طرف سے حضرت بل میں نماز پڑھنے کے اعلان کے پیش نظر اُٹھایا گیا تھا۔ |