BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کرفیو نہیں اجتماعی قید تھی‘

سری نگر کے شہریوں کا کہنا تھا کہ وادی میں گزشتہ ماہ لگایا گیا کرفیو قید سے کم نہیں تھا
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی تاریخی جامع مسجد کے پڑوس میں رہنے والے پچپن سالہ عبدالرشید کو حیرانی ہے کہ حالیہ کرفیو کے دوران جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پر پابندی کیوں تھی۔

دراصل پچیس اگست (سوموار) کو علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے طے شدہ ’آزادی مارچ‘ کو روکنے کے لئے حکومت نے پوری وادی میں کرفیو نافذ کیا تھا۔ کرفیو کے دوران ہی احتجاجی تحریک کی رابطہ کمیٹی نے اعلان کی تھا کہ، ’سب لوگ جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرینگے‘۔

رشید پچھلے پچاس سال کے دوران الگ الگ موقعوں پر چلی عوامی تحریکوں کا حوالہ دے کر کہتے ہیں : ’میں نے موئے مقدس غائب ہوجانے کے بعد چلی تحریک بھی دیکھی، اُنیس سو نوے میں بندوق کی تحریک بھی دیکھی۔ لیکن کبھی ایسا نہ ہوا کہ جامع مسجد میں نماز کی اجازت نہ دی گئی ہو۔ لیکن اس بار تو جمعہ کی نماز پر بھی پابندی تھی۔ یہاں تک کہ جامع کے امام صاحب کو بھی جمعرات کو ہی حراست میں لیا گیا۔‘

پائین شہر کے نائدیار رعناواری میں رہنے والے ساٹھ سالہ غلام نبی کا بایاں بازو ٹوٹ گیا ہے، جبکہ دائیں بازو پر ڈنڈوں کی مار سے خون جم گیا ہے۔’چوبیس اگست کی شام تھی اور میرے بزرگ والد صاحب گھر میں ہی تھے۔ جب دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز متواتر آئی تو میں دروازہ پر نکلا، وہاں میں نے سی آر پی ایف کے درجنوں اہلکار دیکھے۔ انہوں نے کہا، ’ ارے داڑھی والے، ہم تو تہمیں ہی ڈھونڈ رہے تھے، مارو اسکو۔‘ اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں، ہوش آیا تو میرے بازو پر پلاسٹر تھا، ڈاکٹر کہتے ہیں ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔‘

جو کبھی نہیں ہوا
 ’میں نے موئے مقدس غائب ہوجانے کے بعد چلی تحریک بھی دیکھی، اُنیس سو نوے میں بندوق کی تحریک بھی دیکھی۔ لیکن کبھی ایسا نہ ہوا کہ جامع مسجد میں نماز کی اجازت نہ دی گئی ہو۔ لیکن اس بار تو جمعہ کی نماز پر بھی پابندی تھی۔ یہاں تک کہ جامع کے امام صاحب کو بھی جمعرات کو ہی حراست میں لیا گیا۔
رشید، کشمیری شہر

غلام نبی کے پچانوے سالہ عمررسیدہ والد نور محمد کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کرنے لگے تو کئی نیم فوجی اہلکاروں نے انہیں زمین پر پٹخ دیا جسکی وجہ سے ان کی پسلی میں چوٹ آئی۔

مختلف بستیوں میں بعض خواتین نے کہا کہ کرفیو کے ایام میں شام ہوتے ہی نیم فوجی اہلکار گھروں میں گھُستے اور خواتین کا زد کوب کرتے تھے۔

رعناواری میں مٹی کے برتن بیچنے والی فریدہ نے بتایا: ’ وہ لوگ اندھا دھند لاٹھیا گھماتے تھے، میری کمر پر ایک لاٹھی برسی تو میں غش کھا کر گر پڑی۔‘

چھبیس اگست کو بانڈی پورہ میں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے ایک جلوس پر فائرنگ میں دو شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کا چشم دید احوال بیان کرتے ہوئے مقامی لیکچرار معراج الدین نے بی بی سی کو بتایا: ’اس روز کرفیو توڑنے والے کئی جلوسوں پر پولیس اور فوج راست فائرنگ کرچکی تھی۔ متعدد لوگ زخمی تھے۔ مقامی ڈپٹی کمیشنر شیخ مشتاق نے بعض پڑھے لکھے لوگوں کو مذاکرات کے لئے بلایا تو میں ایک مقامی نوجوان شاہدالاسلام پتلو کے ہمراہ ان لوگوں میں شامل تھا۔ جونہی ہم ڈی سی کے قریب پہنچے تو وہاں پر موجود ڈی ایس پی ہرمیت سنگھ نے شاہد کے ماتھے پر نشانہ باندھا اور اسے گولی ماردی۔ وہ وہیں پر گرپڑا۔ افراتفری کے عالم میں ہم نے شاہد کو ایک ٹرک میں ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ڈی ایس پی نے ٹرک کے پہییوں پر گولیاں چلا کر گاڑی کو بے کار کردیا۔ اتنے میں شاہد نے دم توڑ دیا، فائرنگ ہورہی تھی اور ہم بھاگ گئے، شاہد کی لاش بیچ سڑک پڑی رہی۔‘

اندھادھن
 وہ لوگ اندھا دھند لاٹھیا گھماتے تھے، میری کمر پر ایک لاٹھی برسی تو میں غش کھا کر گر پڑی۔
فریدہ، کشمیری شہری

جنوبی ضلع پلوامہ کے راجپورہ چوک میں بھی ایک نوجوان پولیس کے خصوصی دستے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکار کی گولی سے ہلاک ہوگیا۔ واقعہ کے چشم دید گواہ مشتاق احمد نے بتایا کہ ،’ڈی سی صاحب آئے تو ہمیں لگا کہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں آسانی ہوگی، لیکن جب وہ پہنچے تو انہوں چِلا کر کہا کہ، 'ان لوگوں کو سرینگر منتقل کیوں کرنا ہے، انہیں یہیں کسی نرسنگ ہوم میں لے جاؤ، یہ لوگ تو آزادی مانگتے ہیں،۔‘

کرفیو کے دوران چوبیس، پچیس، چھبیس اور ستائیس اگست کو وادی کے تقریباً ہر ضلع میں مظاہرین پر فائرنگ ہوئی، اور شبانہ خانہ تلاشیوں کے دوران مکینوں کی مارپیٹ بھی ہوئی۔

اس دوران اکثر وارداتوں میں کرفیو کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شہر کے صفاکدل علاقے کی معمر خاتون حاجرہ بی بی نے بتایا: ’میں ایک کلو دودھ اور ایک کدو خریدنے کے لئے گھر سے نکلی تو سی آر پی والوں نے روکا۔ میں نے سوچا گلی کوچوں سے ہوکر دوسرے محلے جاؤں گی اور وہاں شائد کچھ ملے، میں چلتی گئی اور راہ بھٹک گئی۔ گھر میں سب پریشان تھے۔ پھر ایک چھوٹے لڑکے نے واپس گھر پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ جموں سے گاڑیاں نہیں آرہی تھیں، اور پھر دوکان بھی بند تھے، یہ فاقہ کشی کا ماحول تھا۔‘

ظلم
 ارے داڑھی والے، ہم تو تہمیں ہی ڈھونڈ رہے تھے، مارو اسکو۔‘ اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں، ہوش آیا تو میرے بازو پر پلاسٹر تھا، ڈاکٹر کہتے ہیں ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
غلام نبی

محمد اسداللہ میر جموں کشمیر پولیس کے کانسٹیبل ہیں۔ ان واقعہ حریت انگیز ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے وردی پہنی ہوئی تھی اور میں ایئرپورٹ روڑ پر واقع ریشم خانہ احاطہ میں ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اچانک سی آر پی ایف اہلکاروں نے مجھے آواز لگائی، میرے ہاتھ میں معمول کے مطابق پولیس کی لاٹھی تھی، میں نے بتایا میں تو پولیس والا ہوں، یہ وردی دیکھیے۔ لیکن انتہائی غصے میں سی آر پی والے آگے آئے اور میرے پاؤں پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔‘

اسداللہ سرینگر کے ایک ہستپال میں زیر علاج ہیں، جہاں ڈاکڑوں کے مطابق ان کا داہنا پاوں کاٹ دیا گیا ہے۔

سرینگر کے ایس پی کالج میں زیرتعلیم ماجد مجاز کا کہنا ہے کہ، ’یہ کرفیو نہیں تھا ، بلکہ ہماری اجتماعی قید تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ہواؤں پر بھی پہرہ تھا۔ اس دوران جو سختیاں ہوئیں اس سے ہمارے ذہنوں پر عجیب سا اثر پڑا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ایک بہت بڑی جیل میں ہیں۔‘

کشمیر سے آزادی؟
کشمیر چھوڑنے کا وقت آگیا: انڈین مبصرین
نوجوان پیش پیش
وادی سے جانے والے نوجوان بھی آگے آگے
کشمیر میں احتجاج، آزادی کے لیے دعاتصاویر میں
کشمیر میں احتجاج، آزادی کے لیے دعا
پولیس اہلکارکشمیر میں کرفیو
وادی میں کشیدہ حالات اور مظاہرے: تصاویر
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد