ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | نوروزہ نظربندی کے بعد پہلی بار نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ جموں معاہدہ کے خلاف سنیچر کو مکمل ہڑتال ہوگی |
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے سرکردہ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے امرناتھ یاترا سے جڑے زمین تنازعہ کو’حل طلب‘ قرار دیتے ہوئے گزشتہ روز جموں میں امرناتھ سنگھرش سمیتی اور حکومت کے درمیان ہوئے ’جموں معاہدہ‘کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی کئی ریاستوں میں سرگرم ماؤ نواز عسکری لیڈروں کی اُس پیشکش کو بھی ’غیر ضروری‘ بتایا جس میں کہا گیا تھا کہ نکسل عسکریت پسند کشمیریوں کے حقوق کے لیے وادی میں کارروائیاں کرینگے۔ کرفیو کے دوران نو روزہ نظربندی کے بعد پہلی بار نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے گیلانی نے رابطہ کمیٹی کے پروگرام کی توثیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جمعہ کے روز صرف مسجدوں کے باہر مظاہرے ہوں گے جبکہ ’جموں معاہدہ‘ کے خلاف سنیچر کو مکمل ہڑتال ہوگی۔ چھہتر سالہ علیل حریت رہنما نے صوبائی حکومت کو تیس دن کی ’مہلت‘ دیتے ہوئے کہا ’ اگر گرفتار کیے گئے حریت رہنماؤں اور عام نوجوانوں کو تیس دن کے اندر اندر رہا نہیں کیا گیا تو ہم ایک اور منظم احتجاجی پروگرام کا اعلان کرینگے، جو مکمل طور پر جمہوری اور پرامن ہوگا۔‘  |  اگر گرفتار کیے گئے حریت رہنماؤں اور عام نوجوانوں کو تیس دن کے اندر اندر رہا نہیں کیا گیا تو ہم ایک اور منظم احتجاجی پروگرام کا اعلان کرینگے، جو مکمل طور پر جمہوری اور پر امن ہوگا  سید علی گیلانی |
انہوں نے کچھ اخبارات میں چھپے بیانات کا حوالہ دے کر کہا کہ وہ نکسل وادی اور ماؤنواز گروپوں کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے کشمیریوں کو مشکل حالت میں پاکر ان کی مدد کرنا چاہی۔’لیکن ہم معذرت کے ساتھ کہیں گے کہ ہمیں اس مدد کی حاجت نہیں ہے۔ ہم تو پرامن جدوجہد کو ہی منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا’ ہماری پرامن جدوجہد کے خلاف ہندوستانی فورسز کی بے تحاشا طاقت سے ہندوستان پوری دنیا میں بے نقاب ہوگیا ہے۔‘ میرواعظ عمر اور سید علی گیلانی موجودہ تحریک کی رابطہ کمیٹی کی مشترکہ سربراہی کر رہے ہیں۔ اس رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز میر واعظ کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کے صدر دفتر پر دونوں کی غیر موجودگی میں ہوا۔ اس اجلاس کے آخر پر یہ فیصلہ ہوا کہ جمعہ کے روز صرف احتجاج ہوگا اور سنیچر کو ہڑتال ہوگی۔ اس کے فوراً بعد رابطہ کمیٹی کے روپوش ترجمان مسرت عالم نے اس اجلاس کے فیصلوں کو مسترد کر دیا تھا۔ اس بیان کے بعد خیال کیا جاتا تھا کہ مسٹر گیلانی کوئی الگ پروگرام دیں گے۔ لیکن انہوں نے میر واعظ گروپ کی پالیسی کی توثیق کر دی اور کہا کہ ’ہمارے جو اپنے معاملے ہیں وہ ہم آپس میں ہی طے کرینگے۔ لیکن قومی پروگرام مشترکہ ہی ہوگا۔‘ |