ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | حالیہ دنوں میں کشمیر کےحریت رہنماؤں کو کئی بار نظر بند کیا گیا ہے |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے صفِ اول کے علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر اور محمد یٰسین ملک کو اپنے اپنے گھروں میں نظر بند کردیا ہے۔ یہ اقدام پچھلے کئی ہفتوں سے سرینگر کی مختلف مساجد میں احتجاجی مظاہروں اور سید علی گیلانی کی طرف سے حضرت بل میں نماز پڑھنے کے اعلان کے پیش نظر اُٹھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ صرف تین روز قبل ان سبھی رہنماؤں کو نوروزہ قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ بعض ’خطرات‘ کے پیش نظر ان میں سے محمد یٰسین ملک اور میرواعظ کو گھروں میں ہی نظربند رکھا گیا۔  |  حکومت ہند نے اب ہمارے مذہبی معاملات میں بھی مداخلت شروع کردی ہے۔ مجھے پچھلے جمعہ کو بھی باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ قائدین آپس میں مل بیٹھ کر بات نہ کرپائیں۔  میر واعظ مولوی عمر فاروق |
سید علی گیلانی کو جمعہ کے روز حضرت بل کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کے لئے صبح سے ہی ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا :’حکومت ہند نے اب ہمارے مذہبی معاملات میں بھی مداخلت شروع کردی ہے۔ مجھے پچھلے جمعہ کو بھی باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ قائدین آپس میں مل بیٹھ کر بات نہ کرپائیں۔‘ میرواعظ نے مزید بتایا کہ وہ مذہبی رسوم کی ادائیگی سے متعلق بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں عالمی رائے عامہ کو متحرک کرینگے۔ قابل ذکر ہے کہ گیارہ اگست کو ’مظفرآباد مارچ‘ کے بعد وادی میں بھاری عوامی ریلیوں کا سلسلہ چل پڑا تھا اور لاکھوں لوگوں نے سڑکوں پر آکر ہندوستان کے خلاف مظاہرے کئے تھے۔ لیکن پچیس اگست کو لال چوک میں طے شدہ ’ آزادی مارچ ‘ کو روکنے کے لئے کرفیو نافذ کردیا گیا جو دو ستمبر تک جاری رہا اور اس دوران مذکورہ رہنماؤں کو قید میں رکھا گیا۔ واضح رہے کہ احتجاجی تحریک کی رابطہ کمیٹی نے سنیچر کو ہڑتال اور باقی ایام کے دوران شام چار بجے کے بعد دوکانیں بند کرنے کی کال دی ہوئی ہے۔ |