BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 September, 2008, 09:09 GMT 14:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا زمین کی تحریک آگے بڑھے گی؟

فائل فوٹو
وادی کشمیر کے ہر کونے پر فوج اور پولیس کا پہرہ ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں’امرناتھ زمین تنازعہ‘ کا تصفیہ ہونے کے دو روز بعد وادی میں عام زندگی بظاہر بحال ہوگئی ہے تاہم علیحدگی پسندوں نے صرف تین روز تک معمول کی سرگرمیوں کی کال دی ہے۔

طویل عرصہ کی خونریزی اور سختیوں کے بعد بازاروں کی اس چہل پہل کو اکثر حلقے عارضی سمجھتے ہیں اور عوام میں موجود ان اندیشوں کی نمایاں طور پر دو وجوہات ہیں۔

ایک تو یہ کہ کشمیر کے جنوبی ہمالیائی سلسلہ میں واقع امرناتھ گپھا کی یاترا کے دوران سہولیات تعمیر کرنے کی خاطر حکومت اور جموں کی سنگھرش سمیتی کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس میں خاصا ابہام ہے۔

دوسرا یہ کہ علیحدگی پسند قوتیں زمین کے تنازعہ سے شروع ہونے والی عوامی تحریک کا دائرہ وسیع کر کے اسے’ تحریک آزادی‘ میں تبدیل کرنے پر آمادہ ہیں اور انہوں نے صرف تین روز تک معمول کی سرگرمیوں کی کال دے دی ہے۔

جموں معاہدہ میں کون جیتا؟

چار صفحات پر مشتل اس معاہدہ کی رو سے قریب سو ایکڑ زمین کا جو ٹکڑا جموں اور کشمیر میں شورش کا سبب بنا، حکومت نے’یاترا مدت کے لیے‘ اس کے Exclusive Rights of Use یعنی استعمال کے خصوصی اختیارات گورنر این این ووہرا کی سربراہی والے امرناتھ شرائن بورڑ کو تفویض کئے ہیں۔ اس کے لیے شرائن بورڈ کو ہی یاترا کے انتظام کا کُلی مختار بنایا گیا ہے۔

میڈیا کا تبصرہ
 گویا اس زمین کی حالت اُس دوشیزہ کی ہوگئی ہے جس کے دو چاہنے والے ہیں۔ ایک کے ساتھ اس کا رشتہ مناکحت ہے اور اس مناسبت سے زیادہ مدت تک اس کا حق دوشیزہ پر بنتا ہے اور دوسرے کو، حقوق ازدواج نہ ہونے کے باوجود، دوشیزہ کو اپنی داشتہ بنانے کا قلیل مدتی اختیار حاصل ہے
اخبار، کشمیر عظمٰی

حکومت نے وادی کے مقامی اخبارات میں ’مذاکرات کی فتح‘ کے عنوان سے اس معاہدہ کے چیدہ چیدہ اقتباسات شائع کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس معاہدہ میں کشمیریوں کے جذبات کا بھی پاس رکھا گیا ہے۔

مقامی روزنامہ کشمیر عظمٰی نے منگل کے روز اپنے اداریے میں اس فارمولے کی دلچسپ تشریح کی ہے: ’گویا اس زمین کی حالت اُس دوشیزہ کی ہوگئی ہے جس کے دو چاہنے والے ہیں۔ ایک کے ساتھ اس کا رشتہ مناکحت ہے اور اس مناسبت سے زیادہ مدت تک اس کا حق دوشیزہ پر بنتا ہے اور دوسرے کو، حقوق ازدواج نہ ہونے کے باوجود، دوشیزہ کو اپنی داشتہ بنانے کا قلیل مدتی اختیار حاصل ہے۔‘

لیکن عوامی حلقوں کی اس تنقید کے برعکس گورنر این این ووہرا کے مُشیر، سُدھیر ایس بلوریا نے، جنہوں نے حکومت کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں، بی بی سی کو بتایا ’ ہم نے زمین کے مالکانہ حقوق حکومت کے محکمہ جنگلات کے پاس ہی رکھے ہیں۔ یاترا مدت کے لیے زمین استعمال ہوگی اور بس۔ ویسے بھی یاتری زمین استعمال ہی تو کرتے تھے۔ اور پھر ہم نے زمین کے استعمال میں یہ شرط لگا دی ہے کہ پائخانہ یا آرام گاہوں کی تعمیر پختہ نہیں بلکہ عارضی ہوگی، جسے یاترا کے اختتام پر ہٹانا ہوگا۔‘

اس سلسلے میں زمین کی منتقلی کے خلاف سرینگر میں تشکیل دی گئی ایکشن کمیٹی کے سربراہ ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم کا سوال ہے: ’اگر زمین کشمیر میں ہے اور کشمیریوں کی ہے، تو اس کا فیصلہ کشمیر سے باہر غیرکشمیری افسروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔‘

اب یہ تنازعہ تحریک آزادی کا ایسا نعرہ بن گیا ہے جوشاید روکے نہ رکے

مسٹر قیوم کہتے ہیں کہ قانونی باریکیوں کو دیکھیں تو زمین کے اس متنازعہ ٹکڑے میں سے محکمہ جنگلات کی ملکیت میں صرف چالیس کنال (پانچ ایکڑ) ہیں، باقی زمین تو مقامی لوگوں کی ہے، جسے اب سنگھرش سمیتی اور امرناتھ بورڑ کے سپرد کیا جارہا ہے۔ معاہدے میں نہ یاترا کی مدّت واضح کی گئی ہے اور نہ ہی ایکسکلیوسِو رائٹس کی تشریح کی گئی ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ جموں معاہدے سے حکومت کے لیے قریب دو ماہ سے جموں میں جاری امن و قانون کے بگاڑ کا مسئلہ حل ہوگیا اور وہاں حالات بحال ہوگئے۔ اسی طرح سنگھرش سمیتی نے بھی ڈھول بجا کر اور مٹھائیاں تقسیم کر کے فتح کا جشن منایا۔ لیکن وادی میں رابطہ کمیٹی نے اس معاہدہ کو یکسر مسترد کیا ہے اور بعض ہندنواز جماعتوں نے بھی اسے’یکطرفہ‘ قرار دے کر اس کی تنقید کی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟
گیارہ اگست سے جموں میں مسلم آبادیوں کے خلاف بلوائیوں کی کاروائیوں اور کشمیر کی سپلائی لائن بند کرنے کے خلاف جو تحریک مقامی تاجروں نے علیحدگی پسندوں کی حمات سے شروع کی تھی، اس کی سربراہی کرنے والی رابطہ کمیٹی نے جموں معاہدہ کو مسترد تو کردیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’ہماری منزل آزادی ہے‘۔

دراصل وادی بھر میں کرفیو میں طویل وقفوں کا سلسلہ اتوار کی صبح سے ہی شروع ہوگیا تھا، لیکن رابطہ کمیٹی نے سوموار کو ہڑتال جبکہ منگل، بدھ اور جمعرات کو شام چار بجے تک معمول کا کاروبار جاری رکھنے کی اپیل کی تھی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ تمام اخبارات کی اشاعت، دفاتر میں ملازمین کی حاضری اور سکولوں میں درس وتدریس کا کام منگل کو بحال ہوگیا۔ رابطہ کمیٹی کے پروگراموں پر لوگوں کا سختی سے عمل کرنا مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا کہ علیحدگی پسند قیادت موجودہ تحریک کو وسیع کرنے پر آمادہ ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ احتجاجی مہم کے دوران نظر بند کیے گئے سرکردہ رہنماؤں میں سے سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کو سوموار کی شام ہی رہا کیا گیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کے مسرت عالم کا کہنا ہے ’ قائدین باہمی مشاورت کے بعد لوگوں کو اگلے پروگرام سے آگاہ کرینگے۔ لیکن یہ طے ہے کہ لال چوک میں آزادی مارچ ضرور ہوگا، جسکی تاریخ کا اعلان عنقریب کیا جائیگا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد