کشمیر میں کرفیو، احتجاج، گرفتاریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی قصبہ ہندوارہ میں ہزاروں لوگوں نے اتوار کی صبح کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی رہائشی عبدالاحد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ مظاہرے اتوار کی صبح ہندوارہ سے تین کلومیٹر دور وڑی پورہ گاؤں میں اُس وقت شروع ہوگئے جب بعض شہریوں نے مسجد سے لوٹنے پر سڑک پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے کچھ ورق توہین آمیز انداز میں سڑک پر بکھرے ہوئے دیکھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’توہینِ قران‘ کے اس واقعہ پر وڑی پورہ کے ساتھ ساتھ پڑوسی گاؤں بٹہ کوٹ کے لوگ بھی کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے فوج کے خلاف مظاہرے کیے۔
ہندوارہ کے رہنے والے غلام نبی کا کہنا ہے کہ ’حکام نے سنیچر کی رات کو ہی قصبہ میں کرفیو نافذ کیا تھا۔ رات کے دوران کون ایسا کرسکتا تھا۔ لوگوں کو یقین ہے کہ فوج نے مسلم آبادی کو مشتعل کرنے کے لئے ایسا کیا ہے۔‘ تاہم ہندوارہ کے ایس ایس پی محمد رفیق وکیل نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے جلوس میں شامل بعض بزرگوں کو سمجھایا کہ یہ ایک سازش ہے لیکن جب نوجوان مشتعل ہوگئے تو ہم نے ٹیئر گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اب حالات قابو میں ہیں لیکن علاقے میں تناؤ کا ماحول ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کرفیو کی خلاف ورزی نہ ہو۔‘ علیحدگی پسند رہنماؤں کی گرفتاریاں سرینگر میں ہمارے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے میڈیا کوریج میں رکاوٹ کے خلاف صحافیوں نے بھی اتوار کو احتجاج کیا ہے۔ سرینگر کی پریس کالونی میں کیمرہ مین اور صحافیوں نے احتجاجی بینر اٹھا رکھے تھے جس پر ایسے نعرے درج تھے کہ ’میڈیا کو پولیس اور سی آر پی ایف سے بچاؤ‘۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار ان کے صحافتی فرائض انجام دینے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ ادھر حکومتی اہلکاروں نے بنایا کہ کچھ عناصر کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات کے مدنظر سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے پڑے ہیں۔ اس دوران سید علی گیلانی کے ترجمان سمیت نچلے درجہ کے کم از کم چار علیحدگی پسند لیڈروں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر لیڈروں کے گھروں پر مسلسل چھاپے ڈالے جارہے ہیں۔ متعدد لیڈر گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئے ہیں تاہم پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔
شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کرنے کےلئے پولیس اور نیم فوجی عملے کی بھاری تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔ شمالی اور جنوبی کشمیر سے اطلاعات ہیں کہ دیہی علاقوں میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس دوران حریت رہنماؤں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے ہی پولیس نے نچلے درجے کے علیحدگی پسند لیڈروں کے گھروں پر چھاپے ڈالے ہیں۔ سید علی گیلانی کے ترجمان ایاز اکبر اور پائین شہر کے رہنے والے مزید تین حریت کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گو پولیس کے سینئر افسر افہاد المجتبیٰ نے اس سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کیا، سینئر حریت رہنما محمد یٰسین ملک نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مسٹر ملک نے بتایا کہ ’ہم نے بائیس اگست کو عیدگاہ میں لاکھوں لوگوں کے سامنے سوموار کو لال چوک میں اجتماع کی کال دی تھی۔ یہ سب کچھ اُسی پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے، لیکن کچھ بھی ہو، ہم یہ پُرامن مظاہرہ ضرور کرینگے۔‘ واضح رہے کہ گیارہ اگست سے وادی میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور نیم فوجی عملے نے صرف پانچ روز تک مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ پندرہ اگست کی شام پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ کمار کُھڈا نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔ اس کے بعد سولہ، اٹھارہ اور بائیس اگست کو سرینگر اور پانپور میں بڑے اجتماعات اور لانگ مارچ ہوئے۔ اس دوران سکیورٹی جائزے کے لئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لوگوں کی طرف سے ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی اور پاکستان کے حق میں برملا مظاہروں کا نوٹس لیا گیا۔ اس دوران حکومت نے احتجاجی تحریک کے دوران ہی نیم فوجی عملے کی مزید اٹھاون کمپنیوں کو سرینگر اور دیگر قصبوں میں تعینات کیا، جبکہ گزشتہ روز ہندوستان کی سرحدی حفاظتی فورس یا بی ایس ایف کے پانچ ہزار اہلکاروں کو ہوائی جہازوں کے ذریعہ سرینگر پہنچایا گیا۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’لوگوں کو کھلے عام ہند مخالف مظاہروں کی ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔ اس طرح تو سماج میں انارکی پھیلے گی۔ کرفیو سے امن و قانون کی صورتحال بحال ہوجائے گی۔‘ پچھلے بارہ روز میں یہ دوسری مرتبہ ہے جب وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بارہ اگست کو بھی حریت رہنما شیخ عزیز کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا جس کے بعد لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عیدگاہ میں شیخ عزیز کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ |
اسی بارے میں کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:مظفرآباد بس بحال 21 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر:آزادی کےلیے لاکھوں کی دعا22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں08 February, 2007 | انڈیا بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں08 February, 2007 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا امرناتھ سمیتی: بات چيت کے لیے تیار20 August, 2008 | انڈیا سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ18 August, 2008 | انڈیا سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ18 August, 2008 | انڈیا کشمیر:’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘18 August, 2008 | انڈیا کشمیر:’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘18 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||