جموں معاہدہ کے بعد وادی میں پھرکرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسند اور بعض ہندنواز رہنماؤں نے امرناتھ سنگھرش سمیتی اور حکومت کے درمیان ہوئے معاہدے کو مسترد کر کے پورے کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔ اس کال کے پیش نظر حکام نے سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں میں دوبارہ کرفیو نافذ کردیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ہمالیائی سلسلہ میں واقع امرناتھ گپھا کی یاترا کے لیے سو ایکڑ سرکاری زمین کے استعمال سے متعلق یہ معاہدہ سمیتی اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے کئی ادوار کے بعد سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب طے پایا تھا۔ کشمیر میں جاری احتجاجی مہم کی سربراہی کرنے والی رابطہ کمیٹی کے ترجمان مسرت عالم نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا’ اس وقت ہمارا ہدف آزادی ہے، اور آٹھ سو کنال زمین کا مسئلہ ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ہم نے پیر، منگل اور بدھ کے روز احتجاج کی کال دی ہے، جبکہ لال چوک چلو کا پروگرام بھی برقرار رہےگا، تاریخ کا اعلان ہم جلد کرینگے۔‘ کشمیر اور لداخ کے ڈویژنل کمیشنر مسعود سامون نے بی بی سی کوبتایا’ وادی کے سبھی اضلاع میں کرفیو ہے۔ حالانکہ ہمارے حساب سے کرفیو نہیں ہونا چاہیئے تھا، کیونکہ اب حالات بہتر ہو ر ہے تھے، لیکن رابطہ کمیٹی کی کال کو دیکھتے ہوئے اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں تشدد نہ ہو، اور ہلاکتیں نہ ہوں۔ لہٰذا ہم نے احتیاط کےطور کرفیو نافذ کردیا۔‘ رابطہ کمیٹی کے ساتھ وابستہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ’ احتجاج کی کال حریت رہنماؤں کی مسلسل گرفتاری کے خلاف دی گئی تھی۔‘ واضح رہے کہ سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، شبیر شاہ اور یٰسین ملک سمیت قریب ایک سو علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے۔ مسٹر گیلانی اور میرواعظ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہیں صحت افزا مقام چشمہ شاہی میں الگ الگ عمارتوں میں نظربند کیا گیا ہے۔ اس دوران آج آٹھویں روز بھی وادی میں معمول کی زندگی مفلوج رہی۔ تعلیمی اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سِول سیکریٹیرئیٹ اور دیگر حکومتی شعبوں میں بھی سرکاری کام کاج معطل رہا۔ مختلف پیشہ وارنہ کورسز کے لئے ہونے والے داخلہ امتحانات پہلے ہی ملتوی کیے جاچکے ہیں اور محکمہ تعلیم فی الوقت سکولز، کالجز اور یونیورسٹی امتحانات میں تاخیر سے متعلق غوروخوض کررہے ہیں۔ جموں سرینگر شاہراہ پر بھی آمدورفت بہت ہی کم ہے اور کبھی کبھار مسافر بسیں اس سڑک پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ صوبائی گورنر این این ووہرا نے اعلان کیا ہے کہ غذائی اجناس سے بھری ٹرکیں ہر روز سرینگر پہنچ رہی ہیں، لیکن بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلّت پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہسپتالوں میں بھی ضروری ادویات اور سازوسامان دستیاب نہیں ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکٹر جاوید نے بتایا’ آجکل زخمیوں کا علاج ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے، لیکن آپریشن کے دوران کافی خون بہہ جاتا ہے، کیونکہ روئی اور گاز ختم ہوگیا ہے۔‘ گورنر کے مشیر ڈاکٹر سُدھیر ایس بلوریہ نے اس سلسلے میں بی بی سی کوبتایا ’سپلائی تو آرہی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بازاروں میں چیزیں نہیں ملتیں۔ لیکن اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ دراصل کرفیو یا ہڑتال کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں سے سامان اُتارانہیں جاسکا ہے۔ ہم اس مسئلہ کا حل بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔‘ | اسی بارے میں کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات01 September, 2008 | انڈیا کریک ڈاؤن، شبیر شاہ بھی گرفتار29 August, 2008 | انڈیا ’ کشمیر پر یو این تشویش بلاجواز‘28 August, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، فائرنگ، ہلاکتیں27 August, 2008 | انڈیا ’تین پاکستانی دارنداز انڈيا میں‘ 26 August, 2008 | انڈیا کشمیر میں کرفیو، احتجاج، گرفتاریں24 August, 2008 | انڈیا کشمیر میں کرفیو، گرفتاریاں24 August, 2008 | انڈیا وادی کشمیر میں مکمل کرفیو24 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||