کشمیر میں کرفیو، گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکام نے تشدد کے امکانات کو رد کرنے کے لئے سرینگر اور تمام اضلاع و بڑے قصبوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔اس دوران سید علی گیلانی کے ترجمان سمیت نچلے درجہ کے کم از کم چار علیحدگی پسند لیڈروں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دیگر لیڈروں کے گھروں پر مسلسل چھاپے ڈالے جا رہے ہیں۔ متعدد لیڈر گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئے ہیں تاہم پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرفیو کا فیصلہ جموں میں بی جے پی کی حمایت یافتہ سنگھرش سمیتی کے ساتھ سنیچر سے جاری بات چیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ سنیچر کے روز اس افواہ پر سرینگر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے کہ سنگھرش سمیتی کے مذاکرات کے دوران کچھ اہم فیصلے ہوگئے ہیں۔ کشمیر کے ایڈیشنل کمِشنر فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا: ’ کشمیر میں چونکہ عوام میں ابھی بھی غصہ موجود ہے، لہٰذا تشدد کے کسی بھی امکان کو روکنے کے لئے کرفیو لگانا پڑا، اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوگا۔ ‘ شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کرنے کےلئے پولیس اور نیم فوجی عملے کی بھاری تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔ شمالی اور جنوبی کشمیر سے اطلاعات ہیں کہ دیہی علاقوں میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس دوران حریت رہنماؤں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے ہی پولیس نے نچلے درجے کے علیحدگی پسند لیڈروں کے گھروں پر چھاپے ڈالے ہیں۔ سید علی گیلانی کے ترجمان ایاز اکبر اور پائین شہر کے رہنے والے مزید تین حریت کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گو پولیس کے سینئر افسر افہاد المجتبیٰ نے اس سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کیا، سینئر حریت رہنما محمد یٰسین ملک نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ گیارہ اگست سے وادی میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور نیم فوجی عملے نے صرف پانچ روز تک مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ پندرہ اگست کی شام پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ کمار کُھڈا نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔ اس کے بعد سولہ، اٹھارہ اور بائیس اگست کو سرینگر اور پانپور میں بڑے اجتماعات اور لانگ مارچ ہوئے۔ اس دوران سکیورٹی جائزے کے لئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لوگوں کی طرف سے ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی اور پاکستان کے حق میں برملا مظاہروں کا نوٹس لیا گیا۔ اس دوران حکومت نے احتجاجی تحریک کے دوران ہی نیم فوجی عملے کی مزید اٹھاون کمپنیوں کو سرینگر اور دیگر قصبوں میں تعینات کیا، جبکہ گزشتہ روز ہندوستان کی سرحدی حفاظتی فورس یا بی ایس ایف کے پانچ ہزار اہلکاروں کو ہوائی جہازوں کے ذریعہ سرینگر پہنچایا گیا۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’لوگوں کو کھلے عام ہند مخالف مظاہروں کی ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔ اس طرح تو سماج میں انارکی پھیلے گی۔ کرفیو سے امن و قانون کی صورتحال بحال ہوجائے گی۔‘ پچھلے بارہ روز میں یہ دوسری مرتبہ ہے جب وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بارہ اگست کو بھی حریت رہنما شیخ عزیز کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا جس کے بعد لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عیدگاہ میں شیخ عزیز کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ |
اسی بارے میں کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں08 February, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||